سرکاری سکیم سے پلاٹ لینے والے خبردار ہو جائیں !

3

اسلام آباد ۔ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن نے وزیر اعظم کی ہدایت کی روشنی میں پالیسی تیار کی ہے جس کے مطابق پہلے کسی بھی سرکاری سکیم سے پلاٹ لینے والے ممبران مزید کسی سکیم کیلئے اہل نہیں ہونگے ۔ فائونڈیشن نے سیکٹر ایف14اور 15سمیت دیگر ہائوسنگ سکیموں میں سکروٹنی کا عمل شروع کر دیا ، ابتدائی طور پر 30 سے زائد سرکاری افسران اور ملازمین کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں پہلے ایک پلاٹ کی الاٹمنٹ ہوچکی ہے جبکہ دوسرے پلاٹوں کیلئے بھی امیدوار ہیں ، فائونڈیشن کی جانب سے ایسے ممبران کی جمع شدہ رقم بھی ضبط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
دوسرے پلاٹوں کے امیدواروں میں بیرون ممالک تعینات پاکستانی سفرا ، سینئر افسران ، سیکرٹریز اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز بھی شامل ہیں ۔ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فائونڈیشن کے ذرائع نے روزنامہ دنیا کو بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کی روشنی میں فائونڈیشن نے پالیسی تیار کی ہے کہ پہلے کسی بھی سرکاری سکیم سے پلاٹ لینے والے ممبران مزید کسی سکیم کیلئے اہل نہیں ہونگے ۔ اس پالیسی کیوجہ سے فائونڈیشن نے سیکٹر ایف 14 اور 15 کے ایسے افسران جنہیں کانسنٹ لیٹرز بھجوائے جاچکے ہیں ، فائونڈیشن کی جانب سے تمام ممبران کی سکروٹنی کی جا رہی ہے جو پہلے کسی بھی سرکاری سکیم سے الاٹمنٹ لے چکے ہیں ۔
سکروٹنی کی ابتدائی سطح پر 30 سے زائد سرکاری افسران کی نشاندہی ہوگئی جو دوسرے پلاٹوں کے بھی امیدوار ہیں ۔ فائونڈیشن کی جانب سے غلط بیانی پر رقم بھی ضبط کر لی جائے گی ۔ اس حوالے سے فائونڈیشن کا 20 ستمبر کو ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہونے جا رہا ہے جس میں وزیر اعظم کی ہدایات کی روشنی میں دوسرے پلاٹ کی الاٹمنٹ کی منسوخی کا فیصلہ کیا جائے گا ، بارہا اصرار کے باوجود فائونڈیشن حکام نے ایسے افسران کے نام ظاہر نہیں کئے جو دوسرا پلاٹ لینے والوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فائونڈیشن کی دیگر سکیموں جن میں بہارکہو گرین انکلیو ، پارک انکلیو اور ٹھلیاں ہائوسنگ سکیم میں بھی ممبران کی اسی بنیاد پر سکروٹنی کی جائے گی اور دوسرے پلاٹوں کے امیدواروں کو پلاٹ الاٹ نہیں کئے جائیں گے جبکہ جمع شدہ رقم بھی ضبط کر لی جائے گی:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *