سعودی حکام کا وزارت دفاع پر خودکش حملے کا منصوبہ ناکام بنائے جانے کا دعوی!

یاد رہے کہ سعودی عرب یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف صدر عبیدرابو منصور ہادی کی حکومت کی مدد کر رہا ہے۔

سعودی عرب میں حکام نے شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر پر مبینہ خودکش حملے کا منصوبہ ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گرد دارالحکومت ریاض میں وزارتِ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ حکام کے مطابق خود کش حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث دو یمنی افراد اور دو سعودی شہریوں کو حراست میں لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم یہ دونوں یمنی شہری مبینہ طور پر شدت پسند تنظیم داعش کے رکن ہیں

حکام کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت ریاض میں وزارتِ دفاع کی دو عمارتوں پر خودکش جیکٹوں کی مدد سے دو حملوں کے منصوبے ناکام بنائے گئے ہیں۔ گرفتار کیے گئے افراد سے قبضے سے ہینڈ گرنیڈ اور دیگر اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ یاد رہے کہ سعودی عرب کی کمان میں یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف جنگ جاری ہے۔

حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے دونوں یمنی شہری ملک میں جعلی ناموں کے ساتھ مقیم تھے۔

اس حوالے سے دو سعودی شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد کسی دوسرے ملک کے ایما پر سعودی عرب میں خود کش حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ ماضی میں داعش نے سعودی عرب میں بم حملے کیے ہیں جن میں سکیورٹی حکام اور شیعہ اقلیت کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ داعش نے کئی مرتبہ سعودی حکومت کے مغربی ممالک سے تعلقات پر تنقید کی ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *