کیا القاعدہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے؟

danielبشکریہ: ڈینئیل ایل بیمن
القاعدہ امریکہ میں ہونیوالے11ستمبر کے حملوں کے بعد ایک مضبوط جماعت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی تھی لیکن اب القاعدہ کے اثر و رسوخ میں اب کافی حد تک کمی آگئی ہے پھر بھی کچھ مایہ ناز تجزیہ نگاروں کا یہ ماننا ہے کہ القاعدہ ابھی بھی مضبوط ہے اور پھر سے اُبھر کر سامنے آئے گی۔ میرے جارج ٹاؤن کولیگ بروس ہوف مین کا کہنا ہے کہ اب جبکہ مغرب کی ساری توّجہ اسلامک اسٹیٹ کی جانب ہے تو یہ وقت القاعدہ اپنے فائدے میں استعمال کر رہا ہے اور اپنے آپ کو دوبارہ منظم کر رہا ہے۔Daveed Gartenstein-Ross جو فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز میں ایک اہم القاعدہ سکالر ہیں، اُن کا ماننا ہے کہ القاعدہ نے اپنی حکمتِ عملی کے طور پر داعش کے مقابلے میں ایک خفیہ اور محتاط راستے کا انتخاب کیا، اور اس راستے نے مڈل ایسٹ اور نارتھ افریقہ میں القاعدہ کی ساکھ کو مضبوط کیا۔ اس کے علاوہ ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس ڈین کوٹس کا مانناہے کہ القاعدہ اور اُن کے ساتھی ہمیشہ مغرب کے لیے دہشت گردی کا خطرہ رہیں گے کیونکہ وہ لوکل تنازعات کا استحصال کرنا خوب جانتے ہیں۔
پھر بھی پُر اُمید ہونے میں کوئی برائی نہیں کہ القاعدہ زوال کا شکار ہے اور اس کا یہ زوال مسلسل ہے۔ القائدہ کے کام کی رفتار کم ہے، اس کے ساتھ ساتھ القاعدہ کے پاس وسائل کی بھی کمی ہے اور اس کے حمایتی بھی کم ہیں جبکہ اس کی مخالف جماعت داعش پہلے ہی القاعدہ کی کامیابیوں پر قبضہ کر چکی ہے ، اس کی کچھ ترقی کو مختلف گروپوں نے توڑنے کی کوشش کی لیکن وہ کوشش کچھ کامیاب نہیں ہو سکی۔
یہ سچ ہے کہ دہشت گردی مسلسل نہیں ہوتی ہے ، لیکن مغرب میں دہشت گرد حملوں کے اعداد و شمار ہی القاعدہ کے زوال کی بنیادی وجہ ہیں۔القاعدہ پچھلے دس سال میں مغرب میں کوئی بھی شاندار حملہ نہیں کر سکی جبکہ اس کے معاونین نے آخری بڑا حملہ 2005میں لندن ٹرانسپورٹیشن پر کیا تھا۔اُسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ کی جماعت کے بین الاقوامی حملوں میں شمولیت نا ہونے کے برابر تھی جبکہ القاعدہ کے معاونین نے اپنے ایک طے شدہ علاقے سے باہر حملے نہیں کیے ہاں مگر 2015میں ہونیوالے پیرس اٹیک کے تانے بانے جب عرب میں موجود القاعدہ سے جوڑے گئے تو پتہ چلاکہ ایسے ہی حملے alqaida 1اوباما انتظامیہ کے پہلے سال وہاں کی سول ایوی ایشن پر بھی ہوے۔ زیادہ تر معاونین نے مغرب کو چھوڑ کر اپنے ہی علاقوں کو نشانہ بنایا۔
کئی دفعہ سازشوں کی حملوں سے زیادہ تعداد اُس جماعت کی طاقت کا اندازہ لگانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے ، مگر کئی دفعہ سازشیں بھی نامکمل یا گمراہ کن عنصر ہو سکتی ہیں۔ ناکام سازشیں اُس جماعت کی ناکامی یا اُس کے مخالفین کی کامیابی کا پتہ دیتی ہیں۔ القاعدہ ابھی بھی مغرب میں حملہ کرنا چاہتی ہے لیکن اُس کے پاس 1990کے کیمپوں میں ٹرینڈجیسے لوگوں کی کمی ہے اسلیے ایسا کچھ ہو نہیں پاتا۔اس کے علاوہ سیکیورٹی سروسز کی مہارت اور وسائل میں اضافہ ہوے جا رہا ہے، اور ناکام سازشیں اسی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سیکیورٹی فورسز کو اب اس جماعت سے خوف نہیں رہا۔جیسے مثال کے طور پر اب امریکہ کے جارحانہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے ہر اُس سازش کو بھی ناکام کرنے میں لگے رہتے ہیں جنہوں نے ویسے بھی کامیاب نہیں ہونا تھا اور جن کو 9/11سے پہلے کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں تھی۔
کسی جماعت میں بھرتی ہونیوالے افراد کی تعداد یاُ ن کے پاس موجود دولت سے بھی اُس جماعت کی کامیابی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔1990میں القاعدہ نے وسیع وسائل اور دولت کی موجودگی کی بناء پر بہت سے لوگوں کے لیے ٹریننگ پروگرام شروع کیے۔ سال2011تک جو رضاکار القاعدہ میں شمولیت کے لیے پہنچتے تھے اُن کو مالی وسائل اورساز و سامان سب کچھ القاعدہ کی جانب سے ہی دی جاتا تھا۔القاعدہ اب کچھ ہی رضاکار اپنی طرف لانے میں کامیاب ہو پاتا ہے کیونکہ زیادہ تر جنگجو اب داعش میں شمولیت کی خواہشمند ہوتے ہیں۔
امریکہ میں ہونیوالے9/11کے حملوں کے بعد القاعدہ بہت سے جہادی اپنی جماعت میں لانے میں کامیاب ہوا جن میں سے اکثر کا تعلق پاکستان اور افغانستان سے تھا لیکن اب وہی جہادی ہیں جو امریکہ کی جارحانہ پالیسیز کا نشانہ بنتے ہیں کیونکہ امریکن آرمی القاعدہ کے ممبران یا صرفُ ن کی جان پہچان والوں میں کوئی فرق نہیں وہ دونوں کو ہی ختم کرنا چاہتے ہیں۔مگر بہت سے القاعدہ کے جہادی امریکہ میں حملے کے خلاف تھے اور اُن کا ماننا تھا کہ امریکہ کو نشانہ بنا کے القاعدہ نے غلط کیا اس لیے لیبیا اور مصر میں موجود بہت سے جہادی گروپوں نے القاعدہ میں شمولیت یا اُن کے ساتھ مل کر کام کرنے سے انکار کر دیا۔
اس کے ساتھ ساتھ ایسے پڑھے لکھے لوگ یا فرقے جو القاعدہ کے حامی تھے اُنہوں نے بھی القاعدہ سے منہ موڑ لیا۔سعودی شیخ سلمان العودا جو ایک وقت میں اُسامہ بن لادن کے بڑے حامی تھے اور سعودی امریکہ تعلقات کے خلاف بیان دیا کرتے تھے اُن کو کہنا تھا کہ’’ میرے بھائی اُسامہ کتنا خون بہایا گیا ؟ کتنے معصوم بچوں ، عورتوں ، جوانوں اور بوڑھے لوگوں کو القاعدہ کے نام پر موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا؟ کیا تم اپنے خدا سے اتنی لعشوں کا بوجھ لے کر alqaida 3مل سکو گے؟‘‘ جبکہ ڈاکٹر فادی ، جو خود ایک مصری جہادی تھے، اُن کا کہنا ہے کہ القاعدہ نے 9/11پہ خود کشی کر لی تھی۔
آج کے دور میں القاعدہ کی کامیابی کی بنیاد ذہنیت ہے حملے نہیں۔ القاعدہ کا یہ کہنا کہ جہاد اصل میں ہمارے عقیدے کا ستون ہے، اس ذہنیت نے القاعدہ کو مضبوطی بخشی ہے اور بہت سے جہادی اس تصور کے حامی نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک اور تصور جو القاعدہ نے دیا ہے وہ ہے گلوبل جہاد کا، یعنی ایک لوکل علاقے کو چھوڑ کر پوری دنیا کو اپنا ہدف سمجھا جائے۔ اسی تصور کے تحت بہت سے جہادیوں نے 1990میں چچنیا، بوسنیا، تاجکستان اور الجیریا کا رخ کیا۔ آج کی تاریخ میں40,000سے زیادہ غیر ملکی مہاجرین نے شام کا رُخ کیا۔
مگر گروپوں کے درمیان اختلافات ابھی بھی موجود ہیں۔ جیسے کہ القاعدہ کے بانی اور داعش کے سابقہ ہیڈ ابو مصعب الذرکاوی اور القائدہ کے موجودہ سربراہ ایم الظواہری کا شروع سے ہی حکمتِ عملی پر اختلاف رہا ہے۔ آج کی القاعدہ کا ماننا ہے کہ سنّیوں کو جگانے کے لیے امریکہ پر حملہ ضروری تھا جبکہ ذرکاوی کا ماننا ہے کہ تمام کے تمام دشموں کے خلاف کاروائیاں کرنا ضروری ہے صرف امریکہ کے خلاف نہیں اوراس تصور کی حامی زیادہ جہادی نظر آتے ہیں۔ القاعدہ کے خلیفہ کی ضرورت سے یہ کہہ کر انکارکہ فی الحال وقت صحیح نہیں، اصل میں اُس کی ناکامی اور داعش کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب ہے۔
القاعدہ اپنے طے شدہ مقاصد کے حصول میں ناکام رہا کیونکہ امریکہ نے اب تک اسلامی دنیا کا پیچھا نہیں چھوڑا اور ابھی بھی عراق اور اٖٖفغانستان میں امریکی فوجیوں اور تربیتی اداروں کی موجودگی اس بات کا سبب کے کہ القاعدہ کے لیے ابھی منزل بہت دور ہے۔ اس کے ساتھ القاعدہ کے حامی جیسے حسنِ alqaida 2مبارک اور معمر قذافی جیسے حکمرانوں کے بھی تختے اُلٹے جا چکے ہیں۔
پھر بھی اپنے تبلیغیوں کے ذریعے القاعدہ نے پاکستان اور افغانستان میں تھوڑی بہت کامیابی حاصل کی ہے۔لیکن یہ اس قدر کار�آمد نہیں کیونکہ اس سے زیادہ تر ایسے جہادی ملتے ہیں جو تبلیغ کرنا چاہتے ہیں یا سوشل میڈیا کے زریعے اپنا پیغام پھیلانا چاہتے ہیں۔ القاعدہ ابھی بھی غیر ملکی جہادی اکٹھے نہیں کر سکا کیونکہ عرب افغان گروپوں نے دوسری جہادی تنظیموں سے رابطے بڑھا لیے اور غیر ملکی جہادی وہاں بھیج دئیے۔القاعدہ کی سوشل میڈیا کمپنیز جیسے کہ Friendster اور Myspace شروع میں تو کئی تکنیکی مدد فراہم کرنے میں کامیاب ہوئی لیکن آخر میں اس کا فائدہ حریفوں کو ہی ہوا۔
امریکہ کو داعش کے نئی بھرتی ہونیوالوں یا اُن کے وسائل کو ختم کرتے ہوے القاعدہ کی تاریخ کو ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے۔القاعدہ کے خلاف کامیابیاں اصل کامیابیاں ہیں۔ اور چاہے القاعدہ زوال
کا شکار ہے، القائدہ کی شروع کی گئی ایک وسیع تحریک ابھی بھی خطرے کا سبب بن سکتی ہے۔
اس تحریر کے مصنف ڈینئیل ایل بیمن brookingsکے خارجہ پالیسی شعبے میں Center for Middle East Policy کے سینئیر فیلو ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *