اسامہ بن لادن نے 11 ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے جہاز نہ ٹکرانے والے پائلٹ سے کیا کہا؟

wtc

نیویارک : نائن الیون کا واقعہ جس میں 3ہزار لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے، اپنی نوعیت کا دہشت گردی کا منفرد واقعہ تھا۔ بہت سوں کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ اسامہ بن لادن کوورلڈ ٹریڈ سنٹرسے جہاز ٹکرانے کا خیال کیسے آیا؟ شدت پسند کالعدم تنظیم القاعدہ کے جریدے ”المصراح“ نے اس سوال کا جواب دے دیا ہے۔شدت پسند تنظیم کے جریدے کے ایک آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ ”اسامہ بن لادن نے ایک مصری پائلٹ کی کارروائی سے متاثر ہو کر یہ منصوبہ بنایا۔ مصر ایئر کے59سالہ پائلٹ جمیل البطوطی کا اپنی ایئرلائنز انتظامیہ کے ساتھ جھگڑا چل رہا تھا۔

shiddat

وہ 31اکتوبر 1999ءکو لاس اینجلس سے ایک پرواز لے کر قاہرہ جا رہا تھا کہ اس نے انتظامیہ سے بدلہ لینے کے لیے جہاز کو دانستہ طورپر بحراوقیانوس میں گرا دیا، جس سے جہاز میں سوار تمام 217مسافر جاں بحق ہو گئے، جن میں 100امریکی شہری شامل تھے۔“ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے جریدے کے آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ ”جب اسامہ بن لادن نے جمیل البطوطی کی اس حرکت کے متعلق سنا تو اس نے کہا کہ پائلٹ نے جہاز سمندر میں گرانے کی بجائے کسی عمارت میں کیوں نہ ٹکرایا۔“اس کے بعد اسامہ بن لادن نے نائن الیون کے ماسٹرمائنڈ خالد شیخ کے ساتھ مل کر امریکہ کی عمارتوں میں جہاز ٹکرانے کا منصوبہ بنایا۔ منصوبے کے مطابق دہشت گردوں نے چار جہاز ہائی جیک کیے، جن میں سے 2کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے جبکہ ایک کو پینٹاگون کی عمارت سے ٹکرایا گیا۔ چوتھا طیارہ کھیتوں میں گر کر تباہ ہو گیا کیونکہ اس میں موجود مسافروں نے دہشت گردوں کو قابو کر لیا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ”قواعدوضوابط کی خلاف ورزی پر ایئرلائنز انتظامیہ جمیل البطوطی پر بین الاقوامی پروازوں کے لیے پابندی عائد کرنے جا رہی تھی اور ممکنہ طور پر یہ اس کی آخری بین الاقوامی پرواز ہوتی، لیکن اس نے انتظامیہ سے بدلہ لینے کے لیے اس پرواز کا رخ نیچے سمندر کی طرف موڑ دیا اور جہاز کو بحراوقیانوس میں غرق کر دیا۔سمندربرد ہونے والے جہاز کے بلیک باکس سے ملنے والے شواہد سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ پائلٹ نے جان بوجھ کر طیارے کا رخ سیدھا نیچے کی طرف کر دیا جس سے جہاز سیدھا ناک کے بل سمندر کی تہہ میں اتر گیا۔ بلیک باکس کے ریکارڈ کے مطابق پائلٹ آخری وقت میں کچھ مذہبی کلمات بھی ادا کر رہا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *