قائد اعظم !کہاں ہیرو ، کہاں زیرو؟

naeem-baloch1

اگر آپ اپنے پسندید ہ مذہبی یا سیاسی رہنما میں ڈھونڈے سے بھی کوئی غلطی نہیں پاتے تو سمجھ لیں کہ آپ کا اپنا شمار ان لوگوں میں ہو سکتا ہے جو رہنماؤں کے بارے میں یہ رائے رکھتے ہیں کہ وہ فرشتے ہوتے ہیں یا شیطان ، انسان ہرگز نہیں ۔ اس صورت میں براہ کرم اس تحریر کو پڑھنے کی مشقت ہرگز نہ کیجیے ، یہ آپ کو بدمزہ کردے گی۔
معاملہ یہ ہے کہ جن معاملات کو لے کر قائداعظم محمد علی جناح پر تنقید کی جاتی ہے ، ہمار ے نزدیک وہ ان کی شخصیت اور بطور رہنما انتہانی قابلِ رشک اور قابل عمل امور ہیں اور جن باتوں کو عام طور پر ان کی خوبی گردانا جاتا ہے، ہمارے خیال میں اسے ایک دوسری نظر سے دیکھنا چاہیے۔
اجمال اس تفصیل کی یوں ہے کہ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ برصغیر ہی میں نہیں بلکہ جہاں جہاں استعماریت (Colonialism)سے قوموں نے آزادی کی تحریکیں چلائیں، وہاں رہنماؤں کے بارے میں یہ طے کر لیا گیا کہ حقیقی اور مخلص لیڈرکہلانے کے وہی مستحق ہیں جنھوں نے استعمار یعنی غاصب حکومت سے ٹکر لی ہو۔ ان کے قانون کے برخلاف معاملہ کیا ہو۔ ان کا جسمانی ظلم و ستم سہتے ہوئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہوں۔ چنانچہ ہندوستان میں مذہبی قیادت ہو یا غیر مذہبی ، مسلم قیادت ہو یا غیر مسلم ،سبھی جیل گئے، تشدد برداشت کیا، اس میں نہ موہن داس کرم چند گاندھی اور نہرو کا استثنا ہے اورنہ مولانا محمد علی جوہر یا عطاء اللہ شاہ بخاری کا ،سبھی انگریز حکومت کے مجرم قرار پائے اورجیل بھی گئے۔ لیکن قائداعظم محمد علی جناح ان گنے چنے رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنھوں نے پاکستان کے حصول میں کلیدی کردار بھی ادا کیا اور انگریز حکومت کے بنائے ہوئے قانون کے خلاف ایک قدم بھی نہ اٹھایا۔ حکومت پر جتنی تنقیدات کیں ، قانون ضابطے کے اندر رہ کر کیں۔ ان پر انگریز حکومت کوئی مقدمہ قائم نہ کر سکی۔ اس پر عموماً تنقید کی جانی ہے اور اس کو بنیاد بنا کر یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ قائداعظم بھی سرسید احمدخاں کی طرح ’’پروبرٹش ‘‘ یعنی انگریز کے پروردہ تھے ۔ حالانکہ قائد اعظم کا یہ پورا سیاسی سفر اس بات کی دعوت دے رہا ہے کہ قانون شکنی کوئی قابل فخر چیز نہیں۔ اگر آپ نے ایک ملک کے سیاسی قانون کو قبول کیاہوا ہے ، چاہے خوشی سے یا مجبوری سے ، تو پھر یہ آپ کا اخلاقی ، مذہبی اور قانونی فریضہ ہے کہ اس کے اندر رہ کر کام کیا جائے۔ آپ اس قانون کے خلاف احتجاج بھی کریں،چاہے اس کی بنیاد ہی کو ختم کرنا چاہیں توپھر بھی اسی میں سے راستہ نکالیں اور انھوں نے ایسا ہی کیا اور ثابت کیا انگریزی حکومت کے اندر رہتے ہوئے بھی کامیاب جدوجہد جا سکتی ہے، انھوں نے مسلم لیگ کی قیادت کے تحت الیکشن میں سو فیصد کامیابی حاصل کی اور برطانیہ کو مجبور کیا وہ ہندستان کو تقسیم کر کے یہاں سے جائیں ۔ افسوس کہ ہمارے اندر کے ’’سلطانہ ڈاکو‘‘ اور’’ اسامہ بن لادن‘‘ نے قائداعظم کی اس بنیادی خوبی کو اجاگر نہیں ہونے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کی ہر سیاسی و مذہبی تحریک کی جدوجہد تشدد سے شروع ہوتی ے اور تشدد پر ختم!جبکہ قائداعظم محمد علی جناح نے ہمیں اپنی جدوجہد سے یہی سکھلایا تھا کہ آئینی اور قانونی طریقہ ہی کامیابی کی کلید ہے ۔

Related imageقائداعظم کی دوسری خوبی ان کی سیاسی لچک ہے۔ اس سیاسی لچک اور رواداری کو ہمارے ہاں منافقت کہا جاتا ہے ۔ یہ بات تاریخی طور پر متعین ہے کہ قائداعظم نے کبھی ’’ پاکستان کا مطلب کیا ، لاالہ الا اللہ ‘‘ کا نعرہ نہیں لگایا، لیکن انھوں نے اس نعرے کو رکوایا بھی نہیں۔ قائد اعظم نے واضح طور پر یہ بھی کہا پاکستان مسلمانوں کی ریاست ہو اور مسلمان چونکہ قرآن وسنت کو ’’سپریم لا‘‘ سمجھتے ہیں ، اس لیے پاکستان کا آئین انھی کے عقائد و نظریات کا آئینہ دار ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں کوئی تھیوکریسی یا پایائیت نہیں ہوگی۔ انھوں نے غیر مبہم الفاظ میں پارلیمنٹ اور ووٹ کی بالادستی کی بات کی۔ یہ حقائق اتنے ثابت شدہ ہیں کہ ان کے حق میں شاید ہی کسی کو دلیل دینے یا حوالہ دینے کی ضرورت ہوگی۔ عام طور پر قائداعظم کی ان باتوں کو ’’سیاسی‘‘ منافقت کانام دیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ اس وقت کی سیاسی مصلحت تھی ۔ گویا دوسرے لفظوں میں قائداعظم پر مذہب کے سیاسی استعمال کا گھناؤنا الزام لگایا جاتا ہے ۔
دوسری طرٖ ف قائداعظم کے وہ فرامین ہیں جن میں انھوں نے واضح الفاظ میں غیر مسلم پاکستانیوں کو مسلمانوں کے برابر کے حقوق دینے کا اعلان کیا ۔ مذہب کی بنیاد پر کسی بھی طرح کی تفریق نہ کرنے کا یقین دلایا ۔ اور پارلیمنٹ میں اپنے پہلے اصولی خطاب میں اس کا غیر مبہم اعلان کیا ۔قائداعظم کے بظاہر ان دو متضاد بیانات کو لے کر وہی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو نصف کلاس پانی سے بھرا ، اور نصف کلاس پانی سے خالی ہے ، کی نفسیات کو ظاہر کرتا ہے۔ اوریا مقبول اور زید حامد برانڈ اورجماعت اسلامی مارکہ ذہنیت کو قائد اعظم نصف مسلمان نظر آتے ہیں اور ملحد انہ اور مذہب بیزار حضرات کو قائداعظم آدھے سیکولر نظر آتے ہیں۔ لیکن آپ مجھ طالب علم سے پوچھیں تو معاملہ بہت واضح ہے ۔ قائداعظم نے یہ بات پارلیمنٹ پر چھوڑی ہے۔ پاکستانی پارلیمنٹ( مجلس شوریٰ ) مسلمان اکثریت پر حامل ہے اور نظم ریاست کی جو تعبیر دلیل اور اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کن ہوگی،وہی حتمی اور مقتدرہو جائے گی۔ جس طرح جمہوری نظام میں جب انتخابات ہوتے ہیں تو اس کے ذریعے سے حق و باطل فیصلہ نہیں ہوتا ، اس جھگڑے کافیصلہ ہوتا ہے کہ حکومت کون بنائے گا ، اسی طرح پارلیمنٹ اپنی اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی کہ کون سی تعبیر اسلام اس کے نزدیک نافذ ہو گی اور کون سی نہیں ۔ فرض کریں کہ آج کی پارلیمنٹ فقہ حنفی کے حق میں فیصلہ دیتی ہے لیکن کل کو دوسری منتخب پارلیمنٹ علامہ اقبال کے کسی اجتہاد یا فقہ شافعی کی کسی رائے کے حق میں ووٹ دے دیتی ہے تو اسے نافذ کر دیا جائے گا ۔
آپ اس بات کو قائداعظم کے اس فرمان کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں جو انھوں نے تیرہ جنوری 1946کو اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ کو خطاب کرتے ہوئے کہی کہ پاکستان کو ہم اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے۔ یہاں لفظ ’’تجربہ گاہ‘‘ قابل غور ہے۔ تجربہ گاہ میں ہر کوئی اپنی اپنی سوچ اور علم کے مطابق تجربات کرتا ہے ۔ یہ تجربات کامیاب بھی ہوتے ہیں اور ناکام بھی۔ صاف ظاہر ہے کہ قائداعظم یہ کہہ رہے ہیں کہ اس پارلیمنٹ میں جو چیز جدید دور کے مطابق ہو گی اور دلائل کی بنیاد پر قرآن و سنت کے مطابق ہوگی، اسے اختیار کیا جائے گا اور جو اس کے برعکس ثابت ہوگی اسے رد کر دیا جائے گا۔ پاکستانی مفکر ہوں یا علما، دانش ور ہوں یا سیاست دان ، سب کو موقع ہو گا کہ اپنی بات پارلیمنٹ کی تجربہ گاہ میں ثابت کریں اوراسے قانون بنائیں۔لیکن اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو قرار دادِمقاصد پاس کرانے کے باوجود ،حدود آرڈیننس نافذ ہونے کے باوجود نہ اسلامی سزائیں نافذ ہوں گی نہ جزائیں۔ صادق و امین کی شق کے باوجود ’غیر صادق اور غیر امین‘ لوگ ہی منتخب ہوں گے۔ آپ محض کتابی اور لفظی قسم کی مسلمان ’’ریاست‘‘ بن پائیں گے۔ اور اس جھگڑے میں ایک دوسرے کا سر پھوڑتے رہیں گے کہ قائداعظم اس ریاست کو کیسی ’اسلامی ‘اورکیسی’ سیکولر‘ ریاست بنانا چاہتے تھے۔ حالانکہ معاملہ بالکل واضح ہے، وہ اس کو ہر قسم کے آرڈیننس سے پاک کرکے پارلیمنٹ کے سپرد کر دینا چاہتے تھے۔ وہ ایسی تجربہ گاہ ہوتی جہاں ناکامی بھی ہوتی اورکامیابی بھی۔ یوں سیکولرازم ہو یا اسلام ازم، بحث و تمحیص کے بعد سامنے آتا۔لیکن جب ہم نے قرارداد مقاصد اور حدود آرڈیننس کی آڑ میں گفتگو بند کر دی تو پھرسوائے دہشت گردی اور شدت پسندی کے کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا ۔
قائداعظم کی ذاتی شخصیت اسی کا نمونہ تھی۔ اگر جماعت اسلامی اوراوریائی دانش کا مفروضہ درست ہوتا تو وہ کبھی جوگندر ناتھ منذل کو وزیر فانون نہ بتاتے، سر ظفراللہ کو اتنا اہم عہدہ نہ دیتے اور مذہب بیزار طبقے کا پیمانہ درست ہوتا تو کبھی مولانا شبیر احمدعثمانی اور مولانا اشرف علی تھانوی کی حمایت نہ لیتے۔ سچی بات یہی ہے کہ انھوں نے پاکستان کو ویسا ہی بنانا چاہا جیسے پاکستان لوگ!مگر ہمارا مذہبی طبقہ اپنی تعبیر اور مذہب بیزار اپنی سوچ مسلط کرنا چاہتا ہے جبکہ قائد اعظم اسے اکثریت اور جمہور کی رائے کے مطابق ڈھالنا چاہتے تھے ، چاہے آپ کے نزدیک یہ درست ہے یا میرے نزدیک غلط ۔ ہم اگر کسی تعبیر کو درست سمجھتے ہیں تو اس کے لیے لوگوں کو دلیل کی بنیاد پر قائل کریں نہ اسے نافذ کرنے کی جدوجہد ۔ جب ہم اپنے رائے کے مطابق اکثریت کو قائل کر لیں گے تو اس کے نافذہونے کی را ہ ہموارہو جائے گی ۔
اب آتے ہیں تنقید کی طرف ۔ہمارے خیال کے مطابق ماؤنٹ بیٹن کو مشترکہ گورنر جنرل قبول نہ کرنا انتہائی نقصان دہ ثابت ہوا۔ ایسا کرنے سے مسئلہ کشمیر سے لے کر تقسیم کے موقع پر فسادات، اثاثہ جات کی غیر منصفانہ تقسیم تک کے معالات بہتر طور پر حل ہو جاتے ۔ یا کم ازکم کشمیر کا مسئلہ ضرور پاکستان کی مرضی کے مطابق حل ہو جاتا ۔ اصل میں جب ہم نے مشترکہ آرمی کمانڈر پر اتفاق کر لیا ، یعنی دونوں ملکوں کی حفاظت وقتی طور پر جنرل آرکنلک کی سربراہی میں قبول کر لی توگورنر جنرل کے معاملے میں بھی یہی موقف اختیار کرنا چاہیے تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس معاملے میں قائد اعظم کی بے جا تحسین کی جاتی ہے۔اسی طرح مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی سرحدوں کا ایسا تعین کہ ان کے درمیان کوئی براہ راست رابطہ نہ ہو ، ایک ناقابل فہم بات تھی ۔ بہتر ہوتا کہ دونوں حصوں کے درمیان فیڈریشن کے بجائے کنفڈیریشن ہو تی ۔ اگر فوری طور پر ایسا ممکن نہ تھا تو قائد اعظم اس حوالے سے مستقبل کے لیے اصولی ہدایت دے دیتے ۔ اس طرح نہ بنگالی، اردو کا مسئلہ پیدا ہوتا اور نہ وسائل کی تقسیم کا تنازع۔ لیکن افسوس انھوں نے اس معاملے میں برعکس رویہ اختیار کیا ۔ یوں ہم 1971کے سانحے سے بھی بچ جاتے ۔
معاملات اس کے علاوہ بھی ہیں لیکن افسوس ہمارا ’’ فکری ہاضمہ ‘‘شاید اس کو بھی برداشت نہ کر سکے ، اس لیے یار زندہ ، صحبت باقی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *