قبائلی علاقہ جات کے لئے اصلاحات 

asghar khan askari

مسلم لیگ (ن) کی مو جودہ حکومت کو شش کر رہی ہے کہ قبا ئلی علا قہ جات کی آئینی حثیت کا تعین کر یں،مگر افسوس کہ وفاقی حکومت کو اس حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے قبا ئلی علا قہ جات کے لئے اصلا حات کی غرض سے سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی تھی۔کمیٹی نے تمام ایجنسیوں کا دورہ کر نے کے بعد حکومت کو تجویز دی تھی کہ قبائلی علا قہ جات کو خیبر پختون خوا میں شامل کئے جا ئیں۔ساتھ ہی انھوں نے متنا زعہ رواج ایکٹ بھی نا فذ کر نے کی تجویز دی تھی۔یاد رہے کہ رواج ایکٹ تحریری صورت میں مو جود نہیں۔جس کی وجہ سے لوگ اسے ایک اور ایف سی آر کا نام بھی دیتے ہیں۔ظاہر سی بات ہے کہ جس دستا ویز کا تحریری صورت میں مسودہ مو جود نہ ہو اس کا نفاذ کیسے ہو سکتا ہے۔جس دستا ویز کا اپنا کوئی وجود نہیں وہ کسی اور ڈھانچے کے وجود کو کیسے قائم رکھ سکتا ہے ۔سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات کو جب پارلیمنٹ کے سامنا رکھا گیا تو قوم پرست سیاست دان اور موجودہ حکومت کے اتحادی محمود خان اچکزی نے اس کی شدید مخالف کی۔انھوں نے قبائلی علا قہ جات کو خیبر پختوں خوا میں ضم کر نے سے اختلاف کیا۔اسی دوران محمود خان اچکزی نے اسلام آباد میں اپنا جرگہ بھی طلب کیا لیکن انھوں نے قبائلی علا قہ جات کے حوالے سے کوئی تجویز حکومت کو نہیں دی ،صرف حکومتی اصلا حات کی مخالفت کی۔حالانکہ ان کو چا ہئے تھا کہ اپنے بلا ئے گئے جر گے کے زریعے وفاقی حکومت کو قبا ئلی علا قہ جات کے لئے اصلا حا ت تجو یز کر تے۔اسی طر ح مو لانا فضل الرحمان بھی قبا ئلی علاقہ جات کے لئے حکومتی اصلا حات کی مخالفت کر رہے ہیں۔اس کے بر عکس خیبر پختون خوا میں حکمران جماعت تحریک انصاف ، قومی اسمبلی میں سے بڑی اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی،عوامی نیشنل پارٹی،قومی وطن پارٹی اور مسلم لیگ (ق)حکومت سے مطا لبہ کر رہی ہے کہ فاٹا کو خیبر پختون خوا میں ضم کیا جائے۔قبا ئلی علا قہ جات جو کہ گزشتہ کئی عشروں سے وارزون ہے۔عملا اس کا انتظام گز شتہ کئی سالوں سے فوج کے پاس ہے۔فوج بھی اس تجویز کی حمایت کررہی ہے کہ قبائلی علا قہ جات کو خیبر پختون خوا میں ضم ہو نا چا ہئے۔مگر افسوس کہ 70 سال گزرنے کے با وجود ملک کا پارلیمنٹ اور سیاست دان قبائلی علا قہ جات کی آئینی حثیت کا تعین کر نے میں ناکام ہے۔لیکن اس سے بھی افسوس ناک بات یہ ہے کہ محمود خان اچکزی جیسا پشتون قوم پر ست رہنما اب اصلا حات کی راہ میں روکاٹ ہے ،مگر قبا ئلی علا قہ جات کے ساتھ زیادتی کا یہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد سے ابھی تک جاری ہے۔ہو نا تو یہ چا ہئے تھا کہ جب 1973 ء کا آئین تشکیل کے مر حلے میں تھاتو پشتون قوم پر ست رہنماؤں کو اس وقت کی حکومت کو مجبو ر کرنا چا ہئے تھا کہ وہ قبائلی علا قوں کوخیبر پختون خوا میں شامل کر تے یا ان کو الگ حثیت دی جا تی،لیکن بو جہ پشتون قوم پر ست بر وقت ایسا کر نے میں ناکام رہے۔حالانکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک علا قے کی کسی ملک کی پارلیمنٹ میں نما ئندگی ہو،لیکن اسی ریاست کا دستور ان علا قوں میں نافذالعمل نہ ہو؟یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک فرد کسی پارلیمنٹ کا رکن ہو ۔وہ پورے ملک کے لئے قانون سازی کر سکتا ہو،لیکن جس حلقے کے عوام نے ووٹ دے کر ان کو منتخب کیا ہے وہاں کے لئے وہ قانون سازی نہیں کر سکتا ہو۔لیکن قبا ئلی علا قہ جات کے ساتھ مو جودہ دستور میں پشتون قوم پرست رہنماؤں کی بھر پور موجو دگی میں یہ سنگین مذاق کیا گیا۔پیپلز پارٹی کی گز شتہ حکومت نے بھی اصلا حات کے نام پر قبائلی عوام کو لولی پاپ دیاتھا۔سابق صدر آصف علی زرداری نے فاٹا میں سیاسی جماعتوں کو کام کر نے کی اجازت دی اور اسی ایک ترمیم کو اصلا حات کا نام دیا۔پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کا فاٹا میں نفاذ کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ ملک کے دوسرے حصوں کی طر ح وہاں کے عوامی نما ئندے بھی ٹکٹ کے لئے سیاسی جماعتوں کے محتاج ہو اور پھر پارلیمنٹ میں بھی وہ پارٹی پالیسی کا ساتھ دینے کا پابند ہو۔بہر حال اب مو جودہ حکومت نے قبائلی علاقوں کو خیبر پختون خوا میں ضم کرنے کا فیصلہ مو خر کردیا ہے،جبکہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار فا ٹا تک وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔وفاقی حکومت کا یہ فیصلہ بھی اسی طر ح کا مذاق ہے جس طر ح 1973 ء میں کیا گیا تھا یا بالکل اسی طر ح کی حماقت ہے جو پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کر چکی ہے۔مو جودہ حکومت کی اپنی کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ قبا ئلی علاقوں کو خیبر پختون خوا میں ضم کیا جائے۔وہاں کے عوام کی ایک بڑی تعداد بھی اس تجویز کی حا می ہیں۔ پارلیمنٹ میں مو جود فاٹا کے ارکان میں سے بھی بعض اس کی تا ئید کر تی ہے۔پارلیمنٹ میں مو جود اپوزیشن کی بڑی پارٹیاں بھی اس پر رضا مند ہے۔تو پھر صرف سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائر اختیارکو کیوں فاٹا تک وسعت دی جارہی ہے۔حا لانکہ قبائلی عوام کا مطا لبہ ہے کہ وہاں پر بلدیاتی انتخابات ہوں اور ان کو خیبر پختون خوا اسمبلی میں نما ئند گی دی جائے۔وہاں پر آئین پاکستان کو اسی طرح نا فذ کیا جائے جس طر ح ملک کے دوسرے صوبوں میں نافذ ہے۔حکومت کو چا ہئے کہ وہ سنجیدگی سے فاٹا اصلاحات کے لئے کام کریں۔ اس لئے کہ انتخابات سر پر ہے۔تا خیر سے حلقہ بند یوں میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہے۔وفاقی حکومت اگر اس تجویز سے اتفاق کر تی ہے کہ قبا ئلی علاقوں کو خیبر پختون خوا میں ضم ہو نا چا ہئے،تو ضروری ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں ہم خیال جما عتوں پیپلز پارٹی،تحریک انصاف،جماعت اسلامی،عوامی نیشنل پارٹی ،قومی وطن پارٹی اور فاٹا کے وہ ارکان جو اس تجویز سے اتفاق کر تے ہیں ان سے مشاورت کریں۔ فوری طورپر فاٹا کو خیبر پختون خوا میں شا مل کریں اور پورے دستور کو وہاں پر نا فذ کریں تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوں۔ اس کے برعکس اگر وفاقی حکومت صرف چند اداروں کے دائر کار کو وسعت دے کر اس کو اصلاحات کا نام دیتی ہے تو یہ فاٹا کے عوام کے ساتھ سراسر ظلم اور زیادتی ہے۔اس لئے کہ 1973 ء کا دستور ایک متفقہ دستا ویز ہے۔پورے ملک کے عوام کی حقوق کا ضامن ہے۔جب فاٹا بھی پاکستان کا حصہ ہے تو پھر اسی دستور کے بعض دفعات کو کیوں وہاں پر نا فذ کر نے کی با تیں ہو رہی ہیں پورے آئین کو وہاں نا فذ کیوں نہیں کیا جا تا۔1973 ء کے آئین کے ہوتے ہوئے فاٹا کو کسی اور ایکٹ یا رواج کی کوئی ضرورت نہیں اس لئے کہ یہی آئین تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ دستاویز ہے۔پارلیمنٹ سے منظور شدہ ہے ۔یہی دستور پورے ملک کے عوام کے لئے رائج رواج ہے لہذا فاٹا کے عوام کے لئے بھی یہی رواج نافذ ہونا چا ہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *