پاکستان نے 1 سال میں 2 ارب 10 کروڑ ڈالر کی غذائی اشیا درآمد کیں!

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر مقرر کرنے کی سفارش، ملاوٹ سے پاک اشیا فراہم کرنے، موسمی اثرات سے نمٹنے کیلیے اقدامات کی ہدایت۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد -قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت و ٹیکسٹائل کی ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران 2ارب 10 کروڑ ڈالر کے غذائی اشیا درآمدکی گئیں جس میں سے ایک ارب ڈالر کی دالیں برآمد کی گئی ہیں جولمحہ فکریہ ہے۔ وزرات تجارت کے حکام نے شازیہ مری کی زیرصدارت ذیلی کمیٹی برائے تجارت کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ یورپی یونین کو مجموعی برآمدات کا حصہ 33فیصد ہے مالی سال 2016 -2017 کے دوران یورپی یونین کو 6 ارب 2کروڑ ڈالرکی برآمدات رہیں۔ ملکی درآمدات اور تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے اور برآمدات کم ہورہی ہیں۔

چوہدری اسد الرحمن نے بتایاکہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی اجناس درآمد کر رہاہے،18ویں آئینی ترمیم کے بعد زراعت کا بیڑا غرق ہو گیا۔ سیکریٹری تجارت یونس ڈھاگہ نے کہاکہ ٹیکسٹائل مصنوعات میںکمی کی بڑی وجہ غیر ملکی خریداروں کی پاکستان کے سفر پر پابندیاں ہیں، پاکستان آنے کیلیے غیر ملکی خریداروں پر ان کے ممالک نے سفری پابندی عائدکررکھی ہیں۔

 ن لیگ کے اسد الرحمن نے کہاکہ دعا کریں نیب کیسز کے فیصلے سے پہلے وزیرخزانہ سے جان چھوٹ جائے۔ سینیٹر عثمان سیف اللہ کی سربراہی میںایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے حکومت سے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر مقررکرنے کی سفارش کی ہے اورعوام کوشفاف پینے کا پانی، ملاوٹ سے پاک اشیائے خوردونوش اور ودودھ کی فراہمی کیلیے چاروں چیف سیکریٹریزکوآئندہ اجلاس میں طلب کرلیا اور پی ایس کیو سی اے اور پی سی آرڈبلیو آر کوکارکردگی موثر بنانے کیلیے اقدامات کی ہدایت کی۔

ڈائریکٹرجنرل پاکستان اسٹینڈرڈزاینڈکوالٹی کنٹرول اتھارٹی خالدصدیق نے قائمہ کمیٹی کوبتایا کہ 109 اشیا میں کھانے کے حوالے سے38 اشیا ادارے کی فہرست میں شامل ہیں۔ پاکستان میں25 برانڈز کے دودھ ہیں، ٹی وائٹنر دودھ نہیںہے اور ہر ڈبے پر واضح لکھنے کی ہدایت کی ہے۔ میاں عتیق نے کہا کہ ٹی وائٹنر جانوروں کیلیے بھی مضرصحت ہے جو انسانوں کو پلایا جا رہا ہے۔ عبدالقیوم نے کہا کہ ٹی وائٹنر بین الاقوامی معیارکے مطابق تیار کریں ناقص اشیا کی فراہمی کی وجہ سے جگر، گردے اور معدے کی بیماریوں میں اضافہ ہورہاہے۔

چیئرمین کمیٹی عثمان سیف اللہ خان نے کہاکہ دریائے سندھ کے ساتھ پنجاب اور سندھ کے رہنے والے 5 کروڑ عوام مضر صحت پانی پینے پر مجبور ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیاکہ ملاوٹ کرنے والوں کی سزائوں اور جرمانے میں اضافہ کردیا گیاہے اور اسٹاف کی بھرتی کا عمل بھی جاری ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر سندھ کے مختلف علاقوں کے پانی کے نمونے لیے گئے تو 84 فیصد مضرصحت نکلے۔

چیئرمین پی سی آر ڈبلیو آر نے کہا کہ کوئٹہ میں پانی کی شدید قلت ہونے والی ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے چیئرمین ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہاکہ دنیابھرمیں موسمیاتی تبدیلی سے معشیت پرمنفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ان چیلنجزکامقابلہ کرنے کے لیے موثراقدامات کرنا ہوں گے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *