نواز شریف کے خلاف فیصلے کے پسِ پردہ محّرکات کیا تھے؟

nawaz 1سروپ اعجاز
یہ پاکستان کی روایت ہے کہ ہم وزیرِ اعظم کو وقت سے پہلے ہی گھر پہنچا دیتے ہیں۔ نواز شریف کی بے دخلی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔لیکن یہ بے دخلی ماضی کی بے دخلیوں سے تھوڑی مختلف تھی۔ وہ ایسے کہ اس میں سب سے بڑی وجہ بنی پانامہ پیپرز جن سے ہمیں یہ پتہ چلا کہ نواز شریف کی اولادیں باہر کے ملکوں میں آف شور کمپنیوں کی مالک ہیں۔ یہ ایک بین الاقوامی قدم تھا کوئی اندرونی سازش نہیں تھی۔
دوسرا تھا ملک کے سیاسی مسائل کو حل کرنے میں سپریم کورٹ کا ثالثی کردار۔ سال 2009 میں جسٹس افتخار احمد چودھری کی واپسی کے بعد سے جو خطِ پرواز سپریم کورٹ نے اختیار کیا تھا، 28جولائی کا فیصلہ اُس کی بھی ایک بے مثال حد تھی۔ اور تیسرا یہ کہ اس بے دخلی میں ہمیں آرمی کا اتنا ہی رول نظر آتا ہے کہ JITکے دو ممبران آرمی آفیسر تھے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔
پہلے کی طرح ہوتا تو ایسے ہوتا کہ آرمی نے عدلیہ کو کہا کہ نواز شریف کو فارغ کر دو اور عدلیہ فارغ کر دیتی۔اب آپ کو یہ بات جتنی بھی اچھی لگے لیکن اس کیس میں یہ سٹیٹمنٹ تو ایک تخفیف ہے جو اُن ادارتی قوتوں کی نقل و حرکت کو چھپا رہی ہے جو پچھلے دس سال سے جاری ہے۔
روایاتی طور پر سیاسی مسئلوں کے حل میں سپریم کورٹ کا کردار واقعے کے بعد ہی آتا ہے یعنی پہلے ایک مسئلہ پڑ گیا اب سپریم کورٹ اس کا حل نکالے گی لیکن سال2009کے بعد سے سپریم کورٹ اپنی ساکھ منوانے اور سیاسی شطرنج کی بساط پر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہی ہے۔ سب کو پتہ ہے کہ سپریم کورٹ ایسا اپنی میڈیا امیج کو بچانے اور عوام کا اعتماد احاصل کرنے کے لیے کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ بہت زیادہ پیمانے پر سپورٹ نہیں چاہتی لیکن جتنا بھی سپورٹ چاہتی ہے وہ عوامی سپورٹ چاہتی ہے جیسے کہ بک بک کرتے شہری یا پھر پنجابی مڈل کلاس کے لوگ جہاں سے زیادہ تر سینئیر ججز آتے ہیں۔ اور اسی فرقے کے آئن ساز آرمی کے فرقے کے آئن سازوں سے ملتے ہیں تو وہیں سے پھر زیادہ تر اینکر پرسن یا تجزیہ کارپیدا ہوتے ہیں۔نواز شریف کے بے دخلی میں عدلیہ اور آرمی کی دلچسپی کے عناصر ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں۔
سپریم کورٹ کے اثر ورسوخ کا دائرہ تب وسیع ہوا جب نواز شریف اور عمران خان دونوں اپنے مسئلے لے کر پارلیمنٹ نہیں بلکہ سیدھا سپریم کورٹ چلے آئے۔ یہ 2012میں تب شروع ہوا جب نواز شریف نےPPPکے خلاف کالے کوٹ والے کی مدد لی اور پھر الیکشن میں دھاندلی کا رونا لے کر عمران خان عدالت میں پہنچ گئے۔نواز شریف کو لگا کہ وہ پہلا راؤنڈ جیت گئے لیکن وقتی جیت نے کسی اور جگہ پر کافی دور رس نتائج مرّتب کیے ، ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ عدالت کی جگہ الیکشن ٹریبیونل بن کر ٹی وی چینلز کا پرائم ٹائم موضوع بن گئی جس نے ملک کے سیاسی پردے پر اس کے عظیم رول کی نشاندہی کر دی۔
نواز شریف اور اُن کی جماعت PML(Nکو اِسوقت ایک خاص چیلنج کا سامنا ہے جس میں عدلیہ اپنے عروج پر ہے جبکہ ہمیشہ سے اس پارٹی کا ووٹر وہ طبقہ رہا ہے جو آرمی کے لوگوں کی عزت کرتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ ساری کرپشن صرف PPPہی کر سکتی ہے اور اُن کو اُن کے کیے ہی کی سزا مل رہی ہے۔
PMLNکے judiciary-military اتحاد میں پہلی دراڑ تب پڑی جب نوازشریف1999میں anti-establishment سیاست دان منتخب ہوے۔ سال2007میں جلاوطنی کاٹ کر واپس آنے کے بعد اُنہوں نے اپنے تعلقات عدلیہ کے ساتھ ٹھیک کرنے کی تو پوری کوشش کی۔اسی سلسلے میں جسٹس افتخار نے ایک تاریخ ساز فیصلہ سنایا اور اُن کے خلاف تمام کیسز کو ختم کر دیا۔ لیکن سال2009کے بعد کی عدلیہ کو شائد نواز شریف صحیح پہچان نہیں سکے اور اُن کو لگا کہ کچھ وکیلوں کے ساتھ اُن کے ذاتی تعلقات شائد اُنہیں کو ئی فائدہ دے دیں گے لیکن ایسا ہوا کچھ نہیں۔
nwaz 2نواز شریف کے خلاف 5-0کا فیصلہ ایک تاریخ ساز فیصلہ تھا۔
نواز شریف کے فیصلے کے خلاف قانونی چارو جوئی ایک بے مثال مگر متنازعہ قدم ہے لیکن مزے کی بات تو یہ کہ فیصلے کا اعلان تو محض ایک تکّلف ہی تھا۔ یہ تو سب ہی جانتے تھے کہ نواز شریف برے پھنسے تھے ۔ ثبوت اُن کے پاس تھے نہیں، بزنس کا سرا جا کے ٹیپو سلطان سے مل رہا تھا، اس کے ساتھ ساتھ جس شاہانہ پن اور غرور کا مظاہرہ ہر پیشی پر کیا جاتا تھااس سے نواز شریف نے اپنے مڈل کلاس ووٹر کو کھو دیا اور ساتھ ساتھ پارلیمنٹ میں بیٹھے اپنے اتحادیوں کو بھی کافی پریشان کیا۔
لیکن عدلیہ نے یہ بات یقینی بنائی کہ تمام سنوائیوں میں ایسا ہی لگے کہ ہر نقطہ کو بہت احتیاط سے سنا گیا ہے اور عوام کو بھی ایسا ہی لگا کہ PML(N)کو اپنی بات کہنے کا پورا موقع دیا گیا ہے اور در پردہ آرمی نے بھی اپنا کردار ادا کر دیا۔
آرمی کے نواز شریف سے کافی مسائل ہیں جن میں سے کچھ قومی اور خارجہ پالیسی کے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ جو آرمی کو ہے وہ یہ کہ نواز شریف ایک ’’ کم بیک کِڈ‘‘ ہیں۔ مطلب نواز شریف وہ واحد سیاست دان ہین جن کو آرمی نے نکالا تو وہ واپس اقتدار کی کرسی پر آئے۔ اب جب آرمی نے اسکندر مرزا یا ذوالفقار علی بھٹو کو بھیجا تو وہ تو واپس نہیں آئے لیکن نواز شریف واپس آئی اور اگر نواز شریف2018کے الیکشن میں بھی واپس آگئے تو عدلیہ او رآرمی کو اور بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔نواز صرفPML(N)کے لیڈر نہیں تھے بلکہ رولنگ پارٹی کے لیڈر تھے۔ سپریم کورٹ نے بھٹو کے بعد شائد سب سے بڑے سویلین وزیرِ اعظم کو گھر بھیج کر اصل میں ایک حد پار کی۔سپریم کورٹ کا فیصلہ نواز شریف کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا تھا لیکن یہ اُن کے گھر والوں اور پارٹی ذمہ داری ہے وہ صوبے میں اُن کی اہمیت کو بنائے رکھیں۔
بشکریہ:ہیرلڈ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *