برطانیہ میں ریلیز ہونے والی فلم "مائی پیور لینڈ" کے ڈائریکٹر سیم مسعود سے گفتگو

بشکریہ : مہوش اعجاز(ڈان)

نازو دھریجو 2012 میں سندھ کے مقامی علاقوں میں ایک لیجنڈ بن گئیں۔ تبھی انہوں نے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ مل کر 200 مسلح غنڈوں کو اپنی زمین پر قبضہ سے روکا جو ان کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ ڈکیتوں کو لگتا تھا کہ یہ زمین حاصل کرنے میں انہیں کوئی دقت نہیں آئے گی کیونکہ ان کا مقابلہ خواتین سے تھا اور وہ زیادہ تعداد میں تھے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ 15 ستمبر کو برطانیہ میں ریلیز ہونے والی فلم 'مائی پیور لینڈ' خواتین کی اس ڈکیتوں سے جنگ کی کہانی پر مبنی ہے۔ اس فلم کے ڈائریکٹر سیم مسعود کی یہ ڈیبیو فلم ہے لیکن اس میں کہیں نہیں لگتا کہ یہ ایک نئے ڈائریکٹر کی کاوش ہو۔ اس فلم کے بارے میں جاننے کے لیے ڈان امیجز نے سیم مسعود سے انٹرویو لیا جو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔

Sam Masud behind the scenes

آپ اس فلم کے فیڈ بیک کا کیسے ریسپانس دے رہے ہیں؟

ایس ایم: یہ ایک بہت ٹیڑھا سا سوال ہے۔ مجھے یہ فلم بنانے کا خیال 2013 میں آیا ، اگلا ایک سال فلم کے لیے فنڈز اکٹھے کرنے میں گزرا جب کہ شوٹنگ 2015 میں شروع ہوئی اور اب ستمبر 2017 آ چکا ہے لیکن فلم پیش نہیں کی جا سکی۔ یہ ایک بہت لمبا اور تکلیف دہ سفر تھا۔ ہم ایک ایسی کہانی پیش کرنا چاہتے تھے جسے عوام ایک فلم نہین بلکہ اپنی زندگی سے جوڑ سکیں ۔ تبھی ایک فلم ناقابل فراموش کہلاتی ہے۔ اب میں دیکھ سکتا ہوں کہ یہ کہانی میری نہیں بلکہ ناظرین کی ہے۔ میں نے اپنا کام کر دیا ۔ اگر پاکستانی اور برطانوی پاکستانی اس فلم کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں تو یہ میری بڑی کامیابی ہو گی۔ میں یہ دیکھنے کے لیے بہت بیتاب ہوں۔

آپ کو نازو دھریجو کے بارے میں کیسے معلوم پڑا؟ کیا آپ ان کے گاوں جا کر ان سے ملے تھے؟

ایس ایم: میں گوگل پر پولیس کرپشن کا کوئی واقعہ ڈھونڈ رھا تھا جس پر اپنی فلم کی کہانی تیار کر سکوں تبھی مجھے اس خاتون کے بارے میں معلوم پڑا۔ مجھے یہ واقعہ بہت متاثر کن نظر آیا۔ میں نے اس بارے میں صبا امتیاز اور سمیر ماندرو اور سمیر سے گفتگو کی۔ نازو باجی اور ان کے خاوند ذوالفقار سے بھی ملا ۔ انہوں نے سکرپٹ پڑھا ۔ ان کو لگا یہ کوئی ایکشن فلم ہے لیکن مجھے امید ہے کہ ناظرین فلم دیکھنے کے بعد یہ جان پائیں گے کہ یہ صرف ایکشن فلم نہیں ہے۔

زبان ، علاقہ اور کرداروں کے بارے میں فلم کتنے فیصد سچائی اور حقیقت پر مبنی ہے؟

Suhaee Abro as Nazo

ایس ایم: ڈرامہ نگار اور ناولسٹ کا کام تاریخی حقائق بیان کرنا نہیں بلکہ واقعہ کے احساسات سے عوام کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ یہی میں نے کیا۔ مجھے یقین ہے کہ سینما میں عوام وہ چیز محسوس کر پائیں گے جو اس بہادر لڑکی نے گینگ کے خلاف لڑتے ہوئے محسوس کی۔ یہ فلم مکمل طور پر صحیح واقعات پر مبنی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہمیں بغیر میک اپ کام کرنے والے ایکٹرز مل گئے جو ڈائیلاگ میں بھی مہارت رکھتے ہوں اور اپنے سامعین پر اعتماد رکھتے ہوں۔

کیا یہ فلم نازو کی زندگی کو فیمنزم کے ساتھ جوڑتی ہے؟ فیمنزم اور اس واقعہ کے بیچ کوئی تعلق ہے؟

ایس ایم: کچھ لوگ ا سکو فیمنزم پر مبنی فلم قرار دے رہے ہیں اور مارکیٹنگ کے لیے بھی یہی چیز استعمال ہو رہی ہے لیکن حقیقت میں یہ فلم فیمنزم سے کہیں بڑھ کر ہے۔ میرے خیال میں اسلام ، پاکستان اور فیمنزم ایک دوسرے کے بر عکس نہیں ہیں۔ اس لیے کسی لڑکی کو ہتھیار اٹھائے دیکھ کر اسے فیمسٹ قرار دینا یا نا دینا خاص اہمیت کا حامل نہیں ہے۔ پاکستان میں بے شمار بہادر خواتین آئی ہے جنہوں نے پدرانہ معاشرے میں اپنے آپ کو منوایا ہے جن میں بے نظیر بھٹو، عابدہ پروین، صنم ماروی، سہائی آبرو کا نام قابل ذکر ہے۔ میرے لیے سب سے اہم یہ چیز تھی کہ ایک پاکستانی خاتون اصل کردار ہو نہ کے اسے برقعہ پہنا کر پیش کرنا۔اچھی بات یہ ہے کہ اس فلم نے فیمنزم پر بحث چھیڑ دی ہے جو قابل تعریف نتیجہ ہے۔

کیا آپ فلم کے کرداروں کے بارے میں کچھ بتانا چاہیں گے؟

ایس ایم: ہمیں نازو کا کردار ادا کرنے والی ایکٹریس کو ڈھونڈنے میں بہت مشکل پیش آئی ۔ پھر ایک خاتون میرے سامنے انٹرویو کے لیے پیش ہوئیں تو انہیں دیکھتے ہی میں پہچان گیا کہ یہی اس کردار کے ساتھ انصاف کر پائیں گے۔ اس معاملے میں تنویر بھائی نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔

پاکستان میں شوٹنگ میں آپ کو کیا مسائل پیش آئے؟ کیا کوئی ایسا موقع آیا جب آپ کو پاکستان میں شوٹنگ پر افسوس ہوا ہو؟

Film still from My Pure Land showing Nazo with the stolen bullets. Photograph: The Guardian (PR)

ایس ایم: میرے لیے پاکستان میں شوٹنگ کرنا سب سے اہم مقصد تھا ۔ میں اس مقصد کو پورا کرنے پر ڈٹا رہا۔ میں پاکستانی اور ایشیائی عوام کو فخر کا احساس دینا چاہتا تھا۔ مجھے پاکستان سے ہمیشہ محبت رہی ہے جس کی وجہ میرے والد کے مطابق پاکستان کی مٹی ہے۔ اگر میں سپیس پر فلم بناوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ فلم سپیس میں ہی بنائی جائے لیکن پاکستان کے بارے میں فلم بناتے وقت اسے پاکستان میں شوٹنگ کے لیے ذریعے مکمل کرنا فرض العین تھا۔

کیا آپ پاکستانی سینماؤں کے لیے کوئی بڑے بجٹ والی مصالحہ فلم بنانا چاہتے ہیں؟

ایس ایم: مجھے نہیں معلوم۔ اگر کہانی اچھی مل جاتی ہے تو ایسا کر بھی سکتا ہوں۔ مجھے اچھا نہیں لگتا جب لوگ بالی وڈ فلم دیکھ کر کہتے ہیں کہ اس میں گانےبہت زیادہ تھے ۔ ایسا کبھی نہیں ہونا چاہیے کہ آپ ایک ڈراونی فلم دیکھیں اور کہیں کے اس میں بہت زیادہ خون خرابہ تھا۔

کیا آپ بالی وڈ میں کام کی خواہش رکھتے ہیں؟

ایس ایم: میں نے فینٹم فلم میں کبیر خان کے ساتھ کام کیا تھا جس سے میں بہت متاثر ہوا۔ اس کے ساتھ میں نے 80 کی دہائی میں 'ریڈر آف دی آرک' نامی فلم دیکھی جس سے میں بہت متاثر ہوا۔ میں ایسی فلمیں چاہتا ہوں جن میں مغرب اور مشرق دونوں کی نمائندگی ہو۔

آپ کا اگلا پراجیکٹ کیا ہوگا؟

ایس ایم : میں برطانیہ میں ایک سپورٹس فلم بنانے کا سوچ رہا ہوں۔ میں پاکستان کے بارے میں بھی دو مزید فلمیں بنانے کا ارادہ رکھتا ہوں تا کہ مجھے پتا چلے کہ ارض مقدس کے لوگ میری فلم پر کیسا رد عمل اپناتے ہیں۔ میں کسی امیر انکل کے انتظار میں ہوں جو مجھے ان فلموں کےلیے سپانسرشپ مہیا کر سکے۔


Courtesy:https://images.dawn.com/news/1178380/my-pure-land-tells-the-true-story-of-nazo-dharejo-the-woman-who-fought-off-200-bandits

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *