کالا دھن بھارت منتقل کرنے والے 600 پاکستانیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز!

کراچی -پاکستان سے کالے دھن کی دبئی کے ذریعے بھارت منتقلی میں ملوث 600 افراد کیخلاف تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق کرپشن اور غیر قانونی کاروبار سے کمائے گئے اربوں ڈالر کا کالا دھن دبئی منتقل کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے میں ازسرنو تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، غیر قانونی آمدنی سے بیرون ملک ریئل اسٹیٹ کے کاروبارمیں سرمایہ کاری کی گئی۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ معاملہ 2015 میں اس وقت سامنے آیا جب ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ صرف ایک برس کے دوران پاکستان سے 4 ارب ڈالرز سے زائد کی خطیر رقم پہلے دبئی منتقل ہوئی اور اس کے بعد یہ رقم بھارت کے بینک اکائونٹس میں پہنچی۔

ذرائع کے مطابق سیکڑوں افراد نے کالا دھن، ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے دبئی منتقل کیا اور وہاں پر عالیشان فلیٹ اور بنگلے خریدے جبکہ پاکستان میں ان افراد کی اکثریت نے کبھی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ کاروبار کرنے والے 80 فیصد افراد ملک میں ٹیکس نہیں دیتے اور نہ ہی ان کے این ٹی این نمبرز موجود ہیں اور ایف بی آر کی رجسٹریشن بھی نہیں، ان میں سے زیادہ تر سیاستدانوں کے منیجر اور فرنٹ مین ہیں، جو کہ دبئی میں پراپرٹی کی سرمایہ کاری کی آڑ میں بلیک منی منتقل کرتے رہے، ان تحقیقات میں یہ بھی معلوم ہوا کہ سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو کمپنیوں کی جانب سے زیادہ سے زیادہ منافع کا لالچ بھی دیا گیا تھا ، جس میں کمپنیاں کسی اور کی تھیں اور سرمایہ کسی اور کا تھا، یہ رقوم حوالہ اور ہنڈی کے ذریعے منتقل کی گئیں، جبکہ اس کو دبئی میں قانونی بنا کر اس پر مسلسل منافع بھی قانونی بنا دیا گیا۔

مذکورہ کمپنیوں نے 2002 کے بعد سے دبئی میں کام تیز کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ 6 سو کے قریب افراد نے مختلف حوالہ ہنڈی کے ذرائع سے رقم دبئی منتقل کی اور ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں سرمایہ کار ی کی، ان سب کیخلاف تحقیقات کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹھوس شواہد سامنے آنے پر مذکورہ افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت متعدد نوعیت کے مقدمات قائم ہوسکتے ہیں :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *