حبس کا موسم اور گاؤں کی شادی

nasir malik final

حبس کے اس جان لیوا موسم میں جب گاؤں سے ایک عزیز از جان دوست کا شادی کارڈ آیا تو یقین جانئے ایک دفعہ تو جان ہی نکل گئی۔آجکل حبس کی ’ بربریت ‘ کا یہ عالم ہے کہ بقول جوش ؔ ملیح آبادی لوگ لُو کی دُعا مانگ رہے ہیں۔چنانچہ کارڈ ملتے ہی اس موسم میں اٹینڈ کی گئی کئی شادیوں کے ’’ خوفناک ‘‘ مناظر سامنے آگئے۔ ہمارے گاؤں میں شادیاں عموماً موسم گرما میں ہوتی ہیں۔ دونوں بڑی فصلوں گندم اور دھان کی کٹائی اسی موسم میں ہوتی ہے۔پیسے ہاتھ آتے ہی شادیوں کی تاریخیں رکھی جاتی ہیں اور موسم کی شدت کو درخوراعتناء نہیں سمجھا جاتا۔گاؤں ہماری پہلی محبت ہے۔بچپن ، لڑکپن اس کی گلیوں میں گزرا بعد ازاں اگرچہ ’ ستم ہائے روزگار ‘ ہمیں شہر کھینچ لائے لیکن ہمارا دل وہیں کہیں گاؤں کی گلیوں اور کھیتوں کھلیانوں میں ہی گُم ہو گیا ۔چنانچہ اب بھی جب کبھی کشاکشِ غمِ روزگار سے ذرا بھر فرصت میسّر آئے تو ہم گاؤں بھاگ لیتے ہیں اور وہاں پہنچ کر ہماری کیفیت معروف انگریزی شاعر ورڈز ورتھ کی سی ہوتی ہے جو اس نے "The Prelude " میں بیان کی ہے۔ایسے میں گرمی شرمی بھی ہمیں کچھ نہیں کہتی بلکہ خشک گرمی تو ہمیں کسی قدر پسند بھی ہے ۔ اس ضمن میں ہم اپنا شمار ہمیشہ ’’ غالب ؔ کے طرف داروں ‘‘ میں کرتے آئے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ’’ اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے‘‘ لیکن یہ نامراد حبس زدہ گرمی اک دوسری چیز ہے ! اس سے ہماری کبھی بھی نہیں بنی ۔
شادی یقیناً ایک خوشی کا موقع ہے خاص طور پہ جب تک ہو نہ جائے ۔ اس شادی میں شرکت کے لیے ہم گاؤں پہنچے تو دوپہر کا عمل ہوگا۔یہ ایک بے پناہ گرم دن تھا۔ سورج اگرچہ سوا نیزے پے تو نہیں تھا لیکن کوئی زیادہ دور بھی نہیں لگ رہا تھا۔چبھتی ہوئی گرمی بے حال کئے دے رہی تھی۔ہم نے دیکھا کہ پروگرام اور انتظامات کے حوالے سے اگر ترجیحات کی کوئی لسٹ تیار کی گئی تھی تو اس میں شادی پر آنے والے مہمانوں کا نمبر بالکل آخر پہ کہیں تھا ۔ میزبانوں کے لیے اپنے ریت رواج اور رسومات زیادہ مقدم تھے۔ حتٰی کہ سپیکر والے کی اہمیت بھی زیادہ لگ رہی تھی۔بہرحال ذاتی حوالے سے کوئی چیز بھی ہمارے حق میں نہیں تھی !! گرم ترین موسم اور پھر دوپہر کی شادی کیونکہ ابھی گاؤں میں رات کی شادی کا رواج ہے اور نہ امکان ۔اور پھر ایک اور ظلم یہ تھا کہ شادی چھٹی والے دن کی بجائے ورکنگ ڈے میں رکھی گئی تھی۔یعنی باقاعدہ چھٹی لے کے جانا تھا۔

ہم شادی والے گھر میں داخل ہوئے تو پریشان ہو گئے ۔ہمیں لگا جیسے ہم کسی غلط گھر میں آگئے ہیں ۔یہ ایک سات آٹھ مرلے کا دیہاتی طرز کا مکان تھا دو تین کمرے اور چار پانچ مرلے کا صحن !! گھر ہجوم سے اٹا پڑا تھا ۔۔ اک بے ہنگم شور ۔

Image result for marriage of pakistan village

۔اک طوفانِ بد تمیزی صحن کے ایک کونے میں ایک بانس پر بڑا سا سپیکر لٹکا ہوا تھا جس کا منہ گھر کی طرف تھا اور فُل والیم پر عنائت حسین بھٹی کا گانا چل رہا تھا : ’’ چن میرے مکھنا کہ ہس کے اک پل ایدھر تکنا۔۔۔‘‘ ہمیں یہاں کوئی ’ چن ‘ والی کیفیت نظر آئی اور نہ مکھن والی ۔ ہمارا خیال تھا کہ اس وقت اگر سورج کے متعلق کوئی گانا بجایا جاتا تو زیادہ بر محل ہوتا۔بہر کیف ! عجیب نفسا نفسی کا عالم تھا ۔ صحن میں ایک بڑے درخت کے نیچے گول دائرے میں ایک مجمع کھڑا تھا۔ لائیٹ حسبِ معمول و توقع نہیں آ رہی تھی ۔ گاؤں میں ویسے بھی لائیٹ کی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ’’ ہر چند کہیں کہ ہے ، نہیں ہے ۔‘‘ ہم نے تین چار خواتین و حضرات سے دلہے کا پتا پوچھنے کی کوشش کی لیکن سپیکر کی کان پھاڑنے والی آواز میں اپنا مدعا سمجھا نہ سکے ۔۔ پھر ہم نے اشارے سے سپیکر والے کو تھوڑا سا والیم کم کرنے کا کہا ۔ وہ بھاگ کر ہمارے پاس آیا اور کان میں چیختے ہوئے بولا ، ’’ بھائی صاحب ! آواز اور اونچی نہیں ہو سکتی پہلے ہی فُل ہے ‘‘۔ ہم نے سر کے اشارے سے اس کا شکریہ ادا کیا۔اتنے میں ہمیں ایک جاننے والے نے بڑی کوشش کے بعد بتایا کہ دلہا صحن مین لگے مجمعے کے اندر موجود ہے۔اب اس گول دائرے کی شکل میں موجود ’’ دیوارِ چین ‘‘ کو کراس کرنے کا کٹھن مرحلہ درپیش تھا۔ہم دائرے کی طرف بڑھے۔ پتا چلا کہ اندر سہرا بندی اور سلامی کی رسم ہو رہی تھی۔اک ’’ زمانے ‘‘ کو کراس کر کے جب ہم اپنے دوست تک پہنچے تونڈھال ہو چکے تھے۔ لیکن ہم نے جب اپنے دوست کو دیکھا تو ہماری سٹّی گم ہو گئی۔موٹے سے سلکی سوٹ میں ملبوس اور بھاری بھرکم ہاروں اور سہروں کے پیچھے چھپا وہ نیم مردہ سا کرسی پر گرا پڑا تھا۔آپ اندازہ کیجئے ! کہ اس اذیّت ناک حبس میں جبکہ ہوا بالکل بند ہو اور بتّی بھی بند ہو تو ایک چھوٹے سے گھر کے صحن میں چھوٹے بڑے کو ئی دو اڈھائی سو افرد میں کئی گھنٹوں سے گھرے ایک دلہے کی کیا کیفیت ہو گی اور پھر خاص طور پہ، جبکہ اس نے سلکی کڑاہی دار کپڑے اور بے شمار وزنی ہار پہن رکھے ہوں۔ مجھے لگا جیسے آنے والے نامساعد حالات پر مبنی کسی فلم کا ٹریلر چل رہا ہے۔مجھے دیکھ کر میرے دوست یعنی دلہے کے چہرے پر ’ مونا لیزی ‘ مسکراہٹ آئی اور وہ بڑی مشکل سے اُٹھا اور بڑے تپاک سے میرے گلے لگا۔میں نے دیکھا وہ سخت ڈی ہائیڈریشن کا شکار تھا۔ میں نے پاس کھڑے ایک لڑکے سے کہا کہ وہ دلہے کے لیے ٹھنڈا پانی لے کر آئے۔میرے ساتھ ایک بابا جی کھڑے تھے جو اپنی عمر کے حساب سے غالباً آخری شادی اٹینڈ کر رہے تھے۔انہوں نے لڑکے کو پانی لانے سے منع کر دیا اور کہنے لگے رسم کے مطابق آج دُلہے کو وقفے وقفے سے صرف نیم گرم دودھ پلایا جائے گا۔میں نے عرض کیا ، ’’ حضور ! وہ تو ٹھیک ہے ! یہ فرمائیے کسی رسم کے مطابق دُلہے کا زندہ رہنا بھی ضروری ہے یا نہیں ‘‘۔ یہ سُن کر بابا جی نے دلہے کے ساتھ پڑی نئی نویلی چمکدار کلہاڑی کی طرف دیکھ کر میری طرف دیکھا تو میں نے فوراً اُن کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے لڑکے کو دودھ لانے کا کہا۔رشید خان یعنی دلہا ہمار ا لنگوٹیا یار ہے اُس کے ساتھ تھوڑی گپ شپ ہوئی تو وہ کافی ریلیکس ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں میری تکان بھی اترچکی تھی۔

 

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *