یہ تمہارے ’’کن فیکو ن ‘‘ ہیں 

sidra sehar imran
سدرہ سحر عمران 
(جب کچھ نہیں تھا تو تم تھے ۔ جب کچھ نہیں ہو گا تو تم ہوگے ۔)
برما میں اسلام جل کر راکھ ہو گیا ۔سرخ آگ جیسے جنونی بدھ بھکشوؤں کا گوتم مر گیا ۔ اسے کوئی پہا ڑ کھا گیا اور اس کے نام پر ڈنڈا اور اسلحہ برداروں نے کمزور ، پیلے اور بھوکے لوگوں پر چڑھائی کر دی۔ یہ کون سا شمشان گھاٹ ہے جو سرد ہونے میں نہیں آ رہا۔یہ کون سے گڑھے ہیں جو بھرنے میں نہیں آ تے ۔سینکڑوں لوگ کھڑے کھڑے قبر بن گئے ۔اس چودہ سو سال پرانی قبیح رسم کو موت کیوں نہیں آتی۔ آگ کا عذاب تو تمہاری کبریائی اور جبر و قہر سے منسوب ہے تو ان کے دل کیوں نہیں پگھلتے ،وہاں کی زمین کیو ں نہیں ہلتی ، برما میں وردی والے پھنکا رتے پھرتے ہیں ۔ انہیں کوئی سو نا می کیو ں نہیں نگلتا ۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ کیسے بستیوں کی بستیاں ملیامیٹ ہو گئیں ۔کیسے وردی والے انہیں شکاری کتوں کی طرح بھبھوڑتے ہیں ۔ ان پر غراتے ہیں ۔ انہیں چیر پھاڑ رہے ہیں ۔ برما کی عورتیں داغدار بلکہ تار تار ہو گئیں ۔یہ اکیسویں صدی ہے ۔بم با رود سے کم پر جنگیں نہیں ہوتیں ۔ تم ان کے تیل سے بھرے ہوئے کنووں کو آ گ کیو ں نہیں لگا دیتے ۔ یہ پچاس سے زائد ملکوں کے کٹھ پتلی سربراہان ، یہود و نصاری کے تلوے چاٹنے والے کیسے پتھر ہوئے پھرتے ہیں ۔ ان کے دل کیو ں رحم سے خالی ہو گئے ۔ انہیں کلمہ گو روہنگیا مسلمانوں پر ذرا برابر ترس نہیں آ تا ۔ یہ تمہارے مسلمان ۔۔۔ یہ تمہارے نام پر کٹ مرنے کے دعوے دار ۔مسجدوں ، بارگاہوں میں عبادت کی گندم پیسنے والے ،سجدے رگڑنے والے ۔زکاتیں، فطرانے، فنڈ اور خیرات اکھٹی کرنے والے تمہارے نام کی مسجدیں ، مدارس بنانے والے غیور وطن ۔ ان کی انسا نیت کو دیمک لگ گئی ہے۔ ان کے دل نہیں کانپتے ، جسم نہیں ٹوٹتے ،ان کے بدن میں سوئی برابر بھی تکلیف نہیں ہوتی۔ یہ بے حسی کی افیون کھاکر سو مر گئے ہیں یہ سارے مسلمان گونگے، بہرے اور اندھے ہو گئے ۔
ان پر غشی کیوں طاری ہے ۔ان پر نیندیں کیو ں اترتی ہیں ۔ ان کے بستر مخملیں ہو گئے دل پتھرا گئے ۔ ان کے مکان پختہ ہو گئے ایمان بھربھری مٹی کی طرح ملبے کاڈھیر بن گیا۔یہ کیمروں میں اللہ اللہ کی صدائیں لگانے والے ۔یہ مزاروں پر جھوم جھوم کر صوفیت دکھانے والے۔یہ جمعراتی قسم کے لوگ ۔ اگر بتیو ں کے دھویں میں مُردوں کا استقبال کرنے والے زندوں سے غافل ۔ ان کی تکلیفوں اور مشکلات سے کنی کترانے والے ۔ان کا اسلام اشتہاری بن گیا ۔ یہ دیواروں پر نعرے کھینچے والے ۔ یہ فداک امی و ابی کا جھنڈا لہرانے والے ۔یہ پمفلٹوں ، جلسوں اور سیمیناروں میں اسلامیات کا رٹا لگانے والے۔ تم ان پر بارش کیوں نہیں برساتے ۔ انہیں ہو ش میں کیوں نہیں لاتے ۔ انہیں جھنجھوڑ تے کیوں نہیں، ان کے گریبان کی رسیا ں ڈھیلی ہو گئی ہیں ۔ انہیں کھینچتے کیو ں نہیں ؟ان کی دوزخ کے خوف اور وحشت سے بھری ہوئی کتا بیں پڑے پڑے گل سڑ گئیں ۔ ان کے قرآن کے غلافوں پر مٹی جم گئی ۔یہ اللھم اجرنی من النار پڑھنے والے آگ کے شراروں سے جھرجھری نہیں کھاتے ۔ یہ بینھم تراحم کی تفسیریں بھول گئے ۔
تمہیں میدان بد ر کی قسم !تمہیں سور ہ انفال کا واسطہ ۔ تمہیں سورہ بقرہ کے جلال کی قسم ! احد پہا ڑکی ہیبت کے واسطے ! ان کے دلو ں کی مٹی نم دار کردو ۔ ان کے آنسوؤں کا نمک حلا ل کردو ۔
Image result for rohingya
دیکھو تمہارے مٹی کے پتلے جہنم سے دہکائی ہو ئی آ گ میں جل کر بھسم ہو رہے ہیں ۔ بتاؤ۔۔کیا یہ تمہارے بندے نہیں؟ کیا یہ فالتو لوگ ہیں ؟ کیا تم نے انہیں زمین کے بجائے گڑھوں میں زندہ دفن ہونے کے لئے پیدا کیا ؟یہ کلمے کی پاداش میں گائے بکریوں کے ریو ڑ بن گئے ۔ ان کے گھر ذبیحہ خانے بن گئے ۔ان کے گلی کوچوں میں لاشیں بھری ہوئی ہیں ۔ یہ غریب ، بدبودار اور بے کار قسم کے اسلام پسندنہ زمین انہیں پناہ دیتی ہے نہ سمندر وں کا پانی انہیں پہچانتا ہے ۔ نہ سرحدیں ان کے لئے راستہ بناتی ہیں نہ دنیا بھر کے مسلمان ان کے لئے دروازے کھولتے ہیں ۔ سب نے فصیلیں بلند کر لیں ۔ نہ مکہ ان کے لئے نہ مدینہ ۔ نہ بغداد ان کے لئے نہ کربلا ۔ نہ اسلام آباد ان کے لئے نہ ڈھاکہ، نہ کابل ان کے لئے نہ تہران ،نہ مالے ان کے لئے نہ کوالمپور،نہ خرطوم ان کے لئے نہ رباط،نہ منانہ ان کے لئے نہ مسقط ،نہ صنعاان کے لئے نہ ابو ظہبی،نہ قیروان ان کے لئے نہ دوحہ،نہ عمان ان کے لئے نہ دمشق،نہ بیروت ان کے لئے نہ طرابلس، نہ الجزائر ان کے لئے نہ نواکشوط۔نہ سات زمینوں میں سے کوئی زمین ان کے لئے ، نہ سات آ سمانوں میں سے کوئی آسمان، بے یا رو مدد گار،انسانوں سے بھرے ہوئے جنگلو ں میں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ یہ تمہا ری طرف دیکھتے ہیں ۔ ان کی آ نکھیں ، ہاتھ پاؤں ، ناک ، کان علیحدہ علیحدہ ہو گئے ۔ انہیں سلامتی دو ۔ ہم تو اپا ہج اور ذہنی معذور ہیں ۔کچھ نہیں کر سکتے ۔ ہمیں بھائی چارے کی احادیث یاد نہیں رہیں ۔ ہمیں رحم کا مفہوم بھول گیا ۔ہم ان کے لئے دعا کی پرچیا ں بنا نے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم تو خونی تصویروں ، کٹی پھٹی لا شوں ، ظلم کی بھٹیوں میں جل کر راکھ ہوتے جسموں کو دیکھ کر ہائے وائے کرتے ہیں ۔ دو چار آنسوؤں کی خیرات ان کے نام کرتے ہیں اور کسی دوسرے کام میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔ پر تم تو ان سے غافل نہیں ہو نا ۔ یہ تمہارے نام لیوا ہیں ۔ ان کا جرم تمہاری کبریائی کے اعتراف کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اپنی وحدانیت اور یکتا ئی کے لئے ان کے لئے دنیا وسیع کر دو ۔ انہیں قدم جمانے کے لئے مٹی دے دو ۔ انہیں سانس لینے کے لئے ہوا دے دو ۔ انہیں مسجدیں ، مصلے ، پانی اور سجدوں کے لئے دو دو گز زمین دے دو ۔ ان کے لئے جہنم سے چرائی ہو ئی آگ ٹھنڈی کردو ۔
تمہیں تمہاری کتاب کی قسم ، تمہیں تمہارے کعبے کی قسم ! تمہیں سورہ بقرہ کی آخری دو آیات کا واسطہ
یہ تم سے کہتے ہیں ان کی برداشت سے زیادہ بوجھ مت ڈالنا ۔یہ تم سے کہتے ہیں ان کا موا خذہ نہ کرنا ۔ انہیں معاف کر دینا ۔اے خدا انہیں معاف کر دینا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *