امان اللہ :محض بھانڈ یا فنکار؟

امجد جاوید
amjad javed
 سٹیج ڈرامہ ، خاص طور پر پنجاب کا سٹیج ڈرامہ کے ذکر کے ساتھ بہت سارے نام ذہن میں اُبھرتے ہیں۔ جیسے کہ ببو برال ، مستانہ ،انور علی  سہیل احمد، اشرف راہی ،شیبا حسن وغیرہ۔اور دوسرے بہت سارے ناموں میں ایک مزید نام ہے ،امان اللہ ۔ جب بھی امان اللہ کا نام میرے سامنے آ تا ہے ،نجانے کیوں میرے لبوں پر مسکراہٹ نہیں آ تی بلکہ میرے اندر اس شخص کے لئے احترام کا جذبہ اُبھرتا ہے ۔بہت عرصہ پہلے جب میں میں لاہور میں رہتا تھا اورسٹیج ڈرامہ دیکھنے کا شوقین تھا۔ اس وقت مجھے جگت بازی ، پھکڑ پن اور گھٹیا ذو معنی گفتگو میں فرق کا بھی اتنا احساس نہیں تھا۔ تب میں امان اللہ کو محض ایک بھانڈ ہی سمجھتا تھا۔وقت کے ساتھ ساتھ کچھ واقعات ایسے سامنے آ ئے ، جن کے باعث میرا امان اللہ کے بارے زاویہ نگاہ بالکل ہی بدل کر رہ گیا۔ میں ان واقعات میں سے صرف تین آ پ کے سامنے رکھتا ہوں۔ واضح رہے میںنے اسے دیکھا ضرور ہے لیکن ملا نہیں ۔
Image result for amanullah khan comedian
 پہلا واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں نیلام گھر ، کا ایک پرانا پروگرام دیکھ رہا تھا۔اتنا پرانا کہ ان دنوں ٹی وی بلیک اینڈ وائیٹ ہوتا تھا۔ محترم طارق عزیزنے اپنے مخصوص انداز میں ایک مزاحیہ فنکار کو سٹیج پر بلایا۔امان اللہ سٹیج پر نمودار ہوئے۔ انہوں نے عوام کی جانب نہیں دیکھا بلکہ وہ سیدھا محترم طارق عزیز کی جانب بڑھے اور طارق عزیز کے پاﺅں چھو لئے ۔ مطلب پاﺅں چھو کر انہوں نے محترم طارق عزیز کی تعظیم کی ۔ میرے لئے یہ واقعہ حیران کن تھا۔
 دوسرا واقعہ یوں ہوا کہ ان دنوں عطا اللہ عیسی خیلوی نے جیل روڈ پر اپنے آ ڈیو سٹوڈیو کا افتتاح کیا تھا۔ بہت سارے فنکار مدعو تھے ۔انہی دنوں میں روزنامہ پاکستان کے زیر اہتمام شائع ہونے والا ہفتہ روزہ اخبار خواتین کا بیورو دیکھتا تھا۔ ہمیں بھی مدعو کیا گیا تھا۔آ ڈیو سٹو ڈیو کے افتتاح کی مہمان خصوصی ملکہ ترنم نور جہاں تھیں۔بہت سارے فنکار ان سے مل رہے تھے ، لیکن جیسے ہی امان اللہ ان کے سامنے آ یا ۔ انہوںنے نور جہاں کے پاﺅں چھو کر انہیں تعظیم دی ۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے ایسی ایک تصویر (غالباً)ادا کار محمد علی کی بھی دیکھی ہے جس میں امان اللہ انہیں پاﺅں چھو کر ہی تعظیم دے رہا ہے ۔
 تیسرا واقعہ یوں ہوا کہ لاہور میں محترمہ پروین عاطف کے گھر ایک نجی محفل تھی ۔ ( ان دنوں وہ ڈرامہ دروازہ کھلا رکھنا بنا رہی تھیں اور اداکارہ زیب چوہدری بھی اس کاسٹ میں تھیں ۔) وہیں شو بز کی دنیا کا ایک بڑا نام بھی موجود تھا۔بات فلموں کے زوال سے سٹیج ڈراموں تک آن پہنچی تھی ۔مختلف سٹیج ڈرامہ کے اداکار زیر گفتگو آ ئے ۔کسی شو بز رپورٹرنے امان اللہ کی تعریف بڑے بھرپور انداز میں کی تھی تو شوبز کی و ہ بڑی شخصیت جیسے پھٹ پڑی ۔ ان کا کہا ایک فقرہ دماغ میں رہ گیا،وہ فقرہ یوں تھا ،” داتا دربار پر نالے (ازار بند) بیچنے والااب ڈن ہل پیتا ہے ، دماغ خراب ہو گیا ہے اس کا بزنس کی باتیں کرتا ہے ۔“ بزنس کرنا، ڈن ہل پینا ، دماغ خراب ہونے سے مجھے کوئی لینا دینا نہیں تھالیکن امان اللہ کا جو خاکہ میرے ذہن میں بنا ہوا تھا، وہ اس فقرے سے ” میچ “ نہیں کر رہا تھا ۔ مجھے تجسس ہوا ، چند سوال داغے ، لیکن سوائے حاسدانہ باتوں کے میرے ہاتھ کچھ نہ لگا۔ جس سے امان اللہ کا قد میرے نزدیک مزید بڑھ گیا۔
Image result for amanullah khan comedian
 ان دنوں میرا ایک اور تجسس بھی تھا۔ میں ٹی وی ڈراموں اور سٹیج ڈراموں کے اسکرپٹ دیکھنا چاہتا تھا ۔ ٹی وی ڈرامہ کا اسکرپٹ اداکارہ قندیل کے پاس دیکھا، وہ ان دنوں کسی ڈرامے میں کام کر رہی تھیں ، اس کا ایک مشہور کردار ماسٹر مجید والا تھا ۔اسٹیج ڈرامہ ایک رائٹر کے پاس دیکھا۔ حیرت ہوئی ، اس میں تھا ۔ ”انٹر ی امان اللہ ۔۔۔ پندرہ منٹ ۔“ مطلب اس کے لئے یا کسی بھی فنکار کے لئے مکالمے نہیں وقت لکھا گیا ہوتاتھا ۔
 خیر ، امان اللہ کے لئے میرے ذہن میں ’بھانڈ ‘ کا لفظ خارج ہو گیا۔اسے دیکھ کر مسکراہٹ ختم ہو گئی ۔کیونکہ امان اللہ کے ایک ہم عصر فنکار نے جو ایک اخبار کے دفتر کے ساتھ رہتے تھے ایک بات کہی تھی کہ ”مزاح وہاں سے شروع ہوتا جہاں سنجیدگی کی انتہاءہوتی ہے ۔“سٹیج ڈراموں پر مزید توجہ دی تو ایک مزید انکشاف ہوا ۔ امان اللہ ایک فنکار ہی نہیں فنکار گر بھی ہے ۔ کیونکہ ہمارے ہاں آرٹ اکیڈمیوں کا تو رواج نہیں ، اگرہوں گی بھی تو وہ کسی ماورائی مخلوق کے لئے مختص ہیں ۔
  امان اللہ ذومعنی گھٹیا جملے نہیں کہتا۔ اس سے بہت کم پھکڑ بازی سننے کو ملی۔اس کے ہاں جگت بازی زیادہ ملتی ہے ۔ یہ پنجاب کا کلچر ہے ۔ امان اللہ نے فنکاروں کی ایک کھیپ تیار کی ہے کیسے اور کس طرح ؟ یہ میرا موضوع نہیں وہ خود فنکاروں کو آ گے بڑھنے کا موقعہ دیتا ہے ۔وہ نئے اور جو نیئر فنکاروں کو اجازت دیتا ہے کہ اسے جگت بازی کا نشانہ بنائیں اور مشہور ہو جائیں ۔
 آخرمیں ، میں اپنی ایک خواہش ک ازکر ضرور کروں گا ۔ امان اللہ سٹیج ڈرامہ کا وہ واحد فنکار ہے جس کے ساتھ طویل گپ شپ لگاکر اُسے کتابی صورت دے دوں ۔ کیونکہ ہمارے ہاں فنکاروں کے اس جہاں سے چلے جانے کے بعد کریڈٹ دیا جاتا ہے ، زندگی میں نہیں۔ میں چاہتا ہوں انہیں زندگی میں خراج تحسین پیش کیا جائے ۔” سیلف میڈ لوگ “ ہمیشہ میرے لئے بطور مثال ہوتے ہیں ، وہ چاہے کسی شعبہ زندگی ہی سے ہوں ۔ان سے حوصلہ ملتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *