خطرناک ویڈیو گیم ’بلیو وہیل‘ سے متعلق اہم حقائق

گرافکس فوٹو، بشکریہ دی ہندو

گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان میں سوشل میڈیا پر خطرناک ویڈیو گیم ’بلیو وہیل‘ سے متعلق حیران کن خبریں شیئر ہو رہی ہیں، جن میں سے کئی خبریں ایسی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ’بلیو وہیل‘ کی وجہ سے دنیا بھر میں اموات نہیں ہوئیں، اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ اس متعلق خبریں بڑھا چڑھا کر پیش کی جا رہی ہیں۔

اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس گیم سے متعلق پاکستانی لوگ پریشانی کے بجائے مزاحیہ انداز میں اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایسی پوسٹیں شیئر کر رہے ہیں کہ وہ بھی یہ گیم کھیل کر یہ آزمانا چاہتے ہیں کہ ’ایک گیم کس طرح انسان کو خودکشی پر مجبور کرتی ہے‘۔

’بلیو وہیل‘ نامی گیم جسے ’بلیو وہیل چیلنج‘ اور ’ڈیتھ گروپ‘ بھی کہا جاتا ہے، اس متعلق سب سے سے پہلے روسی نشریاتی ادارے ’نووایا گزیتا‘ نے ایک کالم شائع کیا تھا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک ویڈیو گیم کی وجہ سے روس بھر میں 130 کم عمر بچوں کی اموات رپورٹ کی گئی ہیں۔

اس گیم سے متعلق اسی ادارے نے مئی 2016 میں پہلی بار اعداد و شمار کے ساتھ فیچر شائع کیا۔

اگلے ہی چند روز میں روس کے معروف نشریاتی ادارے ’آر ٹی‘ ٹی وی چینل نے مئی 2016 میں اس گیم سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ نشر کی۔

آر ٹی کی خبر میں ’بلیو وہیل چیلنج‘ گیم سے متعلق بتایا گیا کہ اس گیم کا حصہ بننے والے افراد کو مختلف ٹاسک دیے جاتے ہیں،جن میں خوفناک ویڈیوز دیکھنا، خوفناک کارنامے سر انجام دینا بھی شامل ہے۔

اس گیم کے انٹرنیٹ پر لنک موجود نہیں ہوتے، اسے سیکریٹ سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلایا جا رہا ہے، رپورٹس—فائل فوٹو

خبر میں اس گیم سے ہونے والی خودکشیوں سے متعلق بھی بتایا گیا۔

روسی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس گیم کا سب سے پہلے آغاز روس کی سوشل ویب سائٹ ‘وی کے‘ پر ہوا، جو فیس بک کی طرح کام کرتی ہے۔

’بلیو وہیل چیلنج‘ کو ابتدائی طور پر 2013 میں بنایا گیا، لیکن پہلے ورژن میں یہ گیم خطرناک نہیں تھی، اس وقت اس گیم کو کم عمر بچوں تک پھیلایا گیا، اور اس میں تفریحی ویڈیوز دکھائے گئے۔

لیکن آگے چل کر 2015 میں اس گیم کا نیا ورژن متعارف کرایا گیا، جو پہلے ورژن کے مقابلے زیادہ خطرناک تھا۔

’بلیو وہیل چیلنج‘ گیم کے نئے ورژن کو انتہائی سیکریٹ رکھا گیا، جسے نہ صرف ’وی کے‘ جیسی سوشل ویب سائٹس بلکہ دیگر عالمی سوشل اینڈ میسیجنگ ایپلی کیشنز جن میں واٹس ایپ، فیس بک اور میسیجر شامل ہیں ان کے ذریعے ان کم عمر افراد تک پھیلایا گیا، جو ڈپریشن، پریشانی اور ںاخوش زندگی گزار رہے تھے۔

ان افراد کا انتخاب پہلے ورژن کے گروپ میں شامل افراد میں سے ہی کیا گیا۔

یوں پہلے ایک سال تک اس ویڈیو گیم کی کوئی خبر سامنے نہیں آسکی، اور اچانک خبر آنے کے بعد اس گیم کے ذریعے روس میں 130 اموات کا دعویٰ کیا گیا۔

اس دعوے کے بعد ہی 2016 میں ’آر ٹی‘ جیسے بڑے اداروں نے اس ویڈیو کی خبریں نشر کیں، لیکن اس وقت تک بھی اس ویڈیو گیم کا خوف روس تک ہی محدود تھا۔

لیکن فروری 2017 میں پہلی بار ’بلکان انسائٹ‘ نے خبر دی کہ بلغاریہ کے حکام نے والدین اور عوام کو خطرناک روسی ویڈیو گیم سے متعلق خبردار کیا ہے، تاہم اس وقت تک بلغاریہ میں اس گیم کی وجہ سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔

اگلے دو ماہ بعد پہلی بار برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ نے اپریل 2017 میں اس گیم کے حوالے سے خبر شائع کی، جس میں بتایا گیا کہ پولیس نے والدین کو اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت جاری کردی۔

فلپ بڈیکن کو اس گیم بنانے پر ملزم قرار دیا گیا ہے—فوٹو:ووایا گزیتا

مئی 2017 میں آر ٹی نے ایک بار پھر ’بلیو وہیل چیلنج‘ گیم کی متاثرہ ایک کم عمر لڑکی کی خبر شائع کرتے ہوئے اس کی جانب سے خودکشی کرنے کی کوشش کی ویڈیو بھی جاری کی۔

گزرتے دنوں کے ساتھ اس ویڈیو گیم کا خوف بڑھتا گیا، جب کہ یہ گیم روس سے نکل کر بلغاریہ، اسپین اور برطانیہ جیسے ممالک تک پہنچی۔

خوفناک ویڈیو گیم کے پھیلنے کے بعد ’نووایا گزیتا‘ نے دسمبر 2016 میں انویسٹیگیٹو کمیٹی آف دی رشین فیڈریشن (آئی سی آر ایف) کے عہدیداروں کا انٹرویو شائع کیا۔

اس انٹرویو میں گیم کے مبینہ سربراہ کو گرفتار کرنے کے بعد اس کی تحقیقات کے حوالے سے کی جانے والی بات چیت کے اقتباسات پیش کیے گئے۔

لمبے ترین انٹرویو میں تحقیق کاروں نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے نوجوان فلپ بڈیکن نے ’بلیو وہیل‘ گیم کو بنانے اور چلانے کے تمام تر ثبوت ضائع کردیے ہیں، اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اس حوالے سے کوئی مواد موجود نہیں۔

یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا کہ ممکنہ طور پر فلپ بڈیکن اس گیم کے سربراہ نہیں بلکہ گیم کو بنانے والی ٹیم کے ممبر ہوسکتے ہیں۔

تاہم مئی 2017 بی بی سی نے خبر دی کہ فلپ بڈیکن کو خطرناک ویڈیو گیم ’بلیو وہیل‘ بنانے پر ان پر فرد جرم عائد کیا گیا ہے۔

اس چینلنج گیم کے ذریعے کم عمر اور ذہنی پریشانیوں میں مبتلا افراد کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے، رپورٹس—فائل فوٹو

برصغیر میں بلیو وہیل

پاکستان میں اس گیم سے متعلق تشویش کی لہر اس وقت دوڑ گئی جب پڑوسی ملک بھارت میں گزشتہ ماہ اگست میں ’بلیو وہیل‘ کی وجہ سے پہلی بار 14 سالہ لڑکے کی خودکشی کی خبر سامنے آئی۔

ٹائمز آف انڈیا نے یکم اگست کو پولیس کے حوالے سے خبر دی کہ ممئی کے 14 سالہ لڑکے منپریت سنگھ نے ’بلیو وہیل‘ گیم کے آخری ٹاسک کو پورا کرنے کے غرض سے خودکشی کی۔

پاکستان میں اس گیم کی موجودگی کی کوئی تصدیق نہیں ہوسکی—فائل فوٹو

ہندوستان ٹائمز نے 3 ستمبر کو بھارتی ریاست گجرات میں مزید ایک نوجوان کی جانب سے’بلیو وہیل‘ گیم کاآخری ٹاسک پورا کرتے ہوئے خودکشی کی خبر دی۔

دی ہندو نے 11 ستمبر کو خبر دی کہ بھارت کی سپریم کورٹ اس بات پر راضی ہوگئی ہے کہ ’بلیو وہیل‘ گیم کے حوالے سے درخواستوں پر سماعت کرکے حکومت کو اس گیم کی روکتھام کی ہدایات جاری کی جائیں۔

اگرچہ اس وقت تک دنیا بھر میں اس گیم کی وجہ سے مصدقہ خودکشیوں اور ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم میڈیائی رپورٹس کے مطابق تقریبا 150 کے قریب افراد اس گیم کی وجہ سے موت کو گلے لگا چکے ہیں، جن میں سے 130 سے زائد اموات صرف روس میں ہوچکی ہیں۔

پاکستان میں اس گیم کے حوالے سے مختلف چہ مگوئیاں جاری ہیں، تاہم اب تک ملک میں اس گیم کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’نیوز وائز‘ میں یکم ستمبر 2017 کو انفارمیشن ٹیکنالوجی ’آئی ٹی‘ کے ماہر سید حیدر علی نے بتایا کہ پاکستان میں ’بلیو وہیل‘ گیم اب تک نہیں آسکی، کیوں کہ یہاں کے انٹرنیٹ سیکیورٹی ادارے اور ویب سائٹس اس گیم کی انٹری کو روکنے میں مصروف عمل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تاہم ’بلیو وہیل‘ گیم کی پاکستان میں انٹری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، کسی بھی کم عمر انٹرنیٹ صارف کو کسی کی جانب سے سوشل یا میسیجنگ ایپ کے ذریعے گیم کھیلنے کی دعوت موصول ہوسکتی ہے۔

ممکنہ طور پر اس گیم کو کھیلنے والے شخص کو سوشل اکاؤنٹ کی طرح اکاؤنٹ بنانا پڑتا ہے، جس میں وہ اپنی معلومات بھی فراہم کرتا ہے۔

گیم کھیلنے والے فرد کو تمام ٹاسک پورے کرنے کے ثبوت تصاویر یا ویڈیوز کی شکل میں واپس گیم ایڈمن کو بھیجنے پڑتے ہیں۔

ممکنہ طور پر اس گیم میں تصورات کا زیادہ استعمال ہوتا ہے، جس کے سحر میں گیم کھیلنے والا مبتلا ہوکر خودکشی جیسا قدم بھی اٹھانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

بشکریہ: ڈان

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *