این اے 120 کے نتائج کا مختصر تبصرہ

حماد احمد

hamad ahmed

عوام نے ووٹ دیا یہی عوام کر سکتی تھی کلثوم نواز کی جیت ہوگئی ان کو بہت مبارک ہو ، ڈاکٹر یاسمین نے زبردست مقابلہ کر کے پنجاب حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی کہ میاں جی اگلی واری اسمبلی میں حزب اختلاف قائد ہمارا ہوگاتیسرا نمبر سابقہ لشکر طیبہ کو ملا جن کی ساری زندگی جمہوریت کو شیطان کا نظام کہتے گزری چار ہزار کے آس پاس ووٹ لیا جس کیلئے وہ داد کے مستحق ہیں ، داد ہم ضرور دیں گے لیکن پہلے کچھ چیزیں کلئیر ہونی چاہئیں
حامد میر کے بھائی اور پیپلز پارٹی کے امید وار کے مطابق ملی مسلم لیگ نے حکمران جماعت اور پی ٹی آئی سے بھی زیادہ پیسہ لگایا انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اتنا مال کہاں سے آیا ؟ یہ سوال ایک جواب مانگتا ہے -
اور آج ایک ویڈیو بھی دیکھی جس میں ایم ایم ایل  کے کارکنان نے لیگی کیمپ کے سامنے پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے ، اگر یہ والی لیگ اس لئے سیاست میں آئی ہے کہ وہ اس میدان کو واہگہ بارڈر بنائے تو ان کو خواجہ آصف کے وہ تاریخی الفاظ سننے چاہئیں اور اگر ایسا نہیں تو پھر ملی مسلم لیگ کو موقع ملنا چاہئے کہ وہ عوام کی خدمت میں بے شک حصہ لے لیں خدمت تو شریف فیملی کب سے کر رہی ہے کچھ تو اوروں کا بھی حق ہے-پیپلز پارٹی کے فیصل میر نے کہا کہ ترقی پسند سوچ کمزور ہوگئی ہے ، اب ان کو بندہ سندھ کا حال کیا بتائے بس یہی کہیں گے کہ اللہ آپ کے شریک چئیرمین کو ہدایت دے آج بھی انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پیتل آئے تو وہ سونا بن جاتا ہے-پی پی کیلئے مشورہ ہے کہ وہ سندھ پر توجہ دے وہاں کا عام آدمی آج بھی بی بی کے نام پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے خدارا بی بی سے ان کی اس محبت و عقیدت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں -
جماعت اسلامی نے اس بار کافی زبردست کامیابی حاصل کی یعنی مطلب یہ کہ نیچے سے دوسرے نمبر پر آگئی پہلا نمبر خادم حسین رضوی کو ملا،جماعت اسلامی ایک نیک مقصد کیلئے سیاست میں آئی ہے سید مودودی رح کی خواہش تھی کہ جماعت اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق انسانی زندگی کی تعمیر کرے -جہاں تک نظر آ رہا ہے جماعت اسی کوشش میں مصروف بھی دکھائی دیتی ہے ، لیکن کچھ خامیاں ضرور ایسی ہیں جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی سخت ضرورت ہے کہ آپ کے ووٹ گر کیوں رہے ہیں ؟
جماعت کو چاہئے کہ اسٹبلشمنٹ کیلئے وہی نیت رکھے جو اسٹبلشمنٹ کی جماعت اسلامی کیلئے ہے-خیبرپختونخواہ میں جس طرح نہ نظر آنے والی مخلوق نتائج تبدیل کرواتی ہے اس کا اثر ہمیشہ جماعت پر پڑا ہےغالبا مالاکنڈ میں ضمنی انتخابات تھے جب جماعت اسلامی دس ہزار سے اوپر لیڈ کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی کہ سو کالڈ مجاہدین نے خودکش دھماکہ کیا،گنتی روک دی گئی پھر مہینے بعد وہاں سے عوامی نیشنل پارٹی دوبارہ گنتی میں بھاری اکثریت سے جیت گئی-یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اسٹبلشمنٹ کبھی بھی نہیں چاہے گی کہ جماعت اقتدار میں آئے کیونکہ اسٹبلشمنٹ کو ہمیشہ ڈاکو چاہئے ہوتے ہیں لہذا سرحدوں کی حفاظت ان کو کرنے دیں جو اس کی بڑی بڑی تنخواہیں لیتے ہیں۔پھر یہ چند سال پہلے ہی کی تو بات ہے جب سفید کپڑوں میں کچھ لوگ آئے اور ان دو تین حلقوں میں نتائج اس وقت گنتی کرنے والوں کو تھما دئے جب گنتی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی،وہاں سے کون جیتنے والا تھا اور کون جیتا جماعت والوں کیلئے نشانیاں ہیں اس میں۔بہرحال جماعت کے کارکن کو کبھی مایوس نہیں دیکھا اور مایوس ہونا بھی نہیں چاہئے کہ کئی تو ایسی بڑی بڑی جماعتیں ہیں جن کے کے پی اور بلوچستان کے علاوہ کہیں اور وجود ہی نہیں لیکن وہ اسمبلیوں میں موجود ہیں۔
آج جو سب مزے کی چیز دیکھنے کو ملی وہ ہے مریم نواز کی تقریر!
مریم کی تقریر کو اگر ایک جملے میں سمجھائیں تو انہوں نے بس یہی کہا کہ جنرل صاحب آپ تو سرحدوں کے رکھوالے ہیں آپ کو ایوان اقتدار کی راہ کس نے دکھائی ؟مریم کی تقریر میں میاں صاحب کیلئے ایک پیغام ہے یعنی یہ کہ ڈئیر پاپا جمہوریت غیر جمہوری اداروں کے آگے مسلسل لیٹتے رہنے سے نہیں بلکہ عوام کے بیچ آ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اینٹی جمہوریت قوتوں کو اوقات بتانے و سمجھانے سے مضبوط ہوتی ہے۔مریم نواز سے ہم امید رکھتے ہیں کہ مستقبل میں وہ دیگر جماعتوں کے خلاف اپنی وہ سیاہ تاریخ نہیں دہرائیں گی جو ان کے والد صاحب نے اپوزیشن میں رہ کر دپرائی-خدا کرے یہ جمہوریت ایسی ہی چلتی رہے اسی میں عوام کی بھلائی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *