ماسی مقابلہ اور معاشرے کی کمزوریاں

مہوش بدر

mehvish badar

ہمارے گھر میں ایک نوکرانی تھی جسے ہم ماسی کہتے تھے ۔ ہم اس لفظ کو بے حرمتی یا غلط لقب نہیں سمجھتے تھے۔ مجھے یہ تب سمجھ آئی جب کسی نے مجھے ماسی پکارا تو مجھے بہت برا لگا۔ تب میں 14 سال کی تھی ۔ میں بہت آپے سے باہر ہو گئی اور کسی نے وضاحت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ ماسی کا مطلب ہے ماں سی یعنی ماں جیسی۔ اس لیے ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تب میں نے رونا بند کیا اور مثبت طریقے سے سوچنے لگی۔ میڈ، ماسی، کام والی، بھانگن، چوڑی یہ سب کم درجے کی نوکری کرنے والوں کے لیے جاب ٹائٹل نہیں ہیں بلکہ یہ کسی کو کم تر ثابت کرنے کا ایک طریقہ بھی ہے۔

اگر آپ کی دوست زیادہ پر کشش نہ لگ رہی ہو تو آپ اسے کہتے ہیں: تم آج ماسی لگ رہی ہو۔ اپنے لباس کے بارے میں شکایت کرتے ہوئے کوئی خاتون یہ کہہ سکتی ہے کہ اس میں تو میں ایک کام والی لگوں گی۔ یہ ہمارا عام  بول چال کا طریقہ ہے۔ہم نے ان آئیڈیاز کو اپنی زندگی میں تسلیم کر لیا ہے ۔ پاکستانی بیگمات کم عمر کے بچوں اور بے یارو مددگار خواتین کو اپنے گھر بہت کم تنخواہ پر ملازم رکھتی ہیں اور ان کے ساتھ غلاموں جیسا برتاو کرتی ہیں۔ ان ملازمین کو بہت کم پیسے دیے جاتے ہیں اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ آخر یہ لوگ بھی انسان ہیں۔ جو چیز زیادہ افسوسناک ہے وہ یہ ہے کہ کچھ لوگ انہیں خواتین کے القابات کو مذاق کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

اب آپ سوچیں کہ کیسے صبح صبح ایک ٹی وی شو پر ماسی کلچر کو فروغ دیا جا تا ہے۔ اس شو میں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ایک گھر کی نوکرانی صرف مالکن کے حکم بجا لانے کے قابل ہوتی ہے جب کہ مالک اپنے آپ کو خدا کا اوتار سمجھتی ہے۔ صنم جھنگ کے اس پروگرام میں ماسیوں کے بیچ مقابلہ کرایا گیا تا کہ ماسی نمبر 1 کا انتخاب کیا جا سکے۔ اس پروگرام میں آپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے اینکر آپ کے آئی کیو لیول کو گرا کر اسے گٹر میں پھینک دیتی ہے۔ کیا مارننگ شو کرنے والوں کے پاس کو ئی دوسرا موضوع نہیں بچا ؟ یا پھر وہ مہندی، مایوں اور بارات جیسے معاملات سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے؟ کیاانہیں لگتا ہے کہ ان پروگراموں کو صرف وہی لوگ دیکھتے ہیں جنہیں اس طرح کی چیزیں بے حد پسند ہیں؟ کیا ٹیم اور پروڈیوسر یہ نہیں دیکھ پائے کہ انہیں ایک بہتر نظریہ پیش کرنا چاہیے اور کم تنخواہ اور کم عزت پانے والی خواتین کو گھر میں کام پر رکھنے اور ان کی ضروریات پوری نہ کرنے جیسے معاملات کو اجاگر کرنا چاہیے؟

شاید اگر وہ ایسا کرتے تو یہ ظاہر ہوتا کہ کامی والی ماسیاں بھی انسان ہوتی ہیں اور ان سے پیار اور محبت سے پیش آنے کی ضرورت ہے۔لیکن یہ ایک خطرناک طریقہ تھا۔ اگر وہ پیار اور محبت کا پرچار کرنا چاہتے تھے تو وہ ایسا طریقہ اختیار کر سکتے تھے جو یہ ظاہر کرتا کہ کام والی خواتین بھی عزت کی حقدار ہیں۔ یہ تمام خواتین بہت محنت کرتی ہیں کیونکہ انہیں ایک نہیں کئی لوگوں کی روزی کا بندو بست کرنا ہوتا ہے۔

اس سے بہتر یہ ہوتا کہ ان خواتین کو مہمان کے طور پر بلایا جاتا، ان سے بات کی جاتی ان سے ان کی پسند نا پسند پوچھی جاتی، ان سے پوچھا جاتا کہ فارغ وقت میں وہ کیا کرتی ہیں، اورانہیں ایسے ہی عزت دی جاتی جیسے عاطف اسلم اور مہوش حیات جیسے لوگوں کو دی جاتی ہے۔لیکن اس سے یہ ثابت ہو تا کہ یہ کام والی خواتین بھی انسان ہیں ۔

Image result for home maasi

حیرت کی بات ہے کہ اس طرح کے پروگراموں کے لیے پیمرا نے کوئی نوٹس جاری نہیں کیے۔اگر کوئی عورت اپنے جسم کے کسی حصے کو ننگا چھوڑ دے یاڈرامے میں طوائف کا کردار ادا کرے تو ایسے پروگرام کے لیے بہت سے نوٹس جاری ہوتے ہیں، ان پر جملے کسے جاتے ہیں، انہیں واہیات اور بیہودہ شخصیت کا حامل قرار دیا جاتا ہے لیکن مظلوموں کا مذاق اڑانے، نفرت پھیلانے والوں پر کوئی شخص افسردہ نظر نہیں آتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی ناظرین اس طرح کے پروگراموں کی برائی کو دیکھ نہیں پاتے۔

اپنے خوبصورت سجائے ہوئے بیڈ رومز میں بیٹھ کر ہم انہیں ملازمین کو سست اور کام چور قرار دیتے ہیں جنہوں نے یہ کمرہ ہمارے لیے سجایا ہوتا ہے۔اپنے ڈیزائنر آوٹ فٹ اور پرلز میں موجود رہتے ہوئے ہم یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ہمارے ملازم سے کس قدر بد بو آتی ہے جب کہ وہی ملازمین ہمارے گھروں کے تمام کام کرتے ہیں۔ اپنے مہنگے اور شاندار ٹیلی ویژن سیٹ کے سامنے بیٹھ کر ہم کم آمدنی والی خواتین کو انٹر ٹینمنٹ کے نام سے مذاق کا نشانہ بناتے ہیں۔

لیبر فورس کے ایک سروے کے مطابق ملک میں 2014سے 2015 کے بیچ تقریبا ایک لاکھ ایسے فرد تھے جو گھروں میں کام کرتے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ ان پڑھ، غیر تربیت یافتہ اور کم عمر ہیں۔ ان کام کرنے والوں میں سے 27 فیصد خواتین ہٰں اور ان کی ماہانہ تنخواہ 5 سے 10 ہزار سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ایسا کوئی صوبائی یا مرکزی قانون نہیں ہے جو ان ملازمین کو تحفظ فراہم کر سکے ۔

جنوری 2010 سے دسمبر 2014 تک ملک بھر میں 47 ایسے کیسز درج ہوئے جن میں گھروں میں کام کرنے والے بچوں پر تشدد کے واقعات سامنے آئے۔2015 میں ڈومیسٹک ورکرز بل منظور کیا گیا۔ لیکن اس بل کا ان بے چاری ماسیوں کی زندگی پر کوئی اثر نہ پڑا۔ پوش فیملیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بچوں کو کام پر بھرتی کرتے ہیں، ان کے ساتھ غلاموں جیسا رویہ رکھتے ہیں، ان پر ظلم کرتے ہیں، ان کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان کی عزتیں لوٹتے ہیں اور تشدد کر کے انہیں مار ڈالتے ہیں۔ 2016 میں پولیس نے ایک جج کے گھر سے دس سالہ بچے کی تشدد زدہ لاش برآمد کی ۔

ماسی نمبر ون جیسے پروگرام کو ٹی وی پر دکھانے کی اجازت مل جانے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ ہمارے ملک میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ یہ اتنی گہرائی میں جا چکا ہے کہ کہ لوگ اس کی خامیوں کو دیکھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔ ماسی نمبر ون میں اگرچہ کام میں مدد کرنے والی خواتین کو عزت دینے پر ابھارا گیا ہے لیکن اصل میں یہ پروگرام ان خواتین کی بے یار و مددگاری کی حالت پر جشن منانے کا طریقہ نظر آتا ہے جس میں ماسیوں کو ایک ایسی چیز بنا کر پیش کیا گیا ہے جس پر انسان حق جتا سکے۔


courtesy:https://blogs.tribune.com.pk/story/56025/the-maasi-competition-only-celebrated-the-weaknesses-of-our-domestic-help-by-using-them-as-props-to-a-privilege-fest/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *