کراچی کی زمنیوں پر قبضے کی خوفناک جنگ

land mafia 1کرس کے اور فصیح منگی
پروین رحمان اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی ہیڈ تھیں۔ اس پراجیکٹ کا مقصد کراچی کی غریب عوام کو گھر فراہم کرنا تھا۔ وہ مارچ2013کی ایک شام کو اپنے کولیگ انور راشد کے ساتھ گھر آرہی تھیں جب اُن کو تین گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔ انور راشد نے ہی اُن کو ہسپتال پہنچایا اور اُن کا کہنا تھا کہ پروین رحمان پہ حملہ کرنیوالا شخص ایک شارپ شوٹر تھا۔انور راشد کی عمر اب71سال ہے لیکن وہ ابھی بھی OPPکے ڈائریکٹر ہیں۔اُن کا یہ بھی ماننا ہے کہ سارے فساد کی جڑ زمین تھی اور پولیس اور مافیا سب اس قتل میں حصّے دار تھے۔
پروین رحمان کی موت نے پاکستان کی سب سے بڑی میگا سٹی میں پنپنے والے رئیل اسٹیٹ کے نام تلے چھپے ایک گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کیا۔ کراچی کی آبادی 15ملین ہے، یہاں پر دو بڑی بندرگاہیں موجود ہے، مالی انتظامی ڈھانچے کی دیکھ ریکھ بھی یہیں سے ہوتی ہے اور پاکستانی معیشت کا تو یہ گڑھ ہے۔برسلز بیسڈکنفلکٹ واچ داگ کرائسز گروپ کی فروری کی رپورٹ میں اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں عوام کی زمین کو غیر قانونی طور پر قانونی بنا کربیچا اور خریدا جاتا ہے۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہنا تھا کہ زمین یہاں کا سب سے متنازعہ بیوپار ہے جس میں وفاقی، صوبائی اور زمیندار ایجنسیز، ملٹری کنٹونمنٹ، کارپوریٹ ادارے، رسمی اور غیر رسمی ڈویلپرز سب کے سب اپنا زیادہ سے زیادہ حصّہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں پیدا ہونے والے مسئلوں کو رشوت، سیاسی اثرو land mafia 3رسوخ اور پولیس کی سرپرستی حاصل کر کے نمٹایا جاتا ہے۔
زمین ڈاٹ کام کے مطابق کراچی میں گھروں کی قیمت2011کے مقابلے میں دوگنی ہو چکی ہے ۔ جہاں پاکستان کی باقی میگا سیٹیز میں ویلیو میں اضافے کا تناسب 6.3%ہے وہیں کراچی میں یہ23%تک پہنچ چکا ہے۔مگر پچھلے سال جب حکومت نے پراپرٹی ڈیلز پر ٹیکس وصولی شروع کی ہے تب سے اس تناسب میں تھوڑی کمی آئی ہے۔ کراچی میں تیزی سے بڑھنے والی جھگیاں بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کی لیے 13مختلف ایجنسیز کو ٹاسک دئیے گئے لیکن خاطرخواہ نتیجہ نا مل سکے۔ گینگ وارز اور نسلی فسادات تو یہاں1947سے ہی چل رہے ہیں۔ سال 2013میں ہونے والے ملٹری کلین اپ نے غیر قانونی سیاسی فوجیوں اور باغی گروپوں کو نکال باہر کیا اور اپنے کراچی کے پہلے دورے میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا کہ اس مشن کو جاری رکھیں گے۔
عارف حبیب جو نیا ناظم آباد میں ایک2ملین مالیت کی مسدود سوسائٹی بنا رہے ہیں ، اُن کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں کراچی کے پراپرٹی ریٹرنز دوبئی اور لندن سے بھی زیادہ رہے ہیں۔ نیا ناظم آباد کے آس پاس کا علاقہ پہلے طالبان کے قبضے میں تھا۔ عارف حبیب کے ایک یونٹ کے مطابق اُنہوں نے حکومت کودرخواست کی ہے کہ وہ ایکسٹرا900ایکڑ کا رقبہ بھی لینا چاہ رہے ہیں تاکہ اس پراجیکٹ کو مزید پھیلا سکیں۔سال 2015میں بننے والیرئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ کو بنانے والے بھی عارف حبیب ہی تھے۔ عارف حبیب اور اُن کے حریف جیسے کہ رئیل اسٹیٹ کے جاگیردار ملک ریاض حسین ، ایسے ہی land mafia 2لوگ ہیں جو پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
کراچی میں موجود اربن ری سورس سنٹر کا کہنا ہے کہ کراچی کو سالانہ100,000 گھروں کی ضرورت ہو جبکہ صرف 40,000 ہی بن رہے ہیں۔عارف حبیب کایہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں گھروں کی کمی ہے اور اس کمی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ زمین پر قبضہ کرنیوالوں کا بھی ہے۔
پروین رحمان کی فیملی کا ماننا ہے کہ اُن کے قتل کے محرکات میں سے ایک محرک یہ بھی ہے کہ اُنہوں نے میپنگ کے زریعے کراچی کی غریب عوام کو گھر دینے کی کوشش کی اور اُن کی یہی کاشش شائد کریمنل نیٹ ورک کو پسند نہیں آئی۔سال 2006سے لے کر سال 2013تک OPPنے1000کے قریب میپنگ کیسز کو نمٹایا مگر پروین رحمان کی وفات کے بعد یہ سلسلہ land mafia 4رُک گیا کیونکہ ادارے کے اور بھی لوگوں کو دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔
سحر اسماعیل جو پروین رحمان کی بھتیجی ہیں اور ساتھ ساتھ خود بھی ایک ماہرِ اقتضادیات ہیں اُن کا یہ ماننا ہے کہ اگر ہم لوگوں کو اُن کی زمین کا قانونی حقدار بنا دیتے ہیں تو ڈولپرز کو اُن سے زمین لینے کے لیے ، ابھی جو رقم دے رہے ہیں اُس سے چھ گنا زیادہ دینی پڑے گی۔ جمیل ا حمد جو DIG crime investigation agency ہیں اُن کا ماننا ہے کہ مسئلہ زمین کا ہی تھا لیکن پولیس اُس وقت پہتر تحقیقات نہیں کر سکی کیونکہ تب طالبان اپنے زوروں پر تھے اور مجرموں کے لیے چھپنا آسان تھا۔سال2014میں یہ کیس انسدادِ دہشت کردی کورٹ کی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
جانچ پڑتال کے معیار میں اب بہتری آچکی ہے اور اس کی سب سے بڑی مثال بحریہ ٹاؤن ہے جس کی تعمیر سال2014میں شروع ہوئی تھی اور جب یہ بن کے تیار ہوگا تو اس میں 36ہول گالف انکلیو، تھیم پارک، ہائی ویز کی پانچ لینز، دوبئی طرز کے فوارے اور دنیا کی تیسری بڑی جامع مسجد شامل ہوگی۔ایم اکمل خان جو اتھر ایسوسی ایٹ نامی پراپرٹی ایجنسی میں ہوتے ہیں اُن کا کہنا ہے کہ پہلے land mafia 5125سکوئیر فیٹ کا گھر بحریہ ٹاؤن میں 1.73 ملین کا تھا اب اُس کی قیمت 2.4 سے لے کر 3.5 ملین تک پہنچ گئی ہے۔
بحریہ ٹاؤن پر الزام ہے کہ اُس نے اپنی زمین لوکل اتھارٹی سے غیر قانونی طور پر خریدی ہے لیکن اب تک ایسا کچھ ثابت نہیں ہوا ہے اور ملک ریاض کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ ہر طرح کی تحقیقات کے لیے تیار ہیں۔شمعون طارق جو سٹاک ہوم بیسڈ Tundra Fonder AB کے نائب چیف انویسٹمنٹ آفیسر ہیں اُ ن کا بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ ایسے ملک میں جہاں گھروں کی کمی ہے وہاں بحریہ ٹاؤن جیسی ماڈرن ڈویلپمنٹ کی ضرورت ہے۔ اُن کا یہ بھی ماننا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے سیکیورٹی دی ہے اور بجلی بھی۔ لوگ بحریہ ٹاؤن کی کامیابی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔
سندھ کے گورنر محمد زبیر جو رولنگ پارٹی کے ممبر ہیں اُن کا کہنا ہے کہ سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اب computerize land records کا سسٹم متعارف کروایا جائے گا جس سے اُمید ہے کہ کرپشن میں کافی حد تک کمی آئے گی۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیلنج تو اپنی جگہ رہے گا کیونکہ سیاسی کھلاڑی اور اونچے عہدوں پر بیٹھے لوگ دونوں اس میں شامل ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *