اپنے بچوں کو فوجی افسر بنائیے !

riayat ullah farooqi
1935ء میں میرے گاؤں میں ایک آدمی پیدا ہوا جس کا نام محمد عالم تھا۔ جی ہاں ! میرے والد محمد عالم مرحوم، وہ شعور اور غلامی دونوں سے ایک ہی آن میں آشنا ہوئے تھے۔ شعور نیا تھا مگر غلامی پرانی۔ برٹش راج کی غلامی ! لیکن ابھی ٹین ایجر ہی تھے کہ 1947ء میں بظاہر غلامی کا خاتمہ ہوگیا۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں خوشی انہوں نے بھی منائی ہوگی لیکن ابھی 25 سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ پاکستان میں ملٹری تسلط کا آغاز ہوگیا۔ نابالغ سے پاکستان میں کسی کو سمجھ ہی نہ آیا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔ یہ کنفیوژن ابھی جاری تھی کہ ایوب اور یحی کی ڈکٹیٹرشپ کے سنگم پر میری پیدائش ہوگئی۔ وہ ادھیڑ عمر ہوئے تو مجھ پر بلوغ کا وقت آگیا، بھٹو دور کی ہنگامہ خیزی اور جنرل ضیاء کی آمد اسی کچی عمر میں دیکھی۔ میں جوان ہوا تو وہ بوڑھے ہوگئے۔ حقوق کبھی ان کو ملے تھے اور نہ وہ مجھے کہیں نظر آرہے تھے۔
Image result for marshal law in pakistan
غلاموں کے حقوق ہوتے ہی کہاں ہیں ؟ ضیاء کا دور ختم ہوا تو بینظیر کی وہ مجبور سی جمہوریت آگئی جس میں وزیر خارجہ تک انہیں اپنا رکھنے کا حق نہ تھا۔ جو اپنی مرضی کا وزیر خارجہ نہیں رکھ سکتی تھی وہ اپنی مرضی کی پالیسیاں کیا بناتی۔ اسی دوران ایک شخص اور پیدا ہو گیا۔ یہ میرا پہلا بیٹا اور میرے والد کا پہلا پوتا صلاح الدین تھا۔ اب غلاموں کی تین کڑیاں موجود تھیں۔ بینظیر اور نواز شریف کی دو دو حکومتیں ہمارے آقاؤں نے ختم کردیں کہ کہیں ان آقاؤں کی گرفت کمزور نہ پڑ جائے۔ میں 35 سال کا ہوا تو میرے والد کی سانسوں کا کوٹہ پورا ہوگیا۔ اور یہ وہ وقت تھا جب ملک پر ایک بار پھر فوج کا براہ راست راج تھا۔ ایک بار پھر نام نہاد جد و جہد ہوئی، ایک بار پھر کتا رخصت ہوا۔ لیکن یار ہم کس قدر بیوقوف قوم ہیں کہ ایوان صدر خالی ہونے کا مطلب یہ لے لیتے ہیں کہ ملک فوجی تسلط سے آزاد ہوگیا۔ ملک آزاد نہیں ہوتا، بس فوجی تسلط کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ ہم بدستور غلام ہی رہتے ہیں۔ آج میری عمر 48 سال ہے، میرے والد کو گزرے 13 سال ہوگئے اور صلاح الدین 25 سال کا ہے۔ یہ 1935ء سے 2017ء تک ایک گھر کی تین نسلوں کی وہ کہانی ہے جس میں غلامی کا سفر بدستور جاری ہے۔ 1947ء میں ہماری غلامی کی نوعیت بدلی، آزاد صرف جرنیل ہوئے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے غلام نہ رہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں، یا تو خیالات کے اظہار کی صورت مزاحمت کیجئے یا پھر اپنے بچوں کو فوجی افسر بنائے کہ آزاد اس ملک میں صرف فوجی افسر ہوتا ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *