آزادی کپ ، پاکستان کی ورلڈ الیون کے خلاف بیٹنگ جاری !

1

لاہور ۔ آزادی کپ کے پہلے میچ میں پاکستان نے ورلڈ الیون کے خلاف بیٹنگ کرتے ہوئے 11 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 95 رنز بنالیے ہیں۔ پاکستان کے شہر لاہور کے قذافی اسٹیڈیم  میں کھیلے جارہے آزادی کپ سیریز کے پہلے میچ میں ورلڈ الیون کے کپتان فاف ڈپلسی نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ قومی ٹیم کی جانب سے فخر زمان اور احمد شہزاد نے اننگز کا آغاز کیا جب کہ فخر نے جارحانہ آغاز کرتے ہوئے مورنی مورکل کو پہلی 2 گیندوں پر 2 چوکے لگاکر اپنے خطرناک عزائم کا اظہار کیا لیکن چوتھی ہی گیند پر مورکل نے انہیں پویلین واپس بھیج دیا جس کے بعد بابراعظم وکٹ پر آئے اور پہلی ہی گیند چوکا لگایا۔

دوسری وکٹ کے لیے بابر اعظم اور احمد شہزاد نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، اس دوران بابر اعظم نے جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 33 گیندوں پر اپنی شاندار نسف سنچری مکمل کی جب کہ دوسری جانب احمد شہزاد سست روی سے بیٹنگ کرتے رہے۔

ورلڈ الیون کے اسکواڈ کی قیادت فاف ڈوپلیسی کر رہے ہیں، پلیئنگ الیون میں شامل دیگر کھلاڑیوں میں ہاشم آملہ، تمیم اقبال، ڈیرن سیمی، تھشارا پریرا، عمران طاہر، بین کٹنگ، گرانٹ ایلوئٹ، ڈیوڈ ملر، مورنے مورکل اور ٹیم پین شامل ہیں۔

قومی ٹیم کی قیادت سرفراز احمد کررہے ہیں، دیگر پلیئرز میں احمد شہزاد، فخر زمان، بابر اعظم، شعیب ملک، فہیم اشرف، عماد وسیم، شاداب خان، رومان رئیس، حسن علی اور سہیل خان شامل ہیں۔

ٹاس جیتنے کے بعد رمیز راجہ سے بات کرتے ہوئے فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ پاکستان آ کر بالکل نہیں لگ رہا کہ ہم اجنبی جگہ آئے ہیں، یہاں کے لوگوں کا پیار اور جوش و جذبہ قابل دید ہے، پاکستان ٹیم ایک سخت حریف ہے، اس سے مقابلے کو آسان نہیں لیں گے۔

سرفراز احمد نے کہا ہے کہ ہم بیٹنگ کرنا چاہ رہے تھے اور ٹاس ہارنے کے باوجود بیٹنگ کی دعوت مل گئی ہے، تمام پلیئرز کارکردگی دکھانے کیلیے بیتاب ہیں اور پوری توجہ کارکردگی پر ہے، آل راؤنڈ ٹیم ہے اور کانٹے دار مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔

اس سے قبل آزادی کپ سیریز کی افتتاحی تقریب میں ورلڈ الیون کے پلیئرز کو پاکستان کے ثقافتی رنگوں میں رنگے اور ٹرک آرٹ سے سجے بگھی نما خصوصی رکشوں میں بٹھا کر گراؤنڈ کا چکر لگوایا گیا، شائقین نے کھڑے ہو کر اسٹار کرکٹرز کا استقبال کیا اور نعرے لگائے جب کہ کھلاڑیوں نے بھی ہاتھ ہلا کر شائقین کے پرخلوص جذبات کا جواب دیا۔

دلہنوں کی طرح سجے سجائے رکشوں میں بیٹھ کر مہمان کھلاڑیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور سواری کا بھرپور لطف اٹھایا، پاکستانی نژاد جنوبی افریقی کھلاڑی عمران طاہر نے رکشہ میں بیٹھ کر آبائی وطن کی یادیں تازہ کیں اور اپنے مخصوص انداز میں شائقین کو دیکھ کر ہاتھ ہلاتے رہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *