اٹارنی جنرل نے ججوں کو آئین کا سبق پڑھا دیا

سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے آغاز پر فل کورٹ تقریب منعقد ہوئی جس میںattorney سپریم کورٹ کے تمام ججوں نے شرکت کی _ فل کورٹ سے خطاب میں پاکستان کے آٹارنی جنرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیالات کے تبادلے کے لیے ہمیں ادارہ جاتی مذاکرات کے میکانزم کوقائم کرناہوگا، خیالات کے تبادلے سے اداروں کی آزادی پر سمجھوتانہیں ہوتا_ اشتراوصاف نے کہا کہ خیالات کےتبادلےسے ایک دوسرے کوسمجھنے کاموقع مل سکتا، آئین عدلیہ مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات کی حدبندی کرتاہے، سیاسی مقدمات سپریم کورٹ میں لائے گئے اور عدالت نے فریقین کو اپیل کے حق کے بغیر چھوڑ دیا، اس طرح کے مقدمات میں میڈیاکی اپنی ذمہ داری بھی ہوتی ہے، امید ہے میڈیاعدالتی نظام کے متوازی عوامی عدالتی نظام میں تبدیل نہیں ہوگا، بعض عدالتی فیصلے عالمی فورم پرلےجائے گئے، عدالتی فیصلوں کے باعث حکومت نے سرمایہ کاری کو عالمی فورم پر اربوں روپے ہرجانہ ادا کیا،  آج قائداعظم کی انہترویں برسی بھی ہے، آج کے دن ہمیں محنت اورلگن سے کام کرنے کاعزم کرناہوگا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *