کیا یہ واقعی بہادر شاہ ظفر کا اصلی مزار ہے ؟

9

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی جب میانمار (برما) کے دو روزہ دورے پر یانگون یعنی رنگون گئے تو وہ مغل سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے مزار پر بھی گئے۔

بہادر شاہ ظفر کی اصل قبر کی شناخت کے متعلق تنازع ہے اور شاید اسی لیے یہ بات پوچھی جا رہی کہ جس مزار پر مودی گئے کیا وہ واقعی بہادر شاہ ظفر کی آخری آرام گاہ ہے؟

چھ نومبر سنہ 1862 کو انڈیا کے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر ثانی یعنی مرزا ابو ظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر کو فالج کا تیسرا دورہ پڑا اور سات نومبر کی صبح پانچ بجے ان کا انتقال ہو گیا۔

سید مہدی حسن اپنی کتاب 'بہادر شاہ ظفر اینڈ دا وار آف 1857 ان ڈیلی' میں لکھتے ہیں کہ بہادر شاہ کے ملازم احمد بیگ کے مطابق 26 اکتوبر سے ہی ان کی طبیعت ناساز تھی اور وہ مشکل سے کھانا کھا رہے تھے۔

’دن بدن ان کی طبیعت بگڑتی گئی اور دو نومبر کو حالت بہت خراب ہو گئی۔ تین نومبر کو انھیں دیکھنے آنے والے ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے گلے کی حالت بے حد خراب ہے اور تھوک تک نگل پانا ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔

ظفر محل

یہ حصہ ظفر محل کی باقیات ہے جسے بہادر شاہ ظفر نے تعمیر کروایا تھا اور گرمیوں میں وہ یہاں وقت گزارا کرتے تھے

سید مہدی حسن لکھتے ہیں کہ چھ نومبر کو ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے گلے پر فالج کا اثر ہے اور وہ مسلسل کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔

سات نومبر سنہ 1862 کو رنگون میں اسیری کی حالت میں ان کی موت ہو گئی۔

بریگیڈیئر جسبیر سنگھ اپنی کتاب 'کامبیٹ ڈائری: این السٹریٹیڈ ہسٹری آف آپریشنز كنڈكٹڈ بائی فورتھ بٹالین، دی کماؤں رجمنٹ 1788 ٹو 1974' میں لکھتے ہیں: 'رنگون میں اسی دن شام چار بجے 87 سال کے مغل بادشاہ کو دفنا دیا گیا تھا۔

وہ لکھتے ہیں: رنگون میں جس گھر میں بہادر شاہ ظفر کو قید کر کے رکھا گیا تھا اسی گھر کے پیچھے ان کی قبر بنائی گئی اور انھیں دفن کرنے کے بعد قبر کی زمین ہموار کر دی گئی۔ برطانی حکام یہ یقینی بنانا چاہتے تھے کہ ان کی قبر کی نشاندہی نہ کی جا سکے۔

’جب ان کی لاش کو دفن کیا گیا تو وہاں ان کے دو بیٹے اور ایک قابل اعتماد ملازم تھے۔'

بہادر شاہ ظفر کی قبر
 انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے برما کے دورے پر بہادر شاہ ظفر کے مزار پر حاضری دی

سید مہدی حسن نے لکھا 'ان کی قبر کے گرد بانس کی باڑھ لگائي گئی تھی جو وقت کے ساتھ ناپید ہو گئی اور اس کی جگہ گھاس اگ آئی ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی آخری مغل تاجدار کی قبر کا آخری نشان بھی مٹ گیا ہو گا۔

انڈیا کے مشہور مؤرخ اور عہد مغل کے ماہر ہربنس مکھیا کے مطابق: 'انگریزوں نے بہادر شاہ ظفر کو دفن کر کے زمین کو ہموار کر دیا تھا تاکہ ان کی قبر کی کوئی شناخت نہ رہے ۔ اس لیے ان کی قبر کہاں ہے اس کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

وہ کہتے ہیں: 'بہادر شاہ ظفر کی خواہش تھی کہ انھیں دلی کے مہرولی میں دفن کیا جائے لیکن ان کی آخری خواہش پوری نہیں ہوسکی۔'

اپنی کتاب 'دی لاسٹ مغل' میں ولیم ڈیلرمپل لکھتے ہیں: 'جب 1882 میں بہادر شاہ ظفر کی بیوی زینت محل کی موت ہوئی اس وقت تک بہادر شاہ ظفر کی قبر کہاں تھی، یہ کسی کو یاد نہیں تھا۔ اسی لیے ان کی لاش کو اندازاً اسی جگہ ایک درخت کے قریب دفنا دیا گیا۔‘

1857 بغاوت
 سنہ 1857 میں بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں ملک کے بہت سے طبقے نے انگریزی حکومت کے خلاف ناکام بغاوت کی تھی

ڈیلرمپل لکھتے ہیں 'سنہ 1903 میں انڈیا سے کچھ سیاح بہادر شاہ کے مزار پر جا کر انھیں یاد کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت تک لوگ زینت محل کی قبر کی جگہ بھی بھول چکے تھے۔ مقامی گائیڈز نے ایک پرانے درخت کی طرف اشارہ کیا تھا۔

وہ لکھتے ہیں: 'سنہ 1905 میں مغل بادشاہ کی قبر کی نشاندہی اور اس کی حرمت کے حق میں رنگون میں آباد مسلم کمیونٹی نے آواز اٹھائی۔ اس سلسلے میں کئی ماہ تک مظاہرے ہوتے رہے جس کے بعد سنہ 1907 میں برطانوی انتظامیہ ان کی قبر پر پتھر لگوانے کے لیے راضی ہوئی۔'

'یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس کتبے پر یہ لکھا جائے گا کہ دلی کے سابق بادشاہ بہادر شاہ، سات نومبر سنہ 1862 کو رنگون میں انتقال کر گئے انھیں یہاں دفن کیا گیا تھا۔'

بہادر شاہ ظفر

اگرچہ بہادر شاہ ظفر کو اسلامی طریقے پر دفن کیا گیا تھا لیکن انگریزوں نے دانستہ طور پر یہ کوشش کی ہے کہ ان کی قبر کا کوئی نشان باقی نہ رہے

بعد میں اسی سال زینت محل کی قبر پر پتھر بھی کتبہ لگایا گیا۔ سید مہدی حسن نے بھی لکھا کہ سنہ 1907 میں برطانوی حکام نے ایک قبر تعمیر کی اور اس پر کتبہ لگوایا۔

بریگیڈیئر جسبیر سنگھ نے لکھا ہے کہ سنہ 1991 میں اسی علاقے میں ایک نالے کی کھدائی کے دوران اینٹوں سے بنی ایک قبر ملی۔

رنگون میں بہادر ظفر کے مزار کے ٹرسٹی یعنی مینیجنگ کمیٹی کے ایک رکن اور میانمار اسلامک سینٹر کے کنوینر الحاج یو آئی لوئن نے بی بی سی کے صحافی مرزا اے بی بیگ کو بتایا تھا کہ 'جو قبر ملی اس کے بارے میں سارے لوگوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ بہادر ظفر کی اصل قبر یہی ہے اور اس کی کئی وجوہات بھی ہیں۔'

انھوں نے بتایا: 'اگرچہ بہادر شاہ ظفر کو اسلامی طریقے پر دفن کیا گیا تھا لیکن انگریزوں نے دانستہ طور پر یہ کوشش کی ہے کہ ان کی قبر کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔'

بہادر شاہ ظفر کی قبر

یو این لوئی نے بتایا کہ لوگ اسی قبر کو بہادر شاہ ظفر کی حقیقی قبر تسلیم کرتے ہیں

'جب 1991 میں مرمت کے لیے کھدائی کی گئی تو وہاں یہ قبر ملی اور لوگ اسے ہی بہادر شاہ ظفر کی حقیقی قبر کہتے ہیں۔'

معروف مصنف پون کمار ورما نے غالب پر مبنی اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ غالب نے اپنے ایک دوست کو بہادر شاہ ظفر کے انتقال کے بارے میں لکھا تھا کہ بہادر شاہ ظفر برطانوی قید اور قفس عنصری سے آزاد ہو گئے:۔

Courtesy : BBC Urdu

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *