کرکٹ اور فلموں کی بحالی

asghar nadeem syed.

بہت شور سن رہے ہیں کہ پاکستا ن میں کرکٹ بحال ہورہی ہے‘ اس سے پہلے شور تھا کہ فلم انڈسٹری بحال ہوگئی ہے۔ہم بہت اُمید باندھنے والی قوم ہیں۔چین او رترکی سے اُمیدیں لگا بیٹھتے ہیں‘ آخر اس میں حرج ہی کیا ہے۔کمزوروں کو سہارا لینے کے لیے اور امید کی ٹرین پکڑنے کے لیے کچھ بھی ہو۔۔۔چلتا ہے۔۔۔تو گویا ہم دہشت گردی اور کرپشن کے جن کو قابو کرتے کرتے ایک ایسے موڑ پر آگئے کہ کرکٹ اور فلم کی بحالی محض سپنا نہیں حقیقت بن کر محسوس ہوئی مگر۔۔۔ کیا یہ سب حقیقت تھی یا حقیقت کے اور زیادہ دور ہونے کی واردات تھی۔۔۔اس پر بات ہوسکتی ہے!
کرکٹ اور فلموں کی بحالی کا فیصلہ ہم کس حساب سے کر سکتے ہیں؟ کیا لاہور میں پورے پنجاب کی سیکورٹی کے حصا ر میں ایک میچ کرادینے سے کرکٹ بحال ہوجائے گی یا ایک دو فلموں میں نصیر الدین شاہ کو لے لینے سے فلموں میں جان تو آجائے گی‘ کیا اسے ہم بحالی کے عمل سے تعبیر کرسکتے ہیں؟ بحالی کا کوئی بھی عمل ہو‘ باہر کی مدد سے نہیں ہمارے اندر کی طاقت سے پھوٹے گا۔ کل جو میں نے مال روڈ پر نظارہ دیکھا جیسے ملک پر مارشل لاء کے نفاذ کی ریہرسل ہورہی ہے۔ بے شمار جدید ٹیکنالوجی سے لیس مسلح پولیس اور رینجرز کی گاڑیاں قطار اندر قطار ایک ہوٹل کے باہر موجود تھیں اور قذافی سٹیڈیم کے قرب و جوار میں کرفیو کا سماں تھا جیسے کوئی واقعہ ہونے والا ہے۔ایف سی کالج آٹھ روز کے لیے بند کردیا گیا ہے‘ قذافی سٹیڈیم کے قریب تمام کاروباری مراکز اور ہوٹل بند کر دیے گئے ہیں اور جب پرندہ پر نہیں ما ر سکے گا تو پھر سہمے ہوئے کھلاڑیوں کے بیٹ سے رنز نکلیں گے‘ نعرے گونجیں گے۔۔۔اگرچہ یہ بھی ایک طریقہ ہے کرکٹ کو ملک میں لے کر آنے کا۔ سوال یہ ہے کہ یہ طریقہ کب تک استعمال ہوگا؟ کیا ہم باہر کی دنیا کو ابھی تک یقین نہیں دلا سکے کہ ہم داخلی طور پرکافی حد تک محفوظ ملک بن چکے ہیں اوراب انشاء اللہ وہ واقعہ دوبارہ نہیں ہوسکے گااورہم کسی طرح بھی ہو‘ معمول کی سیکورٹی میں ٹیسٹ میچ اور ون ڈے کی میزبانی کرسکیں۔لگتا یہ ہے کہ ہم کسی کو ابھی تک قائل نہیں کرا سکے۔اس کی شائد وجہ یہ ہے کہ جب ہمارا اپنا وزیرخارجہ دنیا کو یہ بیان دے کہ ہمیں اپنے گھر کو درست کرنا ہوگا‘ دنیا جو سمجھتی ہے وہ درست ہے‘ ہمارے اندر خرابی ابھی موجود ہے۔۔۔تو ایسے میں نجم سیٹھی کسی کی کیا منت کرسکتے ہیں جبکہ آفرین ہے نواز شریف پر کہ نااہل ہونے سے صرف ایک یا دو دن پہلے پاکستانی کرکٹ کے استقبالیے میں پورے اعتماد سے نجم سیٹھی کو مخاطب کرکے کہا کہ کسی ملک کی منت سماجت کرنے کی ضرورت نہیں‘ اگر وہ ہماری منت ترلے کی وجہ سے آئے بھی تو لطف نہیں آئے گا۔اب نجم سیٹھی بھی جانتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ تو کرنا ہوگا‘ سو سارا بوجھ سیکورٹی اداروں پر لے آتے ہیں۔ہوا کے پر باندھ لو تو کرکٹ بحال ہوسکتی ہے مگر ہوا کے پر باندھنے سے سپورٹس مین سپرٹ کہاں سے پیدا ہوگی؟شائقین کو مہنگے ٹکٹ بیچ کر آپ کس طرح عام آدمی تک کرکٹ پہنچا سکتے ہیں اور جب ایک نئے جہادی گروپ کاکراچی یونیورسٹی سے سراغ مل جائے تو ایک طرف تو اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی ساکھ سے ایمان اُٹھ جاتا ہے‘ دوسرا۔۔۔گھر کی دیواروں پر جب اداسی بال کھولے سو رہی ہو تو کیسے آزادی سے کرکٹ کا کھیل فطری انداز سے کھیلا جاسکتا ہے؟بحالی ایک دن کی نہیں ہونی چاہیے‘ پورے سال کے لیے ہونی چاہیے۔۔۔!!!

Image result for najam sethiاگرچہ نجم سیٹھی نے کم وقت میں اپنی حیثیت محسوس کرا لی ہے اور یہ بات ان کی ذہانت کی دلیل ہے مگر نجم سیٹھی بہت نازک تار پر چل رہے ہیں۔ان کے لیے چیلنج کرکٹ کی بحالی نہیں ہے کہ وہ تو ملکی حالات کے سنورنے کے ساتھ ہی بحال ہوجائے گی اور پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی حالیہ تقاریر گواہ ہیں کہ وہ ایسا کرنے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔اصل چیلنج نجم سیٹھی کے لیے اپنے چوزوں کو اپنے پروں کے نیچے رکھنا اور پالنا پوسنا ہے کہ سب نئے کھلاڑی انتہائی کمزورمعاشی بیک گراؤنڈ سے آئے ہیں۔ یہ ایک لحاظ سے تو بے حد خوش آئند بات ہے کہ عام آدمی کہیں تو قومی دھارے میں شامل ہوا اور اس کے پاس پھر بھی موقع رہے گا کہ وہ کرکٹ کے ذریعے قومی دھارے میں آسکے لیکن ساتھ ہی خطرے کی بات بھی ہے کہ نجم سیٹھی جن نوجوانوں کو اتنے بلند مقام تک کھوج کے لے آئے ہیں ان کی حفاظت کیسے کرنی ہے۔ذرا سی بے احتیاطی سے وہ پھسل کر پاتال میں گر سکتے ہیں‘ ان کی جذباتی‘ ذہنی‘ فکری اورحسیاتی تربیت بے حد ضروری ہے۔انہیں تین مہینے کے ریفریشر کورس کی ضرورت ہے جس میں انہیں ادب‘ شاعری‘ اخلاقی تعلیم‘ سماجی تربیت اور کردار سازی کے بنیادی سبق پڑھائے جائیں۔ بولنے کا سلیقہ‘ اٹھنے بیٹھنے اور کپڑے پہننے کا سلیقہ سکھایا جائے۔
میں نجم سیٹھی کو آفر پیش کرتا ہوں کہ میں ان لڑکوں کو لیکچر دینے کے لیے حاضر ہوں‘ یہ عمل جتنی جلدی ہوسکے کرلینا چاہیے۔نجم سیٹھی خود رائٹر ہیں ‘ خود ایک اچھے انسان ہیں‘ وہ جانتے ہیں کہ یہ باتیں نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کتنی ضروری ہوتی ہیں اورباہر کی ٹیموں سے میل جول رکھنے کے لیے ان باتوں کی کتنی ضرورت ہے۔سو کرکٹ کی بحالی کا سفر جاری رکھیں ‘ ایسے میں کچھ اور کام بھی کرلیں۔۔۔!!!

noorاب رہی فلموں کی بحالی ۔۔۔تو کیاعید ‘ بقر عید پر فلم ریلیز کرلینے سے ہماری فلم انڈسٹری بحال ہوجائے گی۔ یقیناًیہ دیوانے کا خواب ہے۔ویسے دیوانے خواب دیکھ رہے ہیں۔ایک دیوانے سید نور نے عید سے پہلے ایک فلم ’’چین آئے ناں‘‘ ریلیز کردی۔ معلوم نہیں کن کن کے پیسوں سے وہ کتنے عرصے سے یہ خواب دیکھ رہے تھے۔فلم دو شوز بھی نہ چل سکی۔میں جب دیکھنے گیا تو پورے ہال میں اکیلا دیکھنے والا تھا اور جب فلم دیکھی تو وقت کے ضائع ہونے کا شدید افسوس ہوا۔ اس پر مزید بات کرکے وقت ضائع نہیں کر سکتا۔ فلم کی بحالی تب ہوگی جب پورا سال فلمیں ہفتہ وار بنیادوں پر ریلیز بھی ہوں اور بزنس بھی کریں۔ بزنس تب کریں گی جب آج کے فلم بینوں کی توقعات پر پوری اتریں گی۔میں نے اب تک جو دیکھا ہے اس سے پورے شعور کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جہاں ہمسایہ ملک تکنیک اور موضوعاتی تنوع میں آگے نکل چکا ہے‘ ہمیں وہاں پہنچنے میں بہت دیر لگ سکتی ہے کیونکہ ہم اپنی غلطیوں سے سیکھنے کو تیار نہیں ہیں۔جب ہمسایہ ملک ایک ٹوائلٹ اور مردانہ کمزوری جیسے حساس موضوعات پر انتہائی تفریحی فلمیں بنا کے ناظرین کا میلہ لوٹ سکتے ہیں تو ہم ابھی تک لڑکے لڑکی کے رومانس میں کیوں پھنسے ہیں؟ کس حساس موضوع تک ہم پہنچ پائے؟ فلم میکنگ روز بروز مشکل ہورہی ہے کیونکہ دیکھنے والا باشعور ہوچکا ہے۔
ابھی عید پر جو دو فلمیں ریلیز ہوئیں‘ انہوں نے بزنس کیا۔لیکن اس کے بعد اگلی عید تک ہمیں ہمسایہ ملک کی فلمیں دیکھنا ہوں گی کیونکہ دور دور تک نئی فلم کا نشان نہیں ہے۔یہ دو فلمیں بھی بے شمار تکنیکی خرابیوں کے باوجود ناظرین نے رعایتی نمبر دے کر پاس کرائی ہیں کیونکہ ان چار چھٹیوں میں کچھ اور دیکھنے کو موجود نہیں تھا‘ پھر بھی ان دونوں کی ٹیموں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ کچھ تو کیا۔شاباش۔۔۔لگے رہو منا بھائی!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *