انٹلیکچوئل کرائسز سے کیسے نمٹا جائے؟

ندیم الحق

Nadeem ul haq

نوید افتخار  ایک نوجوان پاکستانی سکالر ہیں اور ایک مفکر کی حیثیت سے ابھر رہے ہیں، نے ملک میں بڑھتے ہوئے انٹلیکچل کرائسز پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اس ملک میں اہم معاملات پر سنجیدہ اور علمی مباحثے کی گنجائش نہیں ہے۔ ان سے قبل کی نسل کے مفکرین بھی اس تشویش کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ اعجاز حیدر نے ایک ایسے ہی ایک معاملے پر بحث چھیڑی تھی جب وہ ڈیلی ٹائمز کی لیڈر چپ کا حصہ تھے۔ نوید نے اپنے کالم میں میڈیا، حکومت اور سوسائٹی کی نا اہلیت کو سامنے لائے اور ریسرچ اور نئے خیالات کو پروان چڑھانے کا مطالبہ کیا۔ میں چاہتا ہوں کہ اس ملک میں انٹلیکچول گروتھ کے لیے سپیس کی کمی کی اصل وجوہات پر روشنی ڈالوں ۔ میری پچھلی کتاب: Looking Back: How Pakistan became and Asian Tiger in 2050میں میں نے لکھا کہ ایک بحث چھڑتی ہے جس میں بہت سے لیڈرز حصہ لیتے ہیں اور کھل کر اپنی آراء بیان کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی آراء پر اختلاف بھی کرتے ہیں، ان کو اہمیت بھی دیتے ہیں اور اس مقصد کےلیے تازہ ترین دور کی معلومات اور وسیع علم کا سہارا لیتے ہیں۔ ڈیبیٹ میں شامل ہونے والے لوگ پوری طرح سے بحث میں شمولیت اختیار کر لیتے ہیں اور نئے اور تازہ ترین ذرائع سے علم سے مستفید ہوتے ہیں۔ عام طور پر اس طرح کے مباحث یونیورسٹیوں میں منعقد ہوتے ہیں جہاں شہرت رکھنے والے تھنک ٹینک موجود ہوتے ہیں۔ سکالرشپ کی مدد سے اس طرح کے مباحث میں اضافہ ہوتا ہے۔ پبلشنگ، کانفرنسز اور سیمینار کے ذریعے ثبوت، تجزیات، اور خیالات کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ یہاں کی یونیورسٹیاں بیورو کریسی کی کالونی بن چکی ہیں اور بیورو کریٹس ان کے اصول و ضوابط ، فنڈز اور ریکروٹمنٹ کے معاملات پر بھی مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ کئی سال تک ایڈ ایجنسیوں نسے فنڈ، تربیت اور ریسرچ کے حصول کے معاوضہ میں یہ بیوروکریسی کسی طرح کی لوکل فنڈنگ اور ریسرچ کو پنپنے نہیں دیتی۔ اس کی بجائے پالیسی اور ریسرچ کا ذمہ ڈونرز کو دے دیا جاتا ہے۔ اب ہمارے ریسرچرز اور مفکرین کے پاس صرف دو ہی آپشن باقی رہ جاتی ہیں: وہ یا تو ڈونر کنسلٹنٹس کے ساتھ ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر کام کریں یا کسی دوسرے ملک چلے جائیں۔

جو کانفرنسز ڈونر فنڈنگ کے ذریعے منعقد کی جاتی ہیں وہ صرف عام تقریبات ہوتی ہیں جن میں وی آئی پیز کی عزت افزائی کی جاتی ہے۔ ان مواقع پر کسی قسم کی ریسرچ پیش نہیں کی جاتی اور نہ ہی کسی مسئلے پر گفتگو کی جاتی ہے۔ سپیکر حضرات اپنی پسند کی تقریر سناتے ہیں جب کہ ڈونرز ہیڈ کوارٹرز کو خوش کرنے کے لیے اپنے ایجنڈا کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔

ایسا کیوں ہے کہ ایک 21 کروڑ کی آبادی والے ملک میں جس کی آزادی کے وقت سے تھوڑےعرصہ میں یہاں محبوب الحق اور عبد السلام جیسے بڑے نام پیدا ہوئے وہاں اب سوچ اور حوالہ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے اور یہ دونوں چیزیں ناپید ہو چکی ہیں۔ لیکن جب آپ ڈونر رپورٹ پر نظر دوڑاتے ہیں تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ ڈونرز کے مطابق پاکستانی تھنکرز کے خیالات کو اہمیت دینے اور ان کے کام کے حوالے شامل کرنا بلکل بے بنیاد ہے۔ ہر طرح کی سوچ بیرون ملک سے ہی آنی چاہیے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر ریسرچر ڈونر کنٹریکٹس پر اپنی بقاء کا بھروسہ رکھتے ہیں۔ فنڈ کے حصول کے لیے وہ اس بات سے اتفاق کرنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان میں ملک کے اندراصل اور حقیقی سوچ وجود ہی نہیں رکھتی۔ اس کے علاوہ انہیں اپنی مارکیٹ کی حفاظت بھی کرنی ہے ۔ انہیں اس لیے انٹیلکچول لحاظ سے ایک بنجر ملک کو پیش کرنا ہے۔

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ حوالہ کے بغیر علم کسی کام کا نہیں ہوتا۔ دانشمندانہ خیالات انسانیت کے بیچ کی گفتگو کا نام ہے۔ حوالہ جات کے ذریعے ان پیغامات اور جوابات کی رسید فراہم کی جاتی ہے۔ زیادہ حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر زیادہ لوگ اور دانشور مذکورہ نقطہ پر اتفاق کرتے ہیں۔ اس طرح حوالہ جات سے عوام میں آگاہی پھیلتی ہے اور تبدیلی کی نئی راہ نکلتی ہے۔

ڈونرز اکثر پالیسی کی ملکیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ لوکل مفکرین کی پالیسی ڈویلپمنٹ کو نظر انداز کرتے ہیں تو خود ہی اس ملکیت کے انکاری ہو جاتے ہیں۔سائٹیشن کو اہمیت دینے والے معاشروں میں علم کی شاخیں پھیلتی ہیں اور عوام کو بحث و مباحثہ میں حصہ دار بننے کا موقع ملتا ہے۔ قارئین کو متعلقہ موضوع کے بارے میں مزید معلومات ملتی ہیں اور انہیں پتہ چلتا ہے کہ کیسے مختلف مفکرین نے اس حوالے سے اپنی کاوشیں پیش کی ہیں۔ اگر مختلف ذرائع سے التفات نہ کیا جائے تو کیسے یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ ایک ہی انسان نے یہ سب اپنے آپ سے دریافت کر ڈالا۔

ڈونرز اور پالیسی میکرز کی میٹنگ میں یہ بات اکثر سننے کو ملتی ہے کہ ریسرچ کو ترک کیا جائے اور بہترین پریکٹس کو نقل کر لیا جائے۔اپنی کتاب میں میں نے بہت سے اہم مفکرین جن میں ایسٹرلی، فارمر، پیج کے حوالے شامل کر کے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ انسانی نظام اور نیٹ ورک کلچر کے اختیار کیے بغیر کاپی نہیں کیا جا سکتا ۔ اسطرح پالیسی کا مطلب ہو گا: دنیا بھر سے تعلیم حاصل کر کے اس کی نظر میں مقامی مسائل کا حل ڈھونڈنا۔ اس کے لیے لوکل ریسرچ، سوچ کا مطالعہ اور بحث و مباحثہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ صرف کاپی کرنے سے ہمیشہ ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے ڈونر پالیسی نے ہمارے کئی سال ضائع کر دیے ہیں۔

دانشوروں سے نفرت کے اس دور میں بھی محققین ایسے چھوٹے چھوٹے اقدامات کر سکتے ہیں جن کے ذریعے ایک انٹیلکچول ٹراڈیشن کی بنیاد ڈالی جا سکے۔وہ ایک دوسرے کے نظریات کا مطالعہ کر سکتے ہیں، ایک دوسرے کے تحقیقاتی کام کا حوالہ دے سکتے ہیں اور اس پر تنقید کر سکتے ہیں، اور ایسا سسٹم قائم کر سکتے ہٰں جس میں وی آئی پی سیمینار کی ضرورت ہی نہ رہے۔ وہ مفکرین کو پالیسی نظریات، خیالات اور مقالات سے ایسوسی ایٹ کر سکتے ہیں، اور ان پر بحث کر سکتے ہیں بجائے یہ سوچ اپنانے کے کہ یہ خیالات محض چندہ دینے والوں کی طرف سے آ رہے ہیں۔

کیا اس طرح کی بہادری اور کمیونٹی ہمارے دانشوروں میں موجود ہے؟


courtesy:https://tribune.com.pk/story/1500407/dealing-intellectual-crisis/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *