نواز شریف کی جیت

tariq ahmed
نواز شریف کی جیت اس حوالے سے شاندار ہے کہ مسلم لیگ ن نے تمام دیکھی ان دیکھی قوتوں کے خلاف یہ الیکشن لڑا۔ عمران خان نے اسے عدلیہ بمقابلہ ن لیگ ریفرنڈم بنا دیا تھا۔ حلقے کے ووٹرز کو عمران خان کی اپنی آواز میں موبائل فون پیغامات گئے کہ آپ عدلیہ کی مضبوطی کے لیے پی ٹی آئی کو ووٹ ڈالیں۔ عدلیہ نے بھی کمال مہربانی سے عمران خان کو نہ صرف یہ ریفرنڈم کروانے کی اجازت دی۔ بلکہ الیکشن سے عین قبل نواز شریف کی نظر ثانی کی اپیل مسترد کرکے اپنا وزن ایک بار پھر پی ٹی آئی کے پلڑے میں ڈال دیا تا کہ ن لیگ کے ووٹرز کو نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے مایوس کر دیا جائے ۔ میڈیا پر حولدار اینکرز اور تجزیہ کاروں سے اپنی مرضی کے تبصرے کرواے گئے ۔ حلقے میں موجود کیچڑ جیسے ایشوز کو اچھالا گیا۔ نواز شریف کے خلاف ملک دشمنی کا پروپیگنڈہ کیا گیا۔ "چوئی" نثار سے یہ کہلوایا گیا کہ ن لیگ اداروں سے لڑ رہی ہے اور دشمن قوتوں کا آلہء کار بن رہی ہے۔ نئے مذہبی گھوڑے الیکشن میں اتارے گئے تاکہ ن لیگ کا ووٹ توڑا جا سکے۔ ن لیگ کے بندے غائب کیے گئے ۔  الیکشن ڈے پر غیر محسوس طریقے سے ووٹنگ پروسیس کو سست رکھا گیا۔ یہ شکائتیں سننے کو ملیں کہ شیر کی پرچی والے ووٹرز کو اندر جانے سے روکا گیا۔ یہاں تک کہ یہ ووٹرز پی ٹی آئی کی پرچیاں لے کر ووٹ ڈالنے گئے ۔ پانچ بجتے ھی پولنگ کو بند کر دیا گیا۔ حالانکہ روایت یہ ہے کہ  جو ووٹر پولنگ اسٹیشن کے احاطہ میں موجود ھو۔ اسے ووٹ ڈالنے کی اجازت ھوتی ھے۔ اور جب الیکشن کے نتائج آنا شروع ہوئے تو میڈیا پر عجیب و غریب ٹرینڈ دکھایا گیا۔ یاسمین راشد کی جیت سینکڑوں میں ھوتی جبکہ کلثوم نواز معمولی مارجن پر آگے ھوتیں ۔ ایک سنسنی سی پھیلا دی گئی ۔ پورا حولدار میڈیا اس نقطے پر زور دے رھا تھا۔ کم مارجن کی جیت پی ٹی آئی کی اخلاقی فتح ھو گی۔ اور یہ کہ عدالت کے بعد نواز شریف اپنا مقدمہ عوامی عدالت میں بھی ہار گیا ۔ گویا اسی پروپیگنڈے کے لیے یہ ساری رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تاکہ کم مارجن کی شکست کا بندوبست کیا جا سکے۔ شریف خاندان کی اندرونی سیاست کو بھی اچھالا گیا۔ گویا یہ کہا جا سکتا ھے ۔ ایک طرف اکیلی مریم نواز شریف اور دوسری جانب ہر قسم کی مشکلات اور اداروں کی انا اور عزت و تکریم تھی ۔ لاھور کے لوگوں نے ان تمام مشکلات کو شکست دی۔ اپنے جمہوری ہونے کا ثبوت دیا۔ اپنے ووٹ کی تقدیس کا تحفظ کیا ۔ نواز شریف سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ مریم نواز کی سیاسی لانچنگ کو کامیاب کیا۔ اور عمران خان کی زبان میں عدلیہ اور اس کے فیصلے کو رد کر دیا۔ اور یہ ثابت ھوا۔ باوجود مسلسل منفی پروپیگنڈے اور عدالتی منفی آبزرویشنز کے ، نواز شریف آج بھی مقبول لیڈر ھیں ۔ اس جیت سے نواز شریف کی پاکستان کی سیاست اور اپنی پارٹی اور حکومت پر گرفت قائم رہے گی اور وہ بہتر طریقے سے ووٹ کی حرمت کے اپنے پیغام کا پرچار اور 2018 کے عام الیکشن کی تیاری کر سکیں گے ۔ اس الیکشن میں یہبھی ثابت ہوا کہ مذہبی پارٹیوں کی عوام میں کیا حیثیت ھے۔ خاص طور پر جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی محض میڈیا کی پارٹیاں بن گئی ہیں۔ یہ میڈیا کے بھی سوچنے کی بات ھے۔ وہ دیکھے وہ کہاں کھڑا ہے۔ نواز شریف کے مخالف اس جیت کے مارجن کو لے کر جو مرضی تجزیے کریں۔ لیکن حقیقت ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ فتح سے بڑھ کر کوئی چیز سویٹ نہیں ھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *