نوجوانوں میں انتہاپسندی کا رجحان اور سدباب!

aizaz ahmed kiani

دہشتگردی کا چیلنج پاکستان کے لیے کوئی نیا چیلنج نہیں ہے بلکہ پاکستانی قوم سالوں سے دہشت گردی سے نبردآزما ہے۔ پاکستان نے ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے جس میں نہ صرف ایک قابل ذکر تعداد سکیورٹی اداروں کے اہلکار وں اور افسران کی ہے بلکہ کئی دوسرے اہم عہدے دار وں یہاں تک کہ سیاست دانوں کی زندگیاں بھی دہشت گردی کی نذر ہوئی ہیں الغرض پاکستانی عوام کا ہر طبقہ دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے۔لیکن اس وقت دہشت گردی کے متعلق جس نئی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے وہ یقیناً قابل توجہ امر ہے۔ دہشت گردوں کی طرف سے نوجوانوں کو اپنی جانب مائل کرنا حیرت کی بات نہیں ہے بلکہ فی الواقع نوجوانوں اور باالخصوص طلباء کا دہشت گردوں سے متاثر ہونا اور انکا آلہ کار بن جانا قابل حیرت بھی ہے اور اصل مسلۂ بھی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نوجوانوں میں شدت پسندی اور انتہاپسندی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے آخر حقیقی اسباب کیا ہیں؟میرے نزدیک اس بڑھتے ہوئے رجحان کے تین اسباب ہیں:
اول ہمارا نصاب تعلیم،
دوم تربیت کا فقدان ،
سوم ہمارا مجموعی نظام ریاست۔
دہشت گرد اور انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے باالعموم عوام اور باالخصوص نوجوانوں کو اپنی جانب مائل کرنے کے لیے جس چیز کو سب سے موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے وہ بلا شک و شبہ مذہب ہے اور ہمارے تعلیم نصاب میں اسی کے متعلق عدم توجہی بھی برتی جا رہی ہے اور اسی کے متعلق تعلیم کا بھی فقدان ہے۔
۱) یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے نوجوانوں کے لیے تعلیمی اداروں میں اسلامی تعلیم کا کوئی انتظام نہیں ہے بلکہ ہمارے نظام تعلیم میں سے اسلامی تعلیمات مزید گھٹتی ہی چلی جا رہی ہیں اور اسلامی مضامین میں شامل موضوعات اول تو خود محدود ہیں اور پھر ان محدود موضوعات کا بیان بھی اجمالی ہے۔تعلیمی اداروں کی اس کمی کو پورا کرنے کی صورت تو یہ تھی نوجوانوں کے لیے گھر میں اسلامی تعلیم کا کوئی مناسب بندوبست ہوتا لیکن افسوس کہ گھریلو درسگاہوں کا حال بھی کمرشل درسگاہوں سے کچھ مختلف نہیں ہے۔ یوں آج کی نوجوان نسل باالخصوص دنیاوی تعلیمی درسگاہوں کے طلباء اسلام کی اصل تعلیمات اور اسلام کے حقیقی تصور سے ہی مکمل بے خبر ہو چکے ہیں چنانچہ اس حالت میں ان کے سامنے اسلام کی جو بھی تعبیر پیش کی جاتی ہے وہ اسی کو اسلام کی اصل تعبیر سمجھ بیٹھتے ہیں اور ان تنظیمات کا آلہ ئکار بنتے چلے جاتے ہیں۔
۲) میرے نزدیک عوام کی تربیت،اور اصلاح کی اصل ذمے داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ یہ ریاست کی ذمے داری ہے کے وہ تعلیمی اداروں، میڈیا اور دوسرے تمام ذرائع کو پابند کرے کہ وہ عوام کی تربیت، اصلاح، راہنمائی اور تعمیر کو اول ترجیعات میں شامل کریں لیکن افسوس کہ قومی تربیت کبھی ریاست کی ترجیعات میں شامل ہی نہیں رہا ہے۔
ریاست کی غفلت کی صورت میں یہ بھار خود بخود میڈیا اور تعلیمی اداروں کے کندھوں پر آتا ہے لیکن افسوس کہ یہاں بھی کوئی اس زحمت کو گوارا کرنے کو راضی نہیں ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے جو ماہانہ لاکھوں روپے طلباء سے تعلیم اور تربیت کے نام پر وصول کرتے ہیں وہاں بھی طلباء کی حقیقی تربیت کی جانب کوئی توجہ نہیں ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کے نام پر اخلاقیات اور اسلامی اقدار کوتو پامال کیا جا رہا ہے، فحاشی اور منشیات کو فروغ دیا جا رہا ہے، پارٹیاں اور کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں لیکن حقیقی تربیت کی جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے نام بلکہ یونیورسٹیوں کے نام تک تاریخی اشخاص کے نام پر رکھے جاتے ہیں مگر آج تک ان میں اس پائے کا کوئی شخص تو دور حقیقی معنوں میں انکا کوئی جانشین بھی پیدا نہیں ہو سکا۔
میڈیا جو اس دور میں قوم کے سب سے بڑے خادم کا دعوے دار ہے وہاں بھی قومی تربیت کاکوئی سامان موجود نہیں ہے۔میڈیا قومی تربیت میں نہائیت موثر کردار ادا کر سکتا تھا مگروہ آج کی دنیا میں ایک منی سینما ہو کر رہ گیا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو میڈیا پر اسلام محرم، رمضان، حج اور چند دوسرے گنے چنے ایام تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور ان دنوں کے علاوہ اگر اسلام کا کہیں تذکرہ کیا بھی جاتا ہے تو وہ بھی فقط موضوع بحث کے طورپر۔ میڈیا اور تعلیمی اداروں کے علاوہ عوام کی تربیت کی ذمیداری سیاسی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست اقتدارحصول کی جدوجہد کا دوسرا نام بن کر رہ گئی ہے۔
تعلیمی نصاب کے خلا کو پُر کرنے کا بہترین ذریعہ قومی تربیت تھی لیکن افسوس صد افسوس کہ ہم اس میدان میں بھی ناکام ہیں۔اب ذرا غور کیجیے کہ جب اتنے سارے ذمے داران اپنی حقیقی ذمے داریوں سے غافل ہوں بلکہ وہ خود ہی الٹے راستوں کے راہی ہو ں تو وہاں نوجوانوں کا ریت کے کسی چمکتے ٹیلے کو پانی سمجھ کر اسکی طرف لپکے جانا بعید ازقیاس نہیں ہے ۔
اگر ریاست کے مجموعی نظام کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے جس ملک کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، جس کاریاستی مذہب اسلام ہے اور جس کی ہر فوجی و سول تقریب میں اس جملے کی مسلسل تکرار کی جارہی ہو کہ پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی جائے گی وہاں حقیقت میں اسلام کے نفاذ کی آج تک کوئی سرکاری کوشش ہی نہیں کی گئی بلکہ ریاست کو سکیولر اور لبرل ریاست بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
اگر معاشرے کا تجزیہ کیا جائے تو معاشرے میں ایسے لوگوں کی ایک واضح اکثریت پائی جاتی ہے جو مغربی سحر میں گرفتار روشن خیالی اور آزاد خالی کے نام پر سرے سے مذہب کے وجود اور باالخصوص اسلام کے وجود کے ہی منکر ہیں یا اسلام سے عدم شناسائی کی وجہ سے اسلام دشمنی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ چنانچہ ریاست کے مجموعی نظام اور افراد کے ان گروہوں نے اسلام کو اپنے ہی ملک میں حالی کی اصطلاح میں غریب الوطن اور اقبال کی اصطلاح میں محبوس کردیا ہے۔
اب ذرا انصاف کا دامن تھام کر فیصلہ کیجئیے کہ اس حالت میں سلام کے ساتھ لگاؤ رکھنے والا شخص اگر کسی غلط تعبیر کا قائل ہو جاتا ہے تو کیا اس میں ہماری خامیوں کا کوئی دخل نہیں ہے؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بڑھتے رجحان کا سدباب کس طرح ممکن ہے؟
دہشت گردی کے خاتمے کی بہترین عملی صورت تو یہ کہ نصاب تعلیم میں اورنظام تعلیم میں تبدیلیاں کی جائیں۔
اسلامیات کے مضمون کو ارسرے نو مرتب کیا جائے، اسلام کی تمام بنیادی تعلیمات، احکام اور اسلام کی تاریخ کوشامل نصاب کیا جائے مثلا جہاد کیا ہے،، اعلان جہاد کا اختیار کس کو حاصل ہے، جہاد کن کن صورتوں میں اور کن کن لوگوں کے خلاف کیا جا سکتا ہے، دوران جہاد کے کیا احکام ہیں، جہاد اور دہشتگردی میں کیا فرق ہے وغیرہ اور اسی طرح دوسرے تمام موضوعات کو بھی اپنے تمام تر لوازمات اور متقاضیات کے ساتھ پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا جائے، اسلام کی تاریخ کو خالص اسلامی اصولوں، عہد خلفاء راشدین اور عہد صحابہ سے بیان کیا جائے اور سلامیات کے مضمون کوتمام درجوں کے طلباء کے لیے لازم کیا جائے، تاکہ نوجوانوں کے اذہان میں اسلام کا صحیح صحیح تصور بھی واضح ہو اور انکے سامنے اسلامی کی حقیقی تعبیر بھی پیش کی جاسکے۔ ملک بھر سے تمام غیر رجسٹر مدارس کو اول تو رجسٹر کیا جائے اور اگر وہ رجسٹریشن کے معیار پر پورا نہیں اترتے تو ایسے تمام مدارس کو بند کر دیا جائے۔
نصاب تعلیم اور مدارس میں یہ اصلاحات دراصل پہلی منزل ہیں جن کا ہم سے وقت اور حالات فوری مطالبہ کر رہے ہیں۔وگرنہ میری رائے میں تعلیم کا بہترین نظام یہ ہے کہ تعلیم کی تمام ذمے داری ریاست پر ہو پرائیوٹ تعلیمی اداروں کا خاتمہ کر دیا جائے
، تعلیمی اداروں کی تقسیم (دینی و عصری) کو ختم کر دیا جائے،
ملک میں ایک ہی جامع تعلیمی نظام رائج ہو جو بیگ وقت عصری بھی ہو اوردینی بھی
یعنی ملک بھر کے سکولوں میں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ وہی ادارے دینی تعلیم بھی فراہم کریں ،
ملک بھر کے ، کالجوں اور جامعات میں عصری تعلیم کے شعبوں کے ساتھ اسلامی تعلیم کے الگ شعبے قائم کیے جائیں، طلباء اپنے شعبوں کا جن میں کے وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہیں اپنی مرضی سے انتخاب کریں لیکن اسلامی شعبوں میں اعلیٰ تعیم حاصل کرنے والے طلباء کو عصری تعلیم کے دیگر ضروری مضامین بھی پڑھائے جائیں اور اسی طرح عصری شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو دینیات کے بنیادی مضامین لازمی پڑھائے جائیں۔
ملک میں عوام اور باالخصوص نوجوانوں کے لیے تربیت کا مناسب بندوبست کیا جائے جسکا انتظام نہ صرف تعلیمی اداروں اور میڈیا میں ہو بلکہ دوسری تقریبات کو بھی اسکا ذریعہ بنایا جائے۔
ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ تو ظاہر ہے کہ ایک دن میں نہیں ہو سکتا لیکن عملا اس جانب اقدامات کیے جاسکتے ہیں اور اپنی نیک نیتی کا اظہار اور کاوشوں سے عوام کو مطمئن کیا جا سکتا ہے۔
نوجوانوں میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے بڑھتے رجحانات کا اگر ٹھیک ٹھیک احساس نہیں کیا جاتا اور اسکے سدباب کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے تو ہم نہ صرف اپنی موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔اگر بروقت عملی اقدامت نہیں کیے جاتے تو وہ نسل جس کے ہاتھوں میں مستقبل میں ملک کی بھاگ جانے والی ہے انکے ہاتھوں میں اسلحہ ہوگا، وہ اذہان جن پر مستقبل میں ملکی فیصلوں کا بھار آنے والا ہے ان اذہان میں دشمن کی چالیں ہوں گی اور وہ کندھے جن پر ملک کے مجموعی نظام کا بوجھ آنے والا ہے ان پر بندوقیں لٹک رہی ہوں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *