پچھواڑے سے شناخت !

riayat ullah farooqi
پاکستان کے سب سے بڑے گپی چینل سے تعلق رکھنے والے برصغیر کے سب سے بڑے اینکر نے کل شب لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ شامِ غریباں جیسا ماحول قائم کرکے اس بات کا گریہ کیا کہ لوگوں نے ان کے برما جانے پر شک کا اظہار کیا۔ اس پورے پروگرام میں وہ یہی ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے کہ وہ برما پہنچے تھے۔ اس حوالے سے جو سب سے بڑا ثبوت انہوں نے پیش کیا وہ وہ دو حصوں پر مشتمل ایک ویڈیو ہے۔ پہلے حصے میں صرف ایک افسر کھڑا نظر آرہا ہے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ برمی دارالحکومت ینگون کے ہوائی اڈے کا ایمگریشن افسر ہے۔ مان لیا کہ وہ برما کے ہوائی اڈے کا ایمگریشن افسر ہی ہے۔ کوئی مشکل کام نہیں ایسی ویڈیو نکالنا، یوٹیوب پر ہی ہزاروں موجود ہوں گی۔ سوال یہ ہے کہ اس افسر کے ساتھ آپ کیوں نظر نہیں آرہے ؟ ویوڈیو میں اس افسر کے ہاتھ میں کوئی دستاویز نظر آرہی ہے جسے اینکر صاحب اپنا پاسپورٹ بتاتے ہیں حالانکہ وہ دستاویز گرین (پاکستانی پاسپورٹ کا رنگ) تو بالکل نہیں ہے۔ بقول اینکر صاحب کے یہ ویڈیو وقار ذکا نے بنائی تو سوال یہ ہے کہ وقار ذکا نے ویڈیو میں ہمارے عظیم اینکر کا احاطہ ضروری کیوں نہ سمجھا ؟ ویڈیو کے دوسرے حصے میں منظر بدل جاتا ہے اور نسبتا تاریک جاگہ پر ایک شخص کھڑا ہے جس کی صرف ٹانگیں اور پچھوڑا نظر آرہا ہے۔ برصغیر کے سب سے بڑے اینکر کا دعویٰ ہے کہ جس کا پچھواڑا نظر آرہا ہے وہ ہمارے یہ عظیم اینکر ہی ہیں۔ مانا کہ ہم پٹھان بڑے بدنام ہیں مگر قسم لے لیجئے کسی شخص کو پچھواڑے سے شناخت کرنے کی صلاحیت ہم بالکل نہیں رکھتے، ہم تو انسان کو چہرے سے ہی شناخت کر سکتے ہیں اور اس ویڈیو میں ہمارے عظیم اینکر کا چہرہ تو کجا سر بھی نظر نہیں آرہا، عظیم اینکر پچھواڑے والی ویڈیو پر رواں تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگلی ویڈیو میں ان کا چہرہ بھی نظر آئے گا مگر حیرت انگیز طور پر وہ ویڈیو دکھائی نہیں گئی۔ دیکھئے بات سیدھی سی ہے۔ عظیم اینکر کا اپنے تئیں جو بھی گمان ہو مگر ہم عام پاکستانیوں کی نظر میں وہ دو ٹکے کا بھی اعتبار نہیں رکھتے لھذا جب وہ برما جیسے سیریس ایشو پر بڑے بڑے دعوے کریں گے تو پھر اسے انہیں ثابت بھی کرنا ہوگا خاص طور پر ایسی صورت میں جب وقار زکا جیسا کریکٹر بھی اس میں شامل ہو یعنی معاملہ یک نہ شد دو شد والا ہو !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *