اُٹھولاہوریو، اُٹھو!گھر سے نکلو

ammar-masood

وہ دن دور نہیں جب عمران خان ہر کسی سے پوچھتے پھر رہے ہوں گے کہ مجھے کیوں نکالا ؟ کیوں نکالا مجھے ؟ اور کوئی جواب دینے والا نہیں ہوگا۔ اس بات میں اب کسی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ عمران خان اسی گرداب میں ڈوب رہے ہیں جس میں ایک زمانے میں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو غرق رہے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ایک دوسرے کے خلاف جھوٹے مقدمات کی سیاست ہوتی تھی۔ کرپشن کے الزامات کا مزید کرپشن کے الزمات سے مقابلہ ہوتا تھا۔گھر کی خواتین کی اسمبلیوں میں توہین کی جاتی تھی۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کو سیاست کہا جاتا تھا۔ لانگ مارچ سے حکوموتوں کو زمیں بوس کرنے کی سازشیں ہوتی تھیں۔ اسمبلیوں میں تماشہ لگتا تھا۔ ایک دوسرے کو بدیانت ثابت کرنے لے لیئے پورا زو ر لگایا جاتا تھا۔ اسی کشمکش میں کبھی مخالف زیر دام آیا کبھی خو د دم ہار گئے کی کیفیت کئی برس رہی۔دو، دو دفعہ ایوان اقتدار سے دھتکارے جانے کے بعد فریقین کو ادراک ہوا کہ یہ جو ہم ایک دوسرے کے سربازار کپڑے پھاڑ رہے ہیں اس تماشے کا فائدہ تو کسی اور کو ہو رہا ہے۔ اس تذلیل سے مفاد تو کسی اور کا پورا ہو رہا ہے۔ اس اکھاڑ پچھاڑ سے مقصد تو کسی اور کا حاصل ہو رہا ہے۔ برسوں کی ہزیمت کے بعد میثاق جمہوریت وجود میں آیا۔ فریقین نے یہ فیصلہ کیا کہ اب ہم جمہوریت کو مضبوط کریں گے۔ سیاستدانوں کو رسوا نہیں کریں گے۔ ایک دوسرے پر بے بنیاد مقدمات نہیں کھڑے کریں گے۔ ووٹ کا احترام کریں گے۔ مینڈیٹ کو مقدم جانیں گے۔ الزام تراشی اور لانگ مارچ کی سیاست ترک کریں گے۔ لیکن میثاق جمہوریت ہونے سے بہت پہلے چڑیاں کھیت چگ گئی تھیں۔ ایمر جنسی نما مارشل لا نافذ ہو چکا تھا۔ پی ٹی وی فتح ہو چکا تھا۔ مشرف حکومت قائم ہو چکی تھی۔
جو کام اس زمانے میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو سونپا گیا تھا اسی کی ذمہ داری اس دور میں عمران خان کے سپرد کی گئی۔ کہانی کے سکرپٹ میں ذرا بھر تبدیلی نہیں ہے۔ وہی دھاندلی کے طعنے ۔ وہی کرپشن کے الزامات ، وہی جھوٹے مقدمات ، وہی متنازعہ فیصلے ، وہی دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست ، وہی گالم گلوچ کا دور ، وہی خواتین کی بے حرمتی کا چرچے ، وہی سیاست دانوں کی بے عزتی کا سلسلہ اور وہی جمہوریت کی بے توقیری کا عالم ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس دفعہ یہ کام عمران خان سے لیاگیا ۔ خان صاحب کو اس ہنگامے میں یہ بھی ادراک نہیں رہا کہ وہ تنہا رہ چکے ہیں۔ اتنا بھی احساس نہیں رہا کہ اب عمران خان سے کام لیا جا چکا ہے۔ اب مطلب پورا ہو چکا ہے ۔نواز شریف کی نا اہلی کا مقصد پورا ہو چکا ہے۔ اب عمران خان ایک استعما ل شدہ ٹشو پیپر بن چکے ہیں جسکا مستقبل صرف تاریخ کا کوڑے دان ہے۔ یہی وہ خان صاحب تھے جنہوں نے2011 میں لاہور میں ایک ایسا تاریخ ساز جلسہ کیا تھا کہ ملکی سیاست کا رخ بدل دیا تھا۔ اس جلسے کی کامیابی میں کون ، کون سے عوامل تھے اسپر بحث پھر کبھی سہی۔ لیکن لوگوں نے عمران خان کو سر پر تاج کی طرح بٹھایا تھا۔ تبدیلی کی آواز پر لبیک کہا تھا۔ نئے پاکستان کے خواب دیکھے تھے۔خان صاحب کے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھیں۔ ا س یادگار جلسے میں سارا لاہور امڈ آیا تھا۔اب وہی خان صاحب جب NA 120 کی انتخابی ریلی کے لئے جلسہ کرنے گئے تو اس جلسے میں کل ملا کر ایک ہزار کے لگ بھگ لوگ تھے۔ جن میں سے لاہور کے باسی چند ایک ہی تھے ۔ یاسمین راشد کے بازو میں سٹیج پر بیٹھے عمران خان نے ایک لمحے کو سوچا تو ہو گاکیا ان کا ستعمال ہو چکا ہے؟ کیا انقلاب کے نام پر ان سے دھوکا ہو چکا ہے؟ کیا وہ اب اپنی حیثیت کھو چکے ہیں؟کیا ان سے والہانہ محبت اب نفرت میں بدل گئی ہے؟عمران خان کو یقننا صدمہ پہنچا ہوگا اور تشویش بھی ہوئی ہو گی۔ لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

Image result for imran khan sadعمران خان ایک جمہوری وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کی سازش میں شریک جرم ہو چکے ہیں۔ اب انکا کام ختم ہو چکا ہے۔ اب ان کے جلسے جلوسوں کی کامیابی سے کسی کو دلچسپی نہیں۔ اب انکے فرمودات سے کسی کو کوئی مطلب نہیں۔ اب انکے خیالات لوگوں کو بور کرنے لگے ہیں۔ نئے پاکستان کا نعرہ بوسیدہ ہو چکا ہے۔انقلاب لانے کی آوازیں تھک چکی ہیں۔ خیبر پختون خواہ میں مسلسل کرپشن، بیڈ گورننس ، ڈینگی اور عائشہ گل لالئی کی وجہ سے عمران خان کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے۔ اس علاقے میں عمران خان کی پسند یدگی اب صفر ہو چکی ہے۔ پنجاب کے لوگوں کاعمران خان نے اپنے جنون میں اتنا مذاق اڑایا ہے، اتنی تضحیک کی ہے کہ اب اس خطے میں ان کا نام لیوا کوئی نہیں رہا۔ کراچی کے ضمنی انتخابات نے سندھ میں تحریک انصاف کی مقبولیت کی قلعی کھول دی ہے۔بلوچستان کی سیاست کا تحریک انصاف کو کوئی ادراک ہے نہ اس میں کوئی دلچسپی دکھائی گئی ہے۔نااہلی کی تلوار ان کے سر پر لٹک رہی ہے۔ فارن فنڈنگ کے کیس کی فیصلہ کن تاریخ نزدیک آ رہی ہے۔ مخصوص قوتوں کو صرف ان شخصیات میں دلچسپی ہوتی ہے جن کی عوامی مقبولیت ہو، متروک اور مستردکئے گئے لوگوں کے لیے ان کے دل میں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ عمران خان اب اپنی بنیاد تلاش کر رہے ہیں مگر بہت دیر ہو گئی ہے۔ بہت سا پانی پلوں تلے گذر چکا ہے۔ جمہوریت کے خلاف جرم میں وہ شریک ہو چکے ہیں۔ اب تاریخ کا لکھا مٹایا نہیں جا سکتا۔اب وقت کے ظالم پہیئے کی رفتار کو کوئی نہیں روک سکتا ۔
جلد ہی اب عمران خان پر وہ وقت آنے والا ہے جب وفادار ساتھ چھوڑ دیں گے اور اس لمحے میں عمران خان پر یہ منکشف ہو گا کہ وہ عمران خان کے کبھی بھی وفادار نہیں تھے۔ وہ صرف انکے گرد کچھ مقاصد کی تکمیل کے لئے جمع تھے۔ ان کی وفاداریاں کہیں اور تھیں اور وہ کسی کے کہنے پر خان کے دست راست بنے تھے۔ وہ وقت دور نہیں جب عمران خان خالی ہاتھ ہر کسی سے پوچھ رہے ہوں گے کہ مجھے کیوں نکالا ؟ کیوں نکالا مجھے ؟ اور کوئی جواب دینے والا نہیں ہوگا۔

Image result for imran khan sadNA 120 کے متوقع نتائج کے بارے میں بات کیئے بغیر آج کل کوئی کالم مکمل نہیں ہوتا۔ شکست اور فتح کے اپنے اپنے اندازے ہیں۔ قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سیٹ جیتنا مسلم لیگ ن کے لیے مشکل نہیں ہو گا۔ برتری کتنی ہوتی ہے اس کے بھی قیافے مختلف ہیں۔ لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک کے عوام کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع ملا ہے تو انہوں نے ہمیشہ ایسی پارٹی سے اجتناب کیا ہے جس کے تانے بانے خفیہ ہاتھوں سے ملتے ہیں۔جس پارٹی یا شخصیت میں جمہوریت کی نفی کا شائبہ بھی ملتا ہے وہ انتخابات میں نامراد ہوتا ہے۔ اس ملک کے عوام کے پاس اس سارے سسٹم میں اظہار کا صرف ایک دن ہے۔ اس کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ انکی سمجھ اور عقل سے بالاتر ہوتا ہے۔ اس حلقے کے انتخابات میں بھی کلیدی اہمیت لوگوں کی جمہوریت میں دلچسپی کی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ٹرن آوٹ کم ہوگا ۔ مجھے توقع ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالیں گے۔ اس لیئے میں اس ملک کے جمہوریت پسند عوام کو جانتا ہوں، میں پنجاب کو جانتا ہوں ، میں لاہور کو جانتا ہوں۔ کل انکے احتجاج کے اظہار کا دن ہے۔ جمہوریت کے انقلاب کا دن ہے۔ پنجاب کا دن ہے۔ لاہوریوں کا دن ہے۔کل توقع ہے کہ سارا لاہور ا ووٹنگ کے وقت ایک دوسرے سے یک زبان ہو کر کہے گا۔ اٹھو ، لاہوریو، گھر سے نکلو۔ووٹ ڈالو اور یہ بتا دو کہ تم جمہوریت کے متوالے ہو یا آمریت کے پرکالے ہو۔تم نواز شریف کو کرپٹ مانتے ہو یا نااہلی کے فیصلے کو غلط گردانتے ہو۔ تم اپنے شہر کی لاج رکھتے ہو یا خفیہ ہاتھوں میں کھیلتے ہو۔ تم روشن مستقبل کودیکھنا چاہتے ہو یا تاریکی کو مقدر جانتے ہو۔جو چاہتے ہو وہ اپنے ووٹ سے کہہ ڈالو۔ ۔ اٹھو ، لاہوریو ، اٹھو،، گھر سے نکلو۔

اُٹھولاہوریو، اُٹھو!گھر سے نکلو” پر ایک تبصرہ

  • Eliminate Corruption
    ستمبر 16, 2017 at 3:48 PM
    Permalink

    کپتان کا اليکشن کميشن کو کھرا جواب
    "جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو جا"
    اليکشن کميشن اپنی اوقات ميں رہے اور ايسے احکامات نہ دے جو صرف غريب ' بے کس اور لاوارث لوگوں پر لاگو ہوتے ہيں۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *