قبض کی وجوہات اور علاج

قبض اک ایسی بیماری ہے جسے اُم الامراض یعنی بیماریوں کی ماں کہا جاتا ہے۔آج اِس بیماری میں ہر چوتھا فرد مبتلا ہے۔ اگر اجابت معمول کے مطابق نہ آئے ،تھوڑی تھوڑی ہو یا دوسرے تیسرے روز آئے تو یہ قبض کہلاتا ہے۔ باقاعدہ اجابت نہ ہونے سے طبیعت میں بھاری پن رہتا ہے اور بھوک بھی کم لگتی ہے، کیونکہ جب آنتوں میں پہلے سے جگہ موجود نہ ہوتو نئی غذا کا داخل ہونا ممکن نہیں ہوتا اور جب غذا اندر نہ جائے تو توانائی میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ عضلات میں اگر کمزوری ہوتو یہ بھی قبض کا باعث ہے۔ بعض اوقات کچھ پسندیدہ کھانا ملنے پر ضرورت سے زیادہ کھا لینے سے بھی بد ہضمی اور قبض جیسی شکایات ہوجاتی ہیں، تاہم اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو بیماری شدت اختیار کرسکتی ہے۔ بعض افراد رات کا کھانا نہیں کھاتے اور صبح تک بھوکے رہتے ہیں اتنا لمبے وقت تک اگر جسم میں کچھ نہ جائے تو خون میں مٹھاس کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور پھر غذا کو آگے بڑھانے والا عنصر نہ ہونے کی وجہ سے قبض کی بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔بہت سے افراد مرغ مسلم اورتلی ہوئی چٹ پٹی اشیاء کھانے کو ترجیح دیتے ہیں جو قبض کا سبب بنتی ہیں۔کھاناکھانے کے بعد مسلسل بیٹھے رہنے سے بھی قبض و بواسیرکی شکایات پیداہوجاتی ہیں۔

قبض کے علاج کے سلسلے میں سب سے اہم چیز غذا ہے۔ قبض کے پرانے مریضوں کو وقت پر کھانا کھانا چاہیے۔ انھیں چاہیے کہ سبزیوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں اورنہار منہ کم ازکم چار گلاس پانی پینا چاہیے۔آٹا بغیر چھنا استعمال کریں کیونکہ آٹے کا چھان پرانی قبض اور ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بہترین دوا ہے۔اس میں ریشے کے علاوہ وٹامن ب پایا جاتا ہے جو عضلات کے لیے مقوی ہے اور جسم میں طاقت کا باعث بنتا ہے۔

قبض کا ایک اہم علاج حاجت کے اوقات کا تعین بھی ہے۔ صبح اٹھ کر کچھ کھانے کے بعد ایک مقررہ وقت پر بیت الخلا جانا چاہیے۔ بلکہ اگر حاجت نہ ہوتب بھی جائیں اس طرح وقت پر حاجت ہونے کی عادت بن جاتی ہے مگر خالی پیٹ نہ جائیں ضرور کچھ نہ کچھ کھاکر جائیں۔ رات کا کھانا ضرور کھائیں، رات کو کھانے اور سونے کے درمیان کم ازکم تین گھنٹے کا وقفہ ہوناچاہیے اور اس وقفے کے درمیان پانچ سو قدم چلنے سے آنتوں میں توانائی پیدا ہوتی ہے جس کے نتیجے میں اگلے دن اجابت اطمینان سے ہوتی ہے۔ نہار منہ شہد کا استعمال بھی اپنی عادت بنالیں اور ہرے پتوں والی سبزیاں استعمال کریں۔

پیٹ کی بیماریوں میں جو کا دلیہ بھی بہت مفید ہے۔ یہ پیٹ میں جاکر پھولتا ہے اور آنتوں میں بوجھ کی کیفیت پیدا کرکے اجابت کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ جو میں لحمیات کے اجزا پائے جاتے ہیں جو جسم کو توانائی مہیا کرتے ہیں ۔ اگر کسی کو کمزوری کی وجہ سے قبض محسوس ہورہی ہو تو جو کھانے سے اس سے نجات مل سکتی ہے۔ اسی طرح انجیر قبض دور کرتی ہے، جگر کے لیے مسلح ہے اور خون کی نالیوں میں دورانِ خون کو درست کرتی ہے۔انجیر کی ساخت میں موجود چھوٹے چھوٹے دانے پیٹ میں جاکرپھول جاتے ہیں۔ ان کا اسبغول کی مانند پھولنا بھی قبض کو دور کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

بہرحال قبض کے بارے میں ماہرین کی تازہ رائے کے مطابق اس کا علاج دواؤں کے بجائے ریشہ دار غذاؤں پھل اور سبزیوں سے کیا جائے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قبض کے علاج میں جو ارشادات فرمائے ہیں سائنس اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی اس کے برابر نہ آسکی۔ ان کے اہم نکات کا خلاصہ یہ ہے۔

*کھانا وقت پر کھایا جائے۔
*رات کے کھانے کے بعد جلدی نہ سویا جائے اور پیدل چلاجائے۔
*کھانے سے پہلے تربوز یا خربوزہ پیٹ کو صاف کرتا ہے۔
*ناشتے میں جو کا دلیا آنتوں کو صاف کرتا ہے۔
*آٹا چھان کر نہ پکائیں۔کیونکہ اس کی بھوسی قبض اور دل کا علاج ہے۔
*خشک انجیر کے دو تین دانے ہر کھانے کے بعد کھانے سے نہ صرف قبض ختم ہوتی ہے بلکہ یہ بواسیر کا علاج بھی ہے۔
قبض کے سلسلے میں کچھ احتیاطی تدابیر اور طریقۂ علاج پیش کیے جارہے ہیں جس پر مستقل عمل کرکے اس مرض سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔
*رات کو سونے سے پہلے ایک گلاس نیم گرم پانی پئیں۔
*اسبغول کا چھلکا پانی یا دودھ کے ساتھ لیں۔
*آڑو ،امرود اورانگور روزانہ کھائیں۔
*اخروٹ قبض کی صورت میں فوری آرام پہنچانے کا ذریعہ ہے یہ معدے میں پہنچ کر فضلہ میں حرکت پیدا کرکے اسے آگے کی طرف دھکیلتا ہے۔
*السی کے بیج میں وافر مقدار میں ریشہ موجود ہوتا ہے۔ آدھا گلاس نیم گرم پانی میں چند قطرے لیموں اور ایک چائے کا چمچ شہد ملا کر روزانہ پئیں۔
*ثابت اسبغول اور سرسوں کے بیج ہم وزن لے کر صبح شام چھوٹا چائے والاچمچ استعمال کریں قبض اور بواسیر سے نجات ملے گی۔
*چند قطرے روغن بادام ایک گلاس نیم گرم دودھ میں رات کو سونے سے پہلے لیں۔
*چھلکے والی دالیں کھائیں گوشت اور انڈے کم استعمال کریں۔
*ناشتے میں ایسی چیزیں شامل کریں جن میں ریشہ (فائبر) کافی مقدار میں موجود ہو۔ جیسے کارن فلیکس، دودھ، لوبیا، پھلیاں، خوبانی، انجیر، ناشپاتی،آلوبخارا، جو اور مکئی۔ ان سب میں ریشہ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔یہ آپ کے ناشتے میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔

ان تمام تر کوششوں اور علاج کے باوجود اگرقبض دور نہ ہورہی ہو یا اس کے ساتھ درد، سوزش یا بخار ہوتو ایسے میں آنتوں میں رکاوٹ یااپینڈکس کا شبہ ہوسکتا ہے۔ جس کے لیے خود علاج کرنے کے بجائے کسی مستند معالج سے رجوع کرنا چاہیے کہ یہ خطرناک بیماری بھی ہوسکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *