حماس نے فلسطین میں اپنی حکومت تحلیل کردی ، پارلیمانی انتخابات کرانے کا فیصلہ

حماس کی جانب سے جاری بیان میں تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ عام انتخابات کروانے اور مصر کی دعوت پر فتح تحریک کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہے تا کہ 2011 کے قاہرہ معاہدے پر عمل درامد کا طریقہ کار طے ہو سکے۔ تنظیم نے قومی یک جہتی کی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے بھی اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔حماس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلے مصری کوششوں کے مثبت جواب کے طور پر سامنے آئے ہیں کیوں کہ مصر مصالحت کو یقینی بنانے اور فلسطینی صفوں میں خلیج ختم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔یاد رہے کہ حماس ، فتح اور بقیہ فلسطینی گروپوں کے درمیان مصری سرپرستی میں طے پائے جانے والے قاہرہ معاہدے کا متن قومی یک جہتی کی حکومت تشکیل دینے ، صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے کروانے اور تنظیم آزادیِ فلسطین کی قومی کونسل کے انتخابات کروانے کے علاوہ سکیورٹی اداروں کے ڈھانچوں کی از سر نو تشکیل کا تقاضہ کرتا ہے۔ادھر قاہرہ میں بات چیت سے مطلع ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ "مصر اتوار کے روز قاہرہ میں موجود حماس اور فتح تنظیموں کے وفود کے ساتھ ملاقاتوں کے نتائج کے حوالے سے ایک بیان جاری کرے گا اور فلسطینیوں کے بیچ باہمی مصالحت کو یقینی بنانے کے واسطے مذاکرات کے آغاز کا اعلان بھی کرے گا"۔حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی سربراہی میں تنظیم کا ایک وفد تقریبا ایک ہفتہ قبل قاہرہ پہنچا تھا۔ وفد کی مصری جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ خالد فوزی کے ساتھ بات چیت ہوئی جب کہ فتح تحریک کے رہ نما عزام الاحمد کی قیادت میں ایک وفد نے ہفتے کی شام مصری ذمے داران کے ساتھ ملاقات کی۔واضح رہے کہ غزہ پٹی میں حماس کی حکومت کے تقریبا 40 ہزار شہری اور عسکری ملازمین کی فلسطینی اتھارٹی کی حکومت میں کھپت اور سکیورٹی اداروں کا معاملہ ان اہم ترین مسائل میں سے ہیں جن کے نتیجے میں فتح اور حماس کے درمیان مصالحت کی کوششیں متعدد بار ناکامی سے دوچار ہو چکی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *