بلاوا 

mehmood-asghar-chaudhry

’’ آپ کا حج کا ویزہ مسترد ہوگیا ہے ‘‘۔ میرے لئے یہ خبر پریشان کن سے زیادہ حیران کن تھی ۔ کیونکہ میں اس زعم میں مبتلا تھا کہ یہ جو جملے میں بچپن سے سنتے آرہا ہوں کہ ’’بلاوا آئے تو ہی جایا جا سکتا ہے ‘‘ یہ سب جذباتی باتیں ہیں ۔ اصل میں اتنے سال یورپ میں رہائش نے مجھے معجزاتی ، جذباتی اور کراماتی باتوں کی بجائے حقائق پرستی کی طرف راغب کیا ہے میرا اپنا خیال یہی تھا کہ اگر زاد راہ آپ کی جیب میں ہو ۔ پاسپورٹ پاس ہو تو آپ کسی بھی ملک جا سکتے ہیں ۔ پھر اٹلی کا پاسپورٹ جو دنیا بھر کے طاقتور پاسپورٹس میں تیسرے نمبر پر آتا ہے اسے بھلا دنیا کے کسی بھی ملک میں جانے سے کون روک سکے گا ۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ویزہ کسی سیر سپاٹے کا نہیں تھا ۔بلکہ رانجھن کی اس جھوک کاتھا جس میں جانے کے لئے بچپن سے انسان خواب دیکھتا ہے ۔ مسجدوں میں کھڑے ہوکر دعائیں مانگتا ہے ۔ نعتیں پڑھتا ہے جس کے لئے ہر مسلمان وصال یار کی خواہش میں آنسو بہاتا ہے ۔
اہل علم بتاتے ہیں کہ حج کا مطلب ہی ’’ارادہ ‘‘کے ہیں توکیسے ممکن تھا کہ جس سے ملاقات کرنے جانا تھی وہ کسی ایسے بندے کو اپنے ملک آنے کی اجازت دے دیتا جس کا ارادہ حج کا نہیں تھا۔میرا حج کا ارادہ نہیں تھا۔میری بیوی نے کہا کہ وہ حج کرنا چاہتی ہے۔ چونکہ وہ محرم کے بغیراکیلی جا نہیں سکتی تھی اس لئے مجھے محرم کا فرض نبھانے کے لئے اس کے ساتھ جانا تھا ۔ میرا حج کا ارادہ کیوں نہیں تھا ؟اس کی وجہ یہ ہے کہ حج کے بارے میں عمومی طور پر ہمارے ذہن میں بچپن سے یہ خیال بٹھا دیا جاتا ہے کہ یہ اس وقت کرنا چاہیے جب سارے پاپ کر بیٹھیں ۔ حج کو ہم مذہبی فریضہ کم اور اپنے گناہوں کی پوشاک دھونے والا عمل زیادہ سمجھتے ہیں۔میرا خیال تھا کہ ابھی تو مجھے بہت سے گناہ کر نے ہیں ۔ دنیا داری کی ساری رسمیں نبھانی ہیں ابھی سے میں حاجی بابا کالیبل کیوں لگوا لوں کہ لوگ میرے ہر عمل پر انگلی اٹھانا شروع کردیں اور چھوٹی چھوٹی خطاؤں پربھی طعنوں کی تلوار لیکر کھڑے ہوجائیں ۔لیکن جب مجھے میرے دوست جاوید رانجھا نے سمجھایا کہ حج کوئی اتنی بھاری چیز نہیں ہے جس کو ادا کرنے سے پہلے کوئی خاص اہتمام کرنا پڑتا ہے بلکہ اس کوایک مذہبی فرض سمجھ کر پہلی فرصت میں ہی ادا کر دینا چاہئے ۔تو میں نے اس بات پر تحقیق شروع کی تو پتہ چلا کہ اہل علم کا خیال ہے کہ اگر آپ صاحب استطاعت ہوئے تو والدین کو بھی حج کروانے سے پہلے آپ پر لازم ہے کہ آپ حج خود کریں کیونکہ حج ان پرنہیں بلکہ آپ پر فرض ہوا ہے ۔
اب ارادہ کر لیا تو خیال یہی تھا کہ کسی ٹور آپریٹر کو ٹکٹ کے پیسے دیں گے اور ویزہ لگوا کر سعودی عرب پہنچ جائیں گے ۔ لیکن وہ جس سے ملاقات کرنے جانا تھا ۔جس کا مہمان بننا تھا ۔

Image result for Hajj

جس کے در پر حاضری دینی تھی ۔ جس کی ملن کے انتظار میں ہزار سجدے میری پیشانی میں تڑپ رہے تھے ۔ وہ جس کے سامنے میں اپنے آپ کو سرنڈر کر کے کھڑا ہوتا ہوں۔ وہ جس سے میں تنہائی میں باتیں کرتا ہوں ۔ وہ جو مجھے اس وقت زیادہ واضح نظر آتا ہے جس وقت کوئی نظر نہیں آتا ۔ وہ جس سے وفا کا درس میرے والدین نے میری پیدائش کے چند منٹوں کے اندر اندراذان کی صورت میں میرے کانوں میں انڈیل دیا تھا ۔ وہ بغیر ارادے، بغیرتشنگی ملاقات ، مجھے کیسے اپنی ’’کلیُ کی طرف آنے دے سکتا تھا ۔ کیسے وہ اپنے دروازے میرے لئے کھول سکتا تھا ۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ میں جھولی پھیلاتا بھی نہ ۔ اس سے ملن کی آس جگاتا بھی نہ ۔ اسے صدا لگاتا بھی نہ تو وہ مجھے اپنے گھر میں خوش آمدید کہہ دیتا ۔ اس نے اپنا بلاوہ روک لیا ، اس نے سنہیڑا بھیجنے سے انکار کر دیا ، اس نے سندیسا محفوظ کر لیا ۔
بلاوا کیوں ضروری ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لئے تلبیہ کو جاننا بہت ضروری ہے ۔ جب حاجی اس کے در پر حاضری دیتے ہیں تو بلند آواز سے لبیک کہتے ہیں ۔ دانش کہتی ہے لبیک تو اسی کو کہا جا سکتا ہے جو پکارے ، آواز دے یا بلائے ۔ بلاوے کے بغیر کیسے ممکن ہے کہ کوئی یوں ہی کہہ دے کہ’’ ہاں میں حاضر ہوں‘‘ ۔ بچپن میں سکول میں پکی پہلی میں داخلہ لیا تو اس وقت رواج تھا کہ ماسٹر صاحب رول نمبر پکارتے تھے اور ہم سب جواب میں کہتے تھے ’’حاضر جناب ‘‘۔ تھوڑے بڑے ہوئے توچھٹی میں فارسی کی بجائے عربی زبان سکولوں کے نصاب میں آچکی تھی اس لئے ’’حاضر جناب ‘‘ کی بجائے ماسٹر صاحب نے ’’لبیک ‘‘ کہنے کا حکم نامہ جاری کیا ۔ اتنے سالوں بعد یہ بات سمجھ آئی کہ کلاس میں جب تک استاد رول نمبر یا نام نہیں پکارتے تھے اس وقت تک ہم سب لبیک نہیں کہہ سکتے ۔ کلاسیں بہت بڑی تھیں ستر ستر بچے ایک کلاس میں ہوتے تھے تو کبھی کبھی غیر حاضر بچے دوسرے کو کہہ دیتے تھے یار میری حاضری لگوا دینا ۔ تو اس کی آواز نکال کراس کا دوست ’’لبیک ‘‘ کہہ دیتا تھا لیکن اس میں بہت بڑا رسک تھا کہ بعض ماسٹر صاحب بچوں کی گنتی کرتے تھے گنتی میں حاضری کم ہونے کی صورت میں پھر پوری کلاس کو سز ادے سکتے تھے ۔اتنے سالوں بعد سمجھ آئی کہ کہ جسے پکارا جائے جسے بلا یا جائے صرف اسے ہی لبیک کہنے کا حق ہے
بلاوے کی بھی سمجھ آگئی اور ارادے کی بھی ۔ اب مسئلہ تھا اس کو منانے کا ۔ اسے بتانے کا کہ ہاں اے میرے اللہ میں تیرے گھر آنا چاہتا ہوں ۔ تجھ سے ملنا چاہتا ہوں ۔ کیا تو مجھے بلائے گا نہیں ، کیا تو سندیسہ نہیں بھیجے گا ۔ ٹورآپریٹر کو دوبارہ ویزہ اپلائی کرنے کا کہا ۔ اور خود ایک بزرگ کے مشورے پر سورہ فتح کی ستائیسویں آیت کا ورد کرنا شروع کر دیا ۔آیت ہے ’’ بے شک اللہ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو تم امن کے ساتھ مسجد حرام میں ضرور داخل ہو گے اپنے سر منڈاتے ہوئے اور بال کتراتے ہوئے بے خوف و خطر ہوں گے پس جس بات کو تم نہ جانتے تھے اس نے اسے جان لیا تھا پھر اس نے اس سے پہلے ہی ایک فتح بہت جلدی کر دی ‘‘
خود کو سراپا عجز بنایا ۔ اپنی جھولی کو پھیلایا ، ارادے کی آگ روشن کی اور سراپا سوال ہو کر کہا ’’اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کئے ۔ میں نے خود کو گناہوں کی دلدل میں ڈبوئے رکھا ۔ اے اللہ میں حقیقت پسندی کی جانب متوجہ ہوتے ہوئے تیری رحمت سے دور ہو گیا تھا ۔ میں جانتا ہوں کہ میرا ارادہ مصمم نہیں تھا ۔ میری تڑپ سچی نہیں تھی ۔ میری لگن میں کھوٹ تھی ۔ انتظا ر کی خو نہیں تھی ۔ تیری تانگ جگاتی نہیں تھی۔ میں جانتا ہوں کہ میری خواہش میں ملاوٹ ہے ،۔ جانتا ہوں کہ حج کو بھی میں ایک فریضہ سمجھ کر تیاری کر بیٹھا ۔ جانتا ہوں وہاں تیرے گھر میں وہ کعبہ ہے جو انہی کو دیکھنا نصیب ہوتا ہے جن کی آنکھوں میں اسے دیکھنے کی شدت بے تابی اختیار کرتی ہے ، جانتا ہوں کہ تیری جھوک میں اس محبوب ﷺ کا در بھی ہے جس کے در کی حاضر ی کے لئے میری آنکھیں چھلکتی ہیں لیکن یہ سو چ کر خاموش ہوجاتی ہیں کہ یہ اس قابل نہیں کہ اسے دیکھ سکیں لیکن اے اللہ تو چاہے تو میرے گناہوں پر لکیر کھینچ سکتا ہے ، تو چاہے تو غلاف کعبہ کی روشنائی سے ان کی گندگی دھو سکتا ہے تو چاہے تو مجھے اس قابل بنا سکتا ہے کہ میں اسکے دروازے پر کھڑا ہوکر سلام عرض کر سکتا ہوں ۔
اے اللہ کیا تو مجھے دنیا بھر میں شرمندہ کر ے گا ۔ اے اللہ کیا لوگ میرا مذاق نہیں اڑائیں گے کہ خدا سے ملن کی باتیں کر رہا تھا ، کیا اس طرح لوگوں کے سامنے میرے عیب عیاں نہیں ہو جائیں گے ۔ کیا میری خطائیں لوگوں پر واضح نہیں ہو جائیں گی ، کیالوگ یہ نہیں کہیں گے دیکھا اس کی منظوری نہیں تھی ۔ کیا لوگ مجھے بد نصیب نہیں کہیں گے ۔ اے اللہ میرے گناہ سمندر کے پانیوں سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں تو کیا تیری رحمت ہر چیز پر حاوی نہیں ہے کیا تو نے نہیں کہا کہ ’’اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو ‘‘ کیا تو نے نہیں کہا ’’کہ اے حبیب ﷺاگر یہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو تیرے پاس آجائیں ‘‘ اے اللہ اگر تو نے یہ سب کہا ہے تو پھر مجھے موقع بھی دے حاضری کا ۔

رانجھن یار طبیب سْنیدا ۔۔۔۔۔ مین تن درد ، اولے
کہے حسین فقیر نمانا۔۔۔ سائیں سنیہوڑے گھلے
ایک رانجھن نام کے طبیب کی مشہوری سنی ہے ۔۔۔۔ میرے جسم میں بھی عجیب و غریب درد ہیں
بے چارا حسین کہتا ہے ، کہ اب سائیں (مالک) بلاوا بھیجے...

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *