پاکستان کی سالمیت کو خطرہ !!

mir-moeed

پاکستان کی سلامتی کو لاحق خطرات کیا ہیں جو چند بڑوں کو پتا ہیں اور معاملہ اتنا سنگین ہے کہ  ملک کے طول و عرض میں اس کے بارے میں قیاس آرائیاں اپنے عروج پر  ہیں .  چوہدری نثار نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے ایک میٹنگ میں باقاعدہ ثبوت پیش کئے تھے جن سے ثابت ہوتا تھا کہ اس وقت پاکستان کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی تھی بھارت بگلیں بجا رہا تھا کہ پاکستان اس کے جال سے اب بچ نہیں سکتا اور شائید پاکستان کی سالمیت کے خلاف اس سے بڑی اور کوئی سازش آج تک نہ ہوئی  ہو ۔ آخر  وہ سازش کیا تھی، اس کی نوعیت کیا تھی، اس بارے میں اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار نے معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے گفتگو کرنے سے انکار کر دیا
چوہدری نثارصاحب نے جس میٹنگ کا حوالہ دیا وہ فروری 2015 میں  ہوئی جس میں آرمی چیف، نوازشریف، چوہدری نثار، ڈی جی آئی ایس آئی اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی شریک ہوئے۔ مستند زرائع کے مطابق اس میٹنگ کا احوال آپ کے گوش گزار ہے!

Image result for raheel sharif

اس وقت کے آرمی چیف اور عسکری قیادت کی عصر حاضر کی مقبول ترین شخصیت راحیل شریف نے  چند آڈیو ٹیپس، کچھ ویڈیو کلپس اور کچھ دستاویز وہاں موجود لوگوں کو دکھائیں  جن کے مطابق 2015 کے آخر تک، ایران، انڈیا اور افغانستان کی فوجیں مل کر پاکستان میں سرجیکل سٹرائیکس کرنے کا سوچ رہی تھیں۔ جونہی یہ سٹرائیکس شروع ہوتے، پاک فوج کی توجہ ان پر مبذول ہوجاتی اور پھر ملک کے اندر موجود ہشتگردوں کی مدد سے ملک کے طول و عرض میں سانحہ پشاور کے طرز کے واقعات شروع کروا دیئے جاتے۔ یہ  اتنی تیزی سے ہونا تھا کہ کسی کو سنبھلنے کی مہلت نہ ملتی اور پھر جنرل اسمبلی کے زریعے ایک قرارداد منظور کروا کر پاکستان کے نیوکلئیراثاثوں کی حفاظت کے نام پر امن فوج  کو ملک میں اتار دیا جاتا ۔ اس دستے کی سربراہی امریکہ یا برطانیہ کی بجائے کسی ایک ایسے  ملک کے جنرل کے ہاتھ میں دے کر پاکستان کا اقتدار اعلیٰ امریکہ کو سونپ دیا جانا تھا، جیسا کہ مصر یا اردن اور یہ جنرل حقیقت حال میں دراصل  ہدایات براہ راست امریکہ سے ہی لیتا۔

انڈیا کی طرف سے ہونے والے سرجیکل سٹرائکس پاک فوج کو اس حد مصروف کر لیتیں  کہ امن فوج کے نام پر تائینات  کی جانے والی فورسز کی ڈپلائمنٹ ہمارے نیوکلیئر اور دیگرحساس مقامات پر ہونا تھی گویا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو قبضے میں لینے کا دیرینہ خواب پورا کیا جانا تھا۔ یہ تھا وہ پلان جس کی بنیاد پر چوہدری نثار نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق تھے اور ابھی بھی ہیں۔

 ایران کھلم کھلا پاکستان کوحملے کی دھمکی دے چکا ہے  کہ وہ پاکستان کے علاقوں میں کاروائی کرسکتا ہے، انہی اسی طرح بھارت اور افغانستان بھی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ راحیل شریف کی کامیاب حکمت عملی تھی کہ وہ  ایران ، بھارت اور افغانستان کے حملوں کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں  لہذا پاکستان کو دراصل خطرہ تھے دھشتگردوں کے ملک کے طول عرض میں پھیلے دشمن کے آلہ کار بن کر ناقابل تلافی نقصان پہنچا کر ایسے حملوں کے دوران ملک میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کرنے کا باعث  ہو سکتی تھی جس پر  اقوام متحدہ نے اپنے حفاظتی دستے پاکستان ڈپلائے کرنا تھے۔
چناچہ فوج نے انتہائی جانفشانی سے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ملک کے طول و عرض میں بڑھا دیے اور اس عفریت کا نہ صرف زور توڑ دیا گیا بلکہ ملکی سالمیت کو لاحق بڑے خطرہ ٹل گیا۔ اب لندن میں دھماکہ امریکی فوج کے افغانستان میں کمانڈر کا داعش کی بنیاد پاکستان میں رکھنے کا الزام ٹرمپ کی پاکستان مخالف بیانات اور بھارت کا برکس میں پاکستان میں دنیا کی بڑی دس دھشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔  پاکستان اپنی سرحدوں کے اندر موجود سب سے بڑے خطرے کا بڑے پیمانے پر صفایا کرکے دشمن کی ایک بڑی سازش ناکام بنا چکا ہے لیکن ملک میں سیاسی بھونچال  خاکم بدہن کسی بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *