نیب نے بڑی ترمیم کا مطالبہ کردیا!

ٹرانزیکشن کا ریکارڈ حاصل کرنے کے قابل بنانے کے علاوہ مانیٹرنگ کی بھی سفارش۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد -قومی احتساب بیوروکی خصوصی کمیٹی برائے انسداد ٹیکس چوری نے انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم کے ذریعے ٹیکس اتھارٹیز کو دیے جانے والے صوابدیدی اختیارات ختم کرنے کی تجویز دیدی ہے۔

دستیاب دستاویز کے مطابق قومی احتساب بیورو کی خصوصی کمیٹی برائے انسداد ٹیکس چوری نے اپنی تحریری سفارشات میں کہا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کو اپنی اصل حالت میں بحال کیا جائے اور مختلف اوقات میں اس آرڈیننس میں کی جانے والی ترامیم کے تحت ٹیکس اتھارٹیز کو دیے جانے والے بے پناہ و صوابدیدی اختیارات ختم کیے جائیں تاکہ ان اختیارات کے غلط استعمال کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کے گرنے کے خوف سے بالاتر ہوکر اسٹاک ایکسچینج میں ہونے والی ہر قسم کی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ حاصل کیا جائے۔

دستاویزکے مطابق اسٹاک ایکسچینجز میں ہونے والی ٹرانزیکشن سے متعلق سرمایہ کاری کے ذرائع کا بھی پتہ چلایا جائے اور اس بات کا خوف خاطر میں نہ لایا جائے کہ اس اقدام سے اسٹاک مارکیٹ گر جائے گی۔

اس کے علاوہ یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کا ماتحت ادارہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کی صلاحیتوں کو بھی بڑھانے کی ضرورت ہے اور پرال کے آئی ٹی سسٹم کو اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ خود کار آئی ٹی سسٹم کے ذریعے ٹیکس دہندگان کی جانب سے کی جانے والی ہرقسم کی خریداریوں اور ٹرانزیکشن کا ریکارڈ حاصل کرسکے اور اس ریکارڈ کو محتاط انداز میں ایمانداری کے ساتھ مانیٹر کرنا ہوگا اور ان کا جائزہ و موازنہ کرنا ہوگا۔

اس موازنے میں جو بھی ٹرانزیکشن و خریداری بغیر ٹیکس کے سامنے آئے تو اس پر کارروائی کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے پرال کے موجودہ سسٹم کو بھی اپ گریڈ کیا جاسکتا ہے اور اگر کوئی نیا آئی ٹی سسٹم درکار ہوتو اس پر بھی کام کیا جائے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکیں۔ دستاویز کے مطابق قومی احتساب بیوروکی خصوصی کمیٹی برائے انسداد ٹیکس چوری نے انڈرانوائسنگ کی چیکنگ و مانیٹرنگ کے لیے بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی صلاحیت بڑھانے کی تجویز دی ہے جس کےلیے تھرڈ پارٹی کی خدمات بھی حاصل کی جاسکتی ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *