دل سکڑے ہیں‌ یا کراچی کی آبادی؟

syed arif mustafa

کیا الطاف حسین اور اسکے کارندوں کی بداعمالیوں کی سزا پورے شہر کراچی کو دینے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اسکی عملی تدبیر کے طور پہ قومی سیاست میں انکی نشستیں کم کرکے انکی طاقت کو کمزور اور غیرمؤثر کردینے کا قدم اٹھالیا گیا ہے ؟تازہ مردم شماری کے نتائج سے تو بظاہر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے ... لیکن ... کیا ... شر کو دبانے کی اس کوشش سے خیر برآمد ہوسکے گا یا اس قسم کا خیر ایک پہلے سے بھی زیادہ بڑے شر کو جنم دینے کا باعث بنے گا ۔۔۔؟اس ستم ظریفانہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس کرنا کسی طور بے بنیاد نہیں کہ دنیا میں خواہ جتنا بھی بدلاؤ آیا ہو ، پاکستان میں کچھ بھی نہیں بدلا  کیونکہ بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہاں خیر و شر کے کردار بدستور اپنی اپنی جگہ برقرار ہیں اور سرگرم ہیں ، فرق ہے تو بس اتنا کہ اب اکثر جگہ ظالم کے ہاتھوں میں کوڑا نہیں قلم ہے اور ساتھ ہی بندوق بھی ہے- اب وہ اسی سے کوڑے اور تلوار دونوں کا کام لے رہا ہے ۔۔۔ یوں دامن پہ کسی چھینٹ کی فکررہی اور نہ ہی خنجر پہ کسی داغ کا کوئی جھنجھٹ- عین اسی طرح‌ کی ستم گری سے اس بار کراچی کی آبادی کے شمار کی مد میں بھی کام لیا گیا ہے اور یہاں کے باسیوں کی ایک بڑی تعداد کو قلم برد کردیا گیا ہے اور اگر مزید بس چلتا تو شاید سمندر برد ہی کرڈالتے ۔۔۔ یوں وہ کراچی جو اس تازہ مردم شماری سے قبل والی یعنی 1998 کی مردم شماری میں آبادی کے لحاظ سے لاہور سے تقریباً دوگنا تھا ( 98 لاکھ بمقابلہ 51 لاکھ ) اب اسکی آبادی لاہور کی آبادی سے کچھ ہی زیادہ رہ گئی ہے اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی توخدشہ ہے کہ کہیں یہاں کی آبادی کسی حاجی کیمپ جتنی ہی نہ رہ جائے-

لیکن اس نہایت اہم مسئلے کے بارے میں یہاں کی سیاست کے قائدین اس قدر سنجیدہ ہرگز نہیں آتے جتنا کہ انہیں ہونا چاہیئے- جہان تک وفاقی سیاسی جماعتوں کا تعلق ہے توپیپلز پارٹی نون لیگ اور اے این پی نے اس شہر کو ہمیشہ غیر کی نظر سے دیکھا ہے اس لیئے ان سے کیا کہا جائے - جے یو آئی اور پی ٹی آئی کو بھی کراچی صرف الیکشن کے ہی وقت یاد آتا ہے- جماعت اسلامی اور جے یوپی البتہ استقامت سے کھڑی رہی ہیں لیکن اس معاملے میں جس قدر جانی و مالی نقصان جماعت اسلامی نے اٹھایا ہے جے یو پی کو شاید اس کا عشر عشیر بھی نہیں اٹھانا پڑا - اس بار یہ سب جماعتیں کراچی کی آبادی کو کم دکھانے کے معاملے پہ اطمینان کی سانسیں لیتی دکھائی دیتی ہیں اور انکی جانب سے کسی قسم کے مؤثر احتجاج کی کوئی صدا بلند ہوتے نہیں سنی گئی ۔۔۔ پیپلز پارٹی نے کسی قدر شور تو کیا ہے لیکن چونکہ سب جانتے ہیں کہ کراچی بلکہ پورے شہری سندھ کے حقوق کی سب سے بڑی غاصب خود پیپلز پارٹی ہے لہٰذا اسکے اس شر پہ کسی نے کان نہیں دھرا-بیشتر کا یہی خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کا واویلا صرف اس بنیاد پہ ہے کہ آبادی کم دکھانے کی وجہ سے صوبے کو کم وسائل میسر آئین گے اور یوں ان کے لوٹ مار کے مواقع بھی کم ہوجائیں گے وگرنہ اس کو کراچی والوں کو کچھ دینے سے نہیں ان سے مسلسل لینے بلکہ نچوڑ ڈالنے سے غرض ہے-

Image result for population of karachi

کراچی کی آبادی کے حقائق کے حوالے سے یہ بات یقینناً بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار کے ساتھ پہلی بڑی ہیرپھیر 1972 کی مردم شماری میں کی گئی اوراسے حاصل ہونے والے حقیقی نتیجہ یعنی 51 لاکھ سے کم کرکے 36 لاکھ کردیا گیا تھا اوراس اہم بات کا انکشاف بھٹو دور کے ہوم سیکریٹری خان محمد جونیجونے ضیاء الحق کے اس وائٹ پیپر کی ضمن میں دیا تھا جسے بھٹو دور کی خرابیوں اور اقدامات کو نمایاں‌کرنے کے لیئے جاری کیا گیا تھا - لیکن ستم ظریفی یہ ہوئی کہ بھٹو صآحب کے خلاف کہی گئی اور تمام باتوں پہ تو فوری آمنا و صدقنا کہ دیا گیا لیکن 1972 میں ملنے والے اصلی نتائج یعنی 51 لاکھ کو بحال نہیں کیا گیا اور جعلسازی سے ظاہر کیئے گئے نتائج کو ہی چلنے دیا گیا اور پھر جب اگلی مردم شماری 1981 میں ہوئی تب کہیں جاکے کراچی کی آبادی 51 لاکھ ظاہر کی گئی یوں‌کراچی کی آبادی جو ہرآٹھ دس برس میں دگنی ہوتی رہی ہے ٹیکنیکل بنیادوں پہ اسے 10 برس کا بریک لگاکے عملا" نصف کرکے رکھدیا گیا - درحقیقت کراچی کی آبادی کے بڑھنے کی شرح باقی سارے ملک کی اوسط شرح یعنی 3 فیصد سالانہ سے کہیں زیادہ رہی ہے کیونکہ دو بندرگاہوں کے حامل ہونے اور سب سے بڑے صنعتی علاقے کے باعث یہ ملک کا سب سے بڑا معاشی مرکز ہے اور یہاں روزگار کے مواقع سارے ملک سے کہیں زیادہ ہیں اور سارے ملک سے لوگ یہاں ہمہ وقتآتے رہتے ہیں-

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عروس البلاد کی شرح نمو کی اوسط باقی ملک کی شرح نمو یعنی 3 فیصد سے کہیں زیادہ رہی ہے یعنی کبھی ڈیڑھ گنا تو کبھی دگنی زیادہ رہی ہے لیکن اگر اعتدال کا رویہ رکھا جائے اور ہنگاموں میں واپس جانے والے افراد کے عنصر کو پیش نظر رکھا جائے اور بجائے پانچ چھ فیصد اضافے کے صرف 4 فیصد اضافے کی کمتر بنیاد پہ بھی سال بہ سال کا مرکب حساب لگا لیا جائے تو 1972 کی مردم شماری کے غائب کردہ مگر اصل نتیجے یعنی 51 لاکھ کی آبادی کی بنیاد پہ بھی اب کراچی کی آبادی 2 کروڑ 97 لاکھ بنتی ہے لیکن اگر جعلی اور گھپلہ کیئے گئے اعداد و شمار یعنی 36 لاکھ کی اساس کے مطابق کراچی کی آبادی بحساب 4 فیصد سالانہ اضافہ چیک کی جائے تو یہ اعداد و شمار دو کروڑ دس لاکھ تک جا پہنچتے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ یہ ڈیڑھ کروڑ والا نتیجہ کہاں سے نکال لیا گیا ؟؟ بہتر ہے کہ آخر میں ان جوابات کا تجزیہ بھی کر لیا جائے کہ جو کراچی کی آبادی کے کم ہوجانے کے حق میں دیئے جارہے ہیں-

سب سے پہلے تو یہ کہا جارہا ہے کہ کراچی میں ہونے والے ہنگاموں اور پرتشدد واقعات کے سبب بہت سے لوگ واپس چلے گئے ہیں اس لیئے آبادی کم ہوگئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ انہی تین دہائیوں ہی میں کراچی کے نئے رہائشی علاقوں کی فہرست میں بیشمار نئی بستیوں کا اضافہ ہوا ہے اور کئی نہایت بڑی بڑی نئی بستیاں قائم ہوئی ہیں جیسے کہ سرجانی ٹاؤن ، میٹروول ،گلزار ہجری، ریلوے کالونی گلشن اقبال کی ہاؤسنگسوسائیٹیز ، ملیر سے اسٹیل مل تک کئی نئی رہائشی اسکیمیں۔ سائٹ کے ،متعدد علاقوں میں نئی بستیاں اور اورنگی ٹاؤن کی نصف آبادی اور حب کو جانتے والے رستے پہ متعدد ہاؤسنگ اسکیمیں ، سہراب گوٹھ سے آگے گلشن کنیز فاطمہ ، کوئٹہ ٹاؤن ، تیئسرٹاؤن ، خدا کی بستی ، بائے پاس کالونی ، مشرف کالونی اور آخر میں بحریہ ٹاؤن وغیرہ ۔۔۔ یہ بستیاں درحقیقت پرانے والے کراچی کی آبادی کو تقریباً دگنا کرچکی ہیں تو سوال یہ ہے کہ آخر ان بستیوں میں بسنے والے کیا انسان نہیں کوئی بھوت پریت وغیرہ ہیں اورکہاں سے آئے ہیں یا یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب کسی اور سیارے یا خلاء سے آئے ہیں۔۔۔؟؟

سیدھی سی بات یہ ہے کہ اس عرصے میں کراچی سے جانے والوں کا تناسب یہاں آنے والوں کے مقابلے میں یعنی آبادی کے اضافے کے تناسب کے مقابلے میں پھر بھی بہت کم تھا کیونکہ اسی عرصے میں پورے ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں زبردست اضافہ ہوا اورپہلے مرحلے میں تو بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد وہاں سے بہت بڑی تعداد میں دیگر زبانیں بولنے نقل مکانی کرکے نزدیکی صوبے میں بالخصوص کراچی چلے آئے اسی طرح وقتاً فوقتاً پختونخواہ ، گلگت ، پارہ چنار اور قبائلی علاقوں میں تشدد اور تخریبی سرگرمیوں کے اضافے سے بھی وہاں کے لوگوں کی بڑی تعداد نے گھبرا کے روزگار کے اس سب سے بڑے مرکز کا رخ کیا کیونکہ ان تمام علاقوں یں جو تباہی اور ہلاکتیں ہوئیں وہ کراچی سے بدرجہا اور کئی گنا زیادہ تھیں جنکی وجہ سے بہت بڑی تعداد یہاں آنے پہ مجبور ہوئی - ان سارے برسر زمین حقائق کو روند کے آگے بڑھ جانے اور آبادی کے ان اعداد و شمار پہ اصرار کرنے سے یہ مسئلہ اور گھمبیر تر ہوجائے گا اور ایک ایسی آتشیں صورتحال پیدا ہوجائے گی کہ اس سے لندن میں اپنے آقاؤں کی گود میں بیٹھے الطاف حسین جیسے تخریب کاروں کی لاٹری کھل جائے گی ۔۔۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ کراچی کے اس اہم اور سنگین ترین مسئلے کو کراچی سے ووٹ لیتے رہنے والے گروپوں نے بھی خاطر خواہ سنجیدگی سے نہیں لیا ہے اور اب تک کسی جانب سے بھی کسی قابل توجہ احتجاج کی کوئی صورت نہیں بن سکی ہے ۔۔۔ یہ لوگ یا تو ڈرپوک ہیں یا پھر منافق ، بہر طور ان کی خاموشی کے نتیجے میں اب خاکم بدہن کراچی کی سیاست میں ملک سے علیحدگی کی باتیں کرنے والے ملک دشمن عناصر کے لیئے خود بخود راہیں ہموار ہوتی نظر آرہی ہیں-


arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *