کیا گھروں میں کام کرنے والیاں ہماری لونڈیاں ہیں؟

فائزہ رشید

faiza rasheed

آپ نے کبھی دیکھا ہے ان جوان لڑکیوں کو جو اپنی ماں کے ساتھ ہمارے گھروں میں کام کرنے آتی ہیں، یہ جوان لڑکیاں مجبور ہوتی ہیں کیونکہ تعلیم کم ہوتی ہے اور گھر کا خرچ نہیں چلتا لہذا مائیں انہیں اپنا ہاتھ بٹانے کے لیے ساتھ لے آتی ہیں-لیکن پھر کیا ہوتا ہے ؟ اکثر گھروں میں یہ لڑکیاں لونڈیاں بن کر رہ جاتی ہیں، یہ گھر والوں کو اچھاکھاتے پیتے دیکھتی ہیں تو ان کے ارمان بھی مچلنے لگتے ہیں- ایسی ہی بے قراری کا فائدہ کوئی مرد اٹھانے کی تاک میں ہوتا ہے اور اسے اس کام میں زیادہ محنت بھی نہیں کرنا پڑتی- میرے گھر کام کرنی والی بتا رہی تھی کہ اس کی ایک دوست ماسی کی بیٹی کو ایک گھر کے 50 سالہ مرد نے محض ڈیڑھ سو روپے کے عوض اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے استعمال کرلیا-

ma

آپ نے اکثر صح کے وقت دفتر جاتے دیکھا ہوگا کہ یہ جوان لڑکیاں مختلف گھروں کی صفائی کر رہی ہوتی ہیں، گیٹ کے باہر کا پورشن دھوتے ہوئے انہیں کچھ احساس نہیں ہوتا کہ ان کی قمیض کدھر جارہی ہے اور کون کس زاویے سے انہیں گھورتا ہوا گذر رہا ہے- یہ دن رات ایسی نظروں کا سامنا کرکرکے عادی ہوچکی ہوتی ہیں- یہ مالکوں کے ہاتھ نہ لگیں تو نوکروں کا لقمہ بن جاتی ہیں- یہ اتنی بھولی ہوتی ہیں کہ اپنے تعلقات کے بارے میں کسی کو نہیں بتاتیں تاکہ ان کا"روزگار" لگا رہے-استحصال پسند مالک ایسی لڑکیوں کو استعمال کرتے ہیں اور اس کے عوض انہیں موبائل کا کارڈ لوڈ کروا دیتے ہیں یا کوئی سستی سی میک اپ کی چیز خرید دیتے ہیں- یہ اسی میں خوش ہوجاتی ہیں -مرد کی ذہنیت کو بدلنا بہت مشکل ہے اور خصوصا" اس وقت جب عورت بھی ایسی ہی کسی "اچھی" آفر کے انتظار میں ہو- یہ کام کرنے والی لڑکیاں ہمارے معاشرے میں لونڈیوں کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں جنہیں گھر کے برتن بھی دھونے پڑتے ہیں اور بسا اوقات مالک کے وہ داغدار کپڑے بھی جو انہی کی وجہ سے داغدار ہوئے ہوتے ہیں- مجبوری سے فائدہ اٹھانے والے ایسے مالک معاشرے میں اکثر ایک عزت دارانہ چہرہ رکھتے ہیں - میں اسی یے کہتی ہوں کہ اگر کسی گھر کے بارے میں حقیقی بات جاننی ہو تو ان کے نوکروں سے پوچھنی چاہیے، نوکروں سے بہتر مالکوں کو کوئی نہیں جانتا- دکھ کی بات یہ ہے کہ ایسی کتنی ہی کام کرنے والیاں کتنے ہی عذابوں سے کیوں نہ گذر جائیں یہ اپنی تکلیف کا اظہار کھل کر نہیں کرتیں-

Image result for home maasi

لڑکیوں کی ماؤں کو اگر پتا بھی چل جائے کہ کسی مالک نے ان کی لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے تو وہ سب سے پہلے اس بات سے خوفزدہ ہوجاتی ہیں کہ کہیں اس کا اظہار کرنے پر انہیں نوکری سے نہ نکال دیا جائے- دوسرا خوف یہ ہوتا ہے کہ اگر گھر میں "اس کے باپ" کو پتا چل گیا تو وہ ہمارا گھر سے نکلنا ہی بند کردے گا۔۔۔۔۔اور تیسرا خوف اس کا ہوتا ہے جس سے سب ڈرتے ہیں، جس کا نام معاشرہ ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *