شارون  مسیح کا قاتل نصابِ  تعلیم  ہے

یوسف بنجمن

Image result for yousuf benjuman

 آج کل کی   ملکی سیا ست  کے  لطیفوں سے لطف اندوز ہونے کا  ہم کوئی سنہری موقع ہاتھ سے  جانے  نہیں دیتے ۔ہر  روز بے معنی، بے وزنی اور  بے ڈھنگے  بیانات  مزاح کا سامان  خوب مہیا کرتے رہتے ہیں ۔ہم  چند دوست  اپنے تیئں   ملکی صورتحال ، سماج کی تبدیلی  اور  سیکولر  پاکستان کے حوالے سے تجزیے و تبصرے  کرتے رہتے ہیں۔  کبھی مستقبل میں جھانکنے کی کوشش  کرتے ہیں  تو کبھی  پالیسیوں اور قانون سازیوں کی کھال  اُتارنے میں جُت جاتے ہیں ۔کہیں کہیں  گفتگو  "ممنوعہ  موضوعات" کی طرف بھی پھسل جاتی ہے مگر پھر "راہ ِ راست " پر آ جاتے ہیں۔ غرض کہ  دوستوں کی  یہ محفل  جانکاری کا ایک مکمل  پیکج  ہوتا ہے۔

گزشتہ ہفتے کی محفل میں یاروں نے حلقہ 120 کے ضمنی انتخابات  کے حوالے   سے  خوب  لطیفے   ارشاد فرما ئے ۔  گپ  شپ  میں   لندن یاترا    کا رنگ بھی   چڑھا    رہا    اور    چین   کے ساتھ  ہمالیہ جیسی بلند و بالا دوستی کی مالا  بھی جپی جا تی رہی ۔  مذہب  اور  سیاست  کو  یکجا کرنے یا جدا جدا رکھنے کا  موضوع  بھی زیرِ بحث   رہا۔  اِن تذکروں، تجزیوں اور تبصروں کے لئے  ہمارے پاس گونگے کی  دودھ پتی   کی دکان سے بڑھ کر اور کوئی  موزوں و مناسب  تھاں نہیں  ہوتی۔

آج چُھٹی کا دن بھی تھا، سنہری دھوپ اور ہلکی ہلکی رم جھم کی آنکھ مچولی    بھی جاری تھی ۔  دوست جمع ہونے لگے تو   چائے کے   کپ بھی آتے  گئے۔  چائے  کے گھونٹ کے ساتھ اُس کے  اوپر تیرتی  ہوئی ملائی   کا   ذائقہ  بیان  کرنے سے قاصر ہوں۔ خیر چائے  کے ساتھ کچھ دوستوں  نے سگریٹ  بھی سُلگا لئے، کسی نے  سُکرال  کی گولیاں نکال لیں۔  چند لمحات کے  وقفہ کے بعد  گفتگو برما کے مسلمانوں کی حالتِ زار پر چل پڑی کہ اسی دوران    ہمارے ایک اور ہونہار جوٹی  یار  بھی آن وارد ہوئے۔

یہ ضمیر خان  تھا۔ اچھا  بھلا  آدمی  ہے ، سوجھ بوجھ بھی کافی ہے، تعلیم و تجربہ بھی خاصا ہے مگر بس بات ذرا سیدھی سیدھی  کر ڈالتا ہے ۔ نشست پر  بیٹھا  ، ایک کپ جائے کا آڈر  دیا اور    ایک   نیا  ہی شوشہ  چھوڑ دیا، کہنے  لگا ، "  شارون مسیح کے  قتل  کا ماسٹر مائنڈ اور  اصل  قاتل  کا کھوج لگا لیا ہے۔  ہمیں اُس کی یہ  بے محل بات ہضم نہ ہوئی تو  صاف کہہ دیا کہ بھائی  اُسے  قتل ہوئے تو ابھی   چند ہی روز گزرے   ہیں  تو پھر بھلا ہم پولیس کی اتنی پھُرتیاں  کیسے مان لیں ؟   ابھی تو مقتول  کی فیملی  کی اِس پراسس  میں جوتیاں  گِھسنی   ہیں ،  دیہاڑیاں  لگنی ہیں،  جبراً   معافی نامے پر دستخط ہونے ہیں اور نجانے  کس کس جھنجھٹ  کا سامنا  کرنا  ہو گا  اُس غمزدہ  خاندان کو؟  لہٰذا  ضمیر خان  کی بات کو   رد کرتے ہوئے  زور دار  قہقہ  لگا تو ضمیر  خان تو   تپ اُٹھا ۔  اپنی جگہ  پر کھڑا ہو گیا   اور حسب ِ معمول  تقریر پر اُتر آیا، کہنے لگا۔

شارون  مسیح   کا   اسکول میں   طلبا  کے ہاتھوں اینٹیں اورٹھڈے مار کر  قتل کرنے کا  ماسٹر مائنڈ  ہو یا   سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان    میں کلاس فیلوز کے ہاتھوں  خنجر کے وار سے راجیش کمار کے قتل  کا   پس منظر،   لنڈی کوتل کی  کمسن کشش نامی بچی پر  اُسی کے   اُستاد  کے  ہاتھوں متعصبانہ  تشدد کا قصہ ہو یا لاہور  کی  عِشا پر اُستاد  کا  ڈنڈوں سے وار،  فیصل آباد میں اسکول  انتظامی کے متعصبانہ رویوں کی شکار مسیحی طالبات ہوں یا لاہور کے ایک سرکاری اسکول میں مذہبی نفرت کا نشانہ  بننے والے بچے۔  سب کے  سب ایک ہی  جیسی متعصبانہ اور عدم رواداری کو بڑھاوا دینے والی ذہنیت اور سوچ  کو جھیلتے رہے ہیں۔

"ہمیں  ضمیر خان  کے دیئے ہوئے اِن حوالہ جات میں  دلچسپی نظر آئی تو  اُس سے گزارش کی کہ وضاحت  سے بیان کرئے کہ اِس میں نصاب ِ تعلیم  کا قصور کیا ہے ؟  پھر تو  ضمیر خان نے   جو کہا اُس نے  وہاں پر  موجود سبھی افراد کے ہوش اُڑا دیئے، وہ بولا، نصاب ِ تعلیم،  نصاب ِ تعلیم  قاتل ہے   نہ صرف شارون مسیح کا   بلکہ راجیش کمار  اور   وشال خان کا اور مجرم ہے  تعصب و تشدد  کا شکار ہونے والے باقی بچوں کا"۔ شرکا محفل کے چہروں پر  حیرت اور پریشانی  نمودار ہونے لگی۔

ضمیر خان بولتا رہا ۔ "ہم تعلیمی اداروں اور درسی کتب میں جو پڑھا رہے ہیں بچے اُسی کی عملی شکل ہمارے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ ہمارا نصابِ تعلیم مذہب اور فرقے کی بنیاد پر نفرت اور تعصب کو ہوا دے رہا  ، لہٰذا ہمیں اپنے سوا نہ کسی کے عقیدے کی پروا ہے نہ کسی انسانی زندگی کا احترام۔   ہمیں اسکولوں، کالجوں اور  یو نیورسٹیوں میں تمام مذاہب کے احترام  اور قبولیت کی بات کرنی ہوگی۔  اسکولوں کی کتابوں اور چاردیواری کے اندر  سے  مذہبی نفرت کو ختم کرنا ہوگا۔  اگر ہم نے اپنے   نصابِ تعلیم میں  مذہبی رواداری، احترامِ انسانیت، انسانی مساوات، انسانی قدروں اور  تمام عقائد کی قبولیت اور احترام  کو جگہ نہ دی تو ہماری درس گاہیں   جلد ہی قتل گاہیں بن جائیں گی"۔  ضمیر خان نے  چِتاونی دے دی۔

ساتھ والے میز سے کسی نے پوچھ لیا کہ یہ شارون صاحب  کون تھے؟    تو ضمیر خان نے ہمارے علم میں بھی اضافہ فرما دیا۔ بولے، "شارون ایک مسیحی خاندان کا چشم و چراغ  اور نہم جماعت کا طالبِ علم تھا۔ وہ بورے والہ  ضلع وہاڑی کے ایک سرکاری اسکول میں داخل ہوا تو اُس کے ہم جماعتوں کو وہ ایک نظر نہ بھایا۔ اُسے مسیحی عقیدے کی بنیاد پر  پہلے تو تعصب ، گالم گلوچ اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گزشتہ ہفتے جب  شارون نے  اسکول میں  اُسی گلاس  میں پانی پی لیا جس میں مسلمان بچے بھی پیتے ہیں تو   اُس کی یہ  "حرکت" اُنہیں  ناگوار گزری۔  لہٰذا  شارون مسیح   کے ہم جماعتوں نے ہی  اُسے  انیٹوں، مکوں، ڈھڈوں  اور لاتوں سے مار مار  کر اُس کی  سانسیں تک ختم کرڈالیں۔  یہ پڑھائے جانے والے نصاب ِ تعلیم کا ہی نتیجہ  تھا۔  ساتھ والے ٹیبل پر بیٹھے ایک مزدور نے چائے کی پیالی  رکھتے ہوئے کہا، "  اِس قاتل  نظامِ تعلیم سے تو  بہتر ہے کہ  ہمارے بچے اَن پڑھ  ہی رہیں   یوں  وہ کم از کم  زندہ تو رہیں گے ناں؟"

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *