ہجرت

(نظم)

Related image

کتنے خوش اور خوشحال تھے
ہم وطن دار تھے
ہم زمیں دار تھے
ہم زمانوں کو اپنوں پہ وارے چلے جا رہے تھے
اپنی مٹی کی خوشبو میں سانسیں لیے جا رہے تھے
ہم محبت کا پیغام تھے
عشق کا نام تھے
پھر خدا جانے کیسی ہوائیں چلیں
ہم پہ طوفاں گرے
ہم کو اپنے وطن سے الگ کر کے اپنی ہی مٹی کی خوشبو سے باہر کیا جا رہا تھا
ہم کو تاریخ کی صف میں روندا گیا ،
اپنے گھر سے نکالا گیا ،
ہم کسے یہ بتاتے کہ ہم بھی وطن دار تھے
ہم وطن سے نکل کر بدیسی ہواؤں میں زندہ کوئی چلتی پھرتی ہوئی لاش بن کر جیے جا رہے ہیں
ہمیں علم ہے کہ وطن کی وہ سوندھی سی مٹی ہماری کشش میں کئی سالوں سے کتنی بے چین ہے
ہم ادھر اپنے ہونے کا نقصان بھگتا رہے ہیں
ہمیں اپنے دل میں بسائی ہوئی گاؤں کی زندگی جینے کا حق نہیں مل رہا
ہم یہاں شور کی زندگی میں بھی رہتے ہوئے سانس اب تک اسی گوٹھ کے کچے کھالوں پہ بیٹھے ہوئے بہتے پانی میں پاؤں ڈبو کر کسی یاد میں امن کا گیت گاتے رہیں گے
ہم کو ہجرت میں یہ بھی نہیں علم کہ ہم نے کیا کھو دیا اور کیا پا لیا
ہم وطن دار تھے

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *