مستنصر حسین تارڑ سے ایک خوشگوارملاقات

fouzia qureshi

یوں تو زندگی میں بہت سے ایسے مواقع آئے جب مجھے اپنے خوش بخت ہونے کا خیال آیا لیکن گیارہ اگست 2017 کی ایک خوشگوار صبح مجھے پاکستان اور اردو ادب کے ایک جگمگاتے ستارے جناب مستنصر حسین تارڑ صاحب کے ساتھ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔۔۔یہ یادگار صبح مجھے ہمیشہ یاد رہے گی جب میں اپنے چھوٹے بھائی عمر کے ساتھ پارک میں پہنچی تو میں نے طارق عزیز صاحب سے فون پر رابطہ کیا کیونکہ اس ملاقات کا سہرا طارق عزیز صاحب کے سر جاتا ہے اور بزم یاران اردو ادب کے ایڈمن ہونے کے ناطے فوٹو گرافی کا بیڑہ بھی انہوں نے ہی اٹھایا۔سلام دعا اور حال احوال جاننے کے بعد میرا خیال تھا طارق عزیز صاحب میرا ان سے تعارف کروائیں گے اور اس طرح باتوں کا سلسلہ شروع ہوگا لیکن اس کے برعکس ہوا کچھ یوں کہ سلام کے بعد انہوں نے ہمیں بیٹھنے کو کہا اور یہ کہہ کر بات کا آغاز کیا کہ میں کچھ نہیں بولوں گا۔ باتیں آپ کو ہی کرنی ہوں گی لیکن چند باتوں کا خیال رکھئے گا کہ انٹرویو مت لیجئے گا اور نہ ہی میں دوں گا۔ میرے اندر کہیں اٹکی سانسیں بحال ہوئیں تارڑ صاحب جیسی ایک ادبی ہستی کے سامنے باتوں کی بنت کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ ان کے انداز جداگانہ نے تکلفات کی دیوار گرا دی میں نے عرض کیا کہ آپ کو چاچا جی تو ہرگز نہیں کہہ سکتی سنا ہے آپ کو اچھا نہیں لگتا جبکہ میرا چاچا جی کہنے کا پورا پروگرام تھا۔ ان کا کچھ یوں جواب تھا کہ مجھے اس لفظ سے کوئی چڑ نہیں ہے لیکن اس حوالے سے جب مجھے پکارا جاتا ہے تو مجھے لگتا ہے اس مارننگ پروگرام کے علاوہ اب تک جو جھک میں نے ماری ہے وہ رائگاں گئی۔۔

Image may contain: 2 people, people sitting, grass, child, tree, outdoor and nature

اس جواب کے بعد چاچا جی کہنے کی میری حسرت کہیں پیچھے رہ گئی۔ جب کوئی کسی کے فن کی وجہ سے گرویدہ ہوتا ہے تو اس کے لفظوں پہ من وعن ایمان لانے کو بھی جی کرتا ہے اسی لیے تارڑ صاحب کی خواہش سر آنکھوں پہ اور میں نے انہیں سر کہہ کر مخاطب کیا پھرکیا تھا باتوں کا ایک خوبصورت سلسلہ شروع ہوگیا۔ "بزم یارانِ اردو ادب "کی ایڈمن اور فورم کی نمائندہ ہونے کی حثیت سے کتاب " نقش پاء یوسفی" پر سرتارڑ سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔۔ مجھے فخر ہے کہ میں اس گروپ کا حصہ ہوں جو اردو ادب سے محبت رکھتے ہیں اور اس کی ترویج کے لئے نت نئے ایونٹ فیس بک فورم پرارینج کرتے ہیں تاکہ نئے لکھنے والے سیکھ سکیں۔ میری پیاری ٹیم جن میں امجد علی شاہ، فرحین جمال ، ہمافلک ،فاطمہ عمران، معافیہ شیخ ، خرم بقا اورطارق عزیز جیسے ادب محبت رکھنے والے دوست شامل ہیں۔ سر سے بات چیت کا آغازایک خوشگوار ماحول میں ہوا۔ میں نے اپنے فورم اور اپنے ایڈمنز دوستوں کا تعارف اور اس میں ہونے والے ایونٹ کے حوالے سے بھی بات کی۔ میرے تعارف کے بعد انہوں نے کتاب کے حوالے سے کہا_
"میں نے یہ کتاب طارق عزیز کی گزارش پر پڑھی تھی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اتنا بڑا کام ایک فیس بک فورم نے انجام دیا ہے۔"
اپنی محنت ، کتاب اور فورم کے حوالے سے ان کے تعریفی کلمات سن کر مجھے لگا کہ بس آج محنت وصول ہو ئی۔
سر تارڑ نے جہاں کتاب کے معیار کی تعریف کی وہیں دل کھول کر اس طرز کی کاوش کو بھی سراہا۔ باتوں کے دوران مجھے ایک لمحے کے لیے بھی محسوس نہ ہوا کہ میں سر سے پہلی بار مل رہی ہوں ، دیکھنے میں آتا ہے کہ جب بھی کسی سلیبرٹی سے ملنا ہو تو ملاقات کے وقت سے لے کر ہر ایک منٹ کی تفصیل ڈسکس کی جاتی ہے اور ایک روبوٹ کی مانند ملا جاتا ہے اور اس سے بر عکس تارڑ صاحب کی شخصیت میں جہاں ان کے چہرے پہ ایک زمانے کی روئیداد نقش تھی وہیں ان کی سادہ طبیعت انہیں سب کو اپنا بنانے پہ مجبور کر دیتی ہے ان کے سامنے بیٹھنے والے کواجنبیت کبھی محسوس نہیں ہوتی ۔ یوں تومیری ان سے جان پہچان بہت پرانی ہے۔ ان کے سفر ناموں اور ڈراموں کے حوالے سے اکثر ان سے ملاقات ہوچکی ہے۔ میرے ذہن میں جو ان کا ایک خاکہ تھا وہ اس پر پورے اترے جس کا اظہار میں نے ان سے یہ کہہ کر کیا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ میں اسی بندہ عاجز سے مل رہی ہوں جسے میں ملنا چاہتی تھی۔ کبھی وہ بات کرتے تو میں جواب دیتی اور کبھی میں کوئی بات کرتی تو وہ جواب دیتے۔ فرق صرف یہ تھا کہ ان کی باتوں میں جہان بستا ہے۔
تارڑ صاحب کی شخصیت بہت پر اثر ہے ۔۔

Image may contain: 3 people, people smiling, people sitting, grass, outdoor and natureجہاں ہنسی مذاق ہوا وہیں ان کی باتوں سے بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔ چند باتیں شئر کرنا چاہوں گی۔ لکھنے لکھانے کے حوالے سے انہوں نے بہت خوبصورت بات بھی کی۔۔ان کا کہنا ہے کہ" اگر لکھنا چاہتے ہیں تو صرف شوق سے کام نہیں بنتا اس کے لئے عملی قدم بھی اٹھانا پڑتا ہے ورنہ شوق کی خاطر لکھنا ہےتو میرا مشورہ ہے مت لکھئے ۔"
اسی طرح جب نقش پائے یوسفی کے حوالے سے بات ہوئی تو میں نے کہا کہ اکثر شعراء اور ادیبوں کو وہ مقام ان کی زندگی میں حاصل نہیں ہوتا جن کے وہ حقدار ہوتے ہیں ۔ میری اس بات پر بھی سر کا کہنا تھا کہ
" میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ میری نظر میں اپنا مقام خود بنانا پڑتا ہے اگر آپ کی تحاریر میں دم ہے تو وہ معاشرے میں اپنی جگہ خود بنالیتی ہیں اور مقام بھی۔"
کتاب کے حوالے سے فرمانے لگے" آپ سب نے وہ کام کیا ہے جو یونیورسٹی لیول پر ہو رہا ہے۔ آپ سب کی محنت اور لگن نے متاثر کیا۔ "
"بہ قول ان کے روز بہت سی کتابیں تحفے میں ملتی ہیں لیکن میں ان پر ایک سرسری نظر ہی ڈالتا ہوں ہاں بہت کم کوئی کتاب متاثر کرتی ہے۔" اگر پڑھتے ہوئے اگر کوئی کتاب اپنے سحر میں مبتلا کردے تو اسے مکمل کرتا ہوں کیونکہ میرے پاس وقت کم ہے اور جب تک زندگی ہے اپنا وقت ان کتابوں کو دینا چاہتا ہوں جس سے پڑھ کر لگے میرا وقت ضائع نہیں ہوا۔ اللہ انہیں سلامت رکھے آمین ۔
نقش پا یوسفی کے حوالے سے فرماتے ہیں "ایک خاتون کی لکھی تحریر نے سب سے زیادہ متاثر کیا لیکن نام نہیں بتاؤں گا کیونکہ پھر باقی محنت کرنے والے احباب کی حق تلفی ہوگی کیونکہ سبھی تحاریر اپنا ایک مقام رکھتی ہیں۔"
سر نے اپنے بھائی مبشر صاحب اور ساتھ بیٹھے دوستوں کو بھی اس کتاب کو پڑھنے کا مشورہ اپنے مخصوص انداز میں کچھ یوں دیا ۔
"یار تسی سارے وی ضرور پڑھو"۔
ان کے دوستوں کو بھی بزم یاران ادب اردو کی جانب سے کتابیں پیش کی گئیں۔ پھر میں نے کہا کتاب کے حوالے سے اگر ہو سکے تو اپنے تاثرات ہمارے فورم کے لئے لکھ کر دیجئے ۔ جس پر انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ جلد تفصیلی تاثرات قلم بند کریں گے۔ ملاقات کے اختتام پر واپس چلتے ہوئے ہم بھی ان کے ہم رکاب ہولیے۔ ان کی بیگم جو ان سے کچھ فاصلے پر اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھی انہیں کی راہ دیکھ رہی تھیں، سر کو آتے دیکھ کر وہ بھی اُٹھ کر چل پڑیں، سر نے پیچھے سے انہیں آواز دے کر کہا بیگم، ان سے ملو یہ ہماری فین ملنے آئی ہیں یوکے سے، پھر انہوں نے مجھے اپنی بیگم سے تعارف کچھ یوں کہہ کر کروایا۔ یہ فی الحال ہماری اکلوتی بیگم ہیں جن پر ہم گزارہ کر رہے ہیں۔
بہ ظاہر تو یہ ملاقات کا اختتام تھا مگر میرے لیے ایک نئی راہ کی ابتدا تھی ۔ ادب کی دنیا میں تارڑ صاحب ایک مقام رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے ملنے والوں کے لیے ہمہ وقت مسکراہٹ لبوں پہ رکھتے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *