باغ جناح کی چمگادڑیں 

tariq ahmed
جب انگریز تھا۔ تو اس کا نام لارنس گارڈن تھا۔ جب انگریز چلا گیا۔ تو اس کا نام باغ جناح رکھ دیا گیا۔ اس کے سامنے گورنر ہاؤس ھے۔ جہاں صوبے کا سربراہ رھتا ھے۔ اس کے عقب میں وہ ایوان ھے جہاں سوداگر بیٹھتے ھیں۔  اس کے ایک پہلو میں جی او آر ون ھے۔ جہاں افسر رھتے ھیں۔ اور دوسرے پہلو میں چڑیا گھر ھے جہاں جانور رھتے ھیں۔ باغ کے درخت بہت قدیمی ھیں۔ ھرے بھرے اور آسمان سے باتیں کرتے۔ ان چھتناور درختوں کے تنوں پر اللہ کے پاک نام لکھے ھیں۔ اور ان درختوں کی ٹاپ ٹہنیوں پر چمگادڑوں کا بسیرا ھے۔ یہ جناح کا باغ ھے۔
اس باغ کی سیر کو جانے والے ان چمگادڑوں سے بخوبی واقف ہیں ۔لائبریری چوک سے کنٹین کے عقب میں جائیں تو یہ چمگادڑیں درختوں سے الٹی لٹکی نظر آتی ھیں۔ ان درختوں کے نیچے باغ جناح کی نرسری ھے۔ جہاں ننھے منے پودوں کی پرورش کی جاتی ھے۔ نرسری کے یہ پودے انہی چمگادڑں کے سائے میں پل کر بڑے ھوتے ھیں۔ اور انہیں جناح کے باغ میں مناسب جگہوں پر لگا دیا جاتا ہے اور ان کے تنوں پر اللہ کے پاک نام لکھ دیے جاتے ہیں ۔
Image result for ‫چمگادڑ‬‎
باغ میں آنے والے عام لوگ ان ناموں کو پڑھ کر خوش ہوتے ہیں ۔ لیکن وہ خاص لوگ جو صبح سویرے واک کے لیے آتے ہیں وہ ان الٹی لٹکی چمگادڑوں سے واقف ہیں ۔ یہ شور بہت کرتی ہیں ۔ آدمی کا دھیان خودبخود ان کی جانب چلا جاتا ھے۔ آدمی ایک بار انہیں دیکھ لے تو پھر دیکھتا ھی رھ جاتا ھے۔ یہ اپنے قد کاٹھ میں اچھی خاصی جسیم ھیں ۔ ھمارے گھروں میں شام کے وقت کبھی کبھار ایک آدھ چمگادڑ نظر آ جاتی ہے ۔ چھوٹی جسامت کی وجہ سے اسے چام چٹ کہتے ھیں۔ سنتے ھیں چام چٹ اگر چمٹ جائے تو چھوڑتی نہیں ۔ خون پی جاتی ہے ۔ اسی وجہ سے لوگ چام چٹوں سے ڈرتے ھیں۔ اب سوچیں باغ جناح کی ان دیو ھیکل چمگادڑوں کا معاملہ کیا ھو گا۔ جو کئی دھائیوں سے اس کی ٹاپ ٹہنیوں سے چمٹی ھوئ ھیں۔ ان کی خوراک وہ کیڑے مکوڑے ھیں۔ جو باغ جناح میں رینگتے ھیں۔ ڈارون کا کہنا ھے۔ انسان انہی کیڑے مکوڑوں کی ترقی یافتہ شکل ھے۔ لیکن باغ جناح کے یہ کیڑے مکوڑے ابھی ترقی کی منزل سے کوسوں دور ھیں۔ چناچہ ان کا مقدر یہی ھے۔ وہ ان خون آشام چمگادڑوں کی خوراک بنتے رھیں۔ خون پینے کی اس صلاحیت کی بنا پر ان چمگادڑوں کو ویمپائرز بھی کہا جاتا ھے۔ اور ان ویمپائرز نے کئی سالوں سے باغ جناح کی ٹاپ ٹہنیوں پر قبضہ کر رکھا ھے ۔
یہ چمگادڑیں اپنی ھیت میں عجیب و غریب ھیں ۔ یہ جانوروں میں شامل ھوتی ھیں نہ ھی ان کا شمار پرندوں میں ھوتا ھے۔ یہ ھوا میں اڑتی ھیں اور اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ھیں۔ انسان بھی دودھ پلانے والا جانور ھے۔ لیکن انسان ھوا میں نہیں اڑ سکتا۔ ھوا میں اڑنے کے لیے چمگادڑ بننا ضروری ھے۔ اور چمگادڑ بننے کے لیے الٹا لٹکنا آنا چاھیے ۔ جو انسان سر کے بل چل سکتا ھے۔ وہ ان چمگادڑوں کی برادری میں شامل ھو سکتا ھے اور باغ جناح کی ٹاپ ٹہنیوں پر اپنی جگہ بنا سکتا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *