میں جانا لاہور 

ahmed-saeed

میں سینکڑ وں مرتبہ لاہور جا چکا ہوں ،پر اب بھی مجھے لاہور پہنچنا ہو تو میں ’’ٹھو کر نیاز بیگ‘‘ تک ہی پہنچ پاتا ہوں ۔باقی کا سفر پوچھتے پوچھاتے ہی طے پاتا ہے۔ لاہو بڑے بھائی کی طرف جانا ہو تو میں اُن کی کالونی سے اگلی یا پچھلی کالونی میں بھٹکتا پھرتا ہوں ،پھر امی جان اور بیگم ’’جان ‘‘ کو بار بار کہتا ہوں کہ پچھلی بار تو گھر یہیں کہیں تھا ۔تھک ہار کر بھائی کو فون ملایا جاتا ہے، وہ اچھی طرح سمجھا بجا کر آخر میں تاریخی جملہ کہتے ہیں کہ یار ادھر ہی رکو ،میں خود لینے آتا ہوں ۔وہ فقط لینے ہی نہیں آتے بلکہ جب واپس جانے لگتے ہیں تو کسی ایسی روڈ پر چڑھا کے بھی آتے ہیں ،جہاں سے کسی حد تک ٹھوکر نیاز بیگ تک ہم رسائی حاصل کر سکیں ۔
آپ یہ نہ سمجھیں کہ ٹھو کر نیاز بیگ کا علاقہ مجھے بالکل یاد ہے ،وہ تو موٹر وے سے وہاں اترتے ہیں اور ہم بھی آرام سے اتر جاتے ہیں ۔بس وہاں سے’’ نہرو نہر‘‘ ناک کی سیدھ میں جہاں تک سڑک جاتی ہے جا سکتے ہیں، کہیں دائیں یابائیں مُڑے نہیں تو "اب کے ہم مُڑ گئے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں گے "
لاہور تو لاہورکئی مرتبہ فیصل آباد کے کئی علاقوں میں ذرا دیر سے جانے کا اتفاق ہو تو میں اپنے قریبی شاعروں سے پوچھ رہا ہوتا ہوں کہ یہ یہاں کوئی نیاعلاقہ بنا ہے ؟ وہ مجھ سے پوچھنے لگتے ہیں کہ تم کہاں رہتے رہے ہو؟ میں بھی ایک مرتبہ شروع سے ہی شروع ہو گیا انھیں بتانے کہ جلندھر اور ہشیار پور ۔کہنے لگے، ’’ ایڈا توں ہُشیا ر رہندا نہیں‘‘۔

Image result for lahoreبچپن میں ابا جی کے ساتھ لاہور جایا کرتے تھے ،تھوڑا بڑے ہوئے تو دوستوں کے ساتھ جانا شروع کر دیا ۔اب عرصہ دراز سے فقط بیگم کیساتھ جارہا ہوں ۔لاہور میں بڑے بھائی ،چچا جان ،بہت سے دوست اور تو اور بیگم کی بہن تک وہاں موجود ہے۔
لاہور کی بہت سی خوبصورت یادیں ہیں اِن میں سے ایک خوبصورت یاد آپ کو بتاتا، لیکن ابھی وہ یاد نہہیں آرہی ،آپ کو یاد آئے تو مجھے ضرور بتایئے گا ۔
۲۰۱۵ میں لاہور سے میری کتاب ’’بلاوجہ‘‘چھپ رہی تھی تو مجھے لاہوربار بار جانے کا اتفاق ہوا، جس سے لاہور کے بہت سے راستے مجھے زبانی یاد ہو گئے (اُن راستوں کے فقط نام ہی زبانی یاد ہوئے ہیں)۔انہی دنوں کی بات ہے کہ مجھے ایک دن سخت بھوک لگی ، ویسے جتنے دن بھی کتاب کے سلسلے میں لاہور آیا ،سخت بھوک ہی لگی۔لیکن باقی دنوں میں کوئی یار سجن ہتھے چڑھ جاتا تھا ،پراُس دن تو اپنے ہی ’’پلے‘‘ سے کھانا پڑا۔میں نے فیصل آباد ایک دوست کو فون کیا جو اُردو بازار آتا رہتا ہے ۔اُس سے کہا، یار کھانا کہاں سے اچھا ملے گا اُردو بازار میں ۔کہنے لگا کہ مجھے تو یہاں قریب جنگی بریانی پسند ہے۔ میں تو پہلے بریانی کا نام سُن کر ہی گبھرا گیا ،خیر کسی سے پوچھا کہ پیدل جایا جا سکتا ہے؟وہ بھائی صاحب کہنے لگے کہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ کوئی رکشہ وغیرہ لے لیں۔ رکشے والے سے پوچھا ۔وہ کہنے لگا کہ سو روپے لوں گا ۔دِ ل نے کہا ،پہلے رکشے والے کو سو، پھر بریانی والے کودو سو ، واپسی پہ رکشے والے کو پھر سو ۔بریانی واقعی جنگی لگ رہی تھی ۔ میں نے بھی ہوا میں تیر چلایا کہ یہ ساتھ تو ہے ۔ رکشہ ولا یہ بات سُن کر ہکّا بکّا رہ گیا ۔میں اس کی یہ حالت دیکھ کر ہکّا بکّا رہ گیا ،مجھے لگا کہ’’ رکشے میں کچھ کالا ہے‘‘۔میں نے اِرد گرد کوئی سُلجھا ہوا شخص ڈھونڈنا شروع کر دیا ۔ ایک شخص نے بتایا کہ بالکل ساتھ ہی ہے ، پیدل پانچ ساتھ منٹ لگیں گے۔ میں پیدل دس منٹ کے اندر اندرجنگی بریانی پہنچ گیا ، اور جنگ و جنگی ہو پڑا بریانی پر ۔لاہور میں اکثر بریانی پائے نہاری کی دکانون پہ ریٹ لسٹ نہیں لگی ہوتی ،پھر کسی دوسرے شہر سے آیا ہوا شخص اُن کھانوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے، یعنی کھانوں کا بِل جب سامنے آتا ہے تو اُس کے طوطے ہی نہیں سارے پیسے بھی اُڑ جاتے ہیں ،پھر اُس شخص کو انور مسعود کا یہ شعر یاد آتا ہو گا کہ
روٹی شوٹی کھا بیٹھے آں

سوچی پئے آں ہن کی کرئیے
اب آپ یہ مت سمجھیں کہ میرے ساتھ بھی جنگی بریانی پہ ایسا ہی کچھ ہوا ہوگا۔ یقین کریں کہ انھوں نے تو بریانی کے بعد تھوڑا سا زردہ بھی دیا ، زیادہ دیتے تو پوری تحریر ہی اُن پہ لکھ دیتا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *