انتہاء پسندوں کا میڈیا پروپیگینڈا

سیدفیاض شاہ مشوانی

Image result for ttp women

پاکستانی انتہاء پسند تنظیم نے حال ہی میں عراقی کالعدم تنظیم کے طرز پر خواتین کے استحصال سے اپنی کاروائیوں کو فروغ دینے کے لیے خواتین پر مرکوز ایک پروپیگنڈا میگزین شائع کیا۔تحریک طالبان کے مختلف سابقہ حربوں کی طرح یہ اشاعت بھی ایک سوچی سمجھی چال ہے جسے خواتین کو بہکانے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ انتہاء پسند تنظیم فیس بک،ٹویٹر اور دیگر سماجی ویب سائیٹس پر متحرک تھی مگر خاطر خواہ کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی۔سماجی ذرائع ابلاغ میں ناکامی اور مایوسی کے بعد اب انھوں نے اردو اور انگریزی میں پروپیگنڈا میگزین کا آغاز کیا تاکہ معصوم بچیوں اور خواتین کو جھانسہ دے کر دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جاسکے۔خواتین کے استحصال پر مبنی یہ خصوصی اشاعت ٹی ٹی پی کے مکروہ چہرے کی اصل عکاسی کرتی ہے جو اپنے ناپاک عزائم اور دہشت گردانہ مقاصد کے لیے خواتین کے استعمال کو بھی جہاد سمجھ رہے ہیں۔انسداد دہشت گردی کی حالیہ کاروائیوں میں ہر محاذ پر دہشت گردوں کی شکست نے اب انھیں اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے خواتین کو استعمال کرنے پر مجبور کردیا ہے۔
دہشت گردوں کے حالیہ رجحان کی پیروی کرتے ہوئے خواتین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے انتہاء پسند تنظیم نے عراقی تنظیم کے طرز پر خواتین سے استفادہ حاصل کرنے کی کوشش میں باقاعدہ پروپیگنڈے کا آغاز کیا ہے۔ ان دہشت گرد تنظیموں نے مختلف حکمت عملیوں سے سینکڑوں مسلمان عورتوں کو بہکا کر دہشت گردی کی بھیانک لڑائی میں شامل ہونے پر مجبور کیا جہاں ان کا کام گھریلو انتظام کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کے لیے ایک نئی نسل کی افزائش ہے۔ یہ دہشت گرد گروہ اپنے اثرورسوخ کے علاقوں میں عورتوں کو اغواء کر کے انکی عصمت دری کرتے اور انھیں دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں مگر جب کسی علاقے سے ان کا اختیار ختم ہو جائے تو یہ مختلف حربوں کے ذریعے اپنے دہشت گرد نظریات کو اسلامی انداز میں پیش کر کے عورتوں کو پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔تحریک طالبان پاکستان بھی اب اسی حکمت عملی کے تحت نئی چال چل رہی ہے ۔
اس میگزین میں ایک انتہاء پسند دہشت گرد کی بیوی کا انٹرویو شائع کیا گیاہے جس میں وہ ۴۱ سال کی عمر میں ہونے والی اپنی شادی کا تذکرہ کرتی ہے۔ اس میں اس کی بیوی جس کا نام انٹرویو میں پوشیدہ رکھا گیا ہے نو عمری میں شادی کے فوائد کی وکالت کرتے ہوئے ۴۱ سال کی عمر میں کی گئی اپنی شادی کا دفاع کرتی ہے۔اس کی بیوی نے پاکستان میں نوعمر اورنابالغ بچیوں کی شادیوں کے خلاف منظور ہونے والے حالیہ بل پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر شرعی اور غیر قانونی اقدام قرار دیا۔اس میگزین میں کم عمر نابالغ بچیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے انھیں کے دہشت گردوں کی مدد کے لیے حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔انتہاء پسند نے نوعمر بچیوں کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے پاکستانی انتہاء پسند دہشت گرد کاروائیوں میں عورتوں کے کردار کو تقویت دیتے ہوئے واضح استدعا کی ہے۔ اس اشاعت کے ذریعے ان کا حدف عورتوں کو خودکش حملوں میں استعمال کرناہے۔دراصل یہ دہشت گرد معصوم خواتین کو اپنے والدین کی نافرمانی پر اکساتے ہیں جس کے بعد بدقسمتی سے کچھ بچیاں اپنے والدین کی عزت، وقار اور حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے۔ والدین کی ساری عمر کی قربانیوں پر پانی پھیر کر جہاں اسلامی تعلیمات سے رو گردانی کرتی ہیں وہاں اپنی اور ساری خاندان کی زندگی بھی داو پر لگا دیتی ہیں۔ اس ضمن میں اگر دہشت گرد خوا تین کو بہکانے کی کوشش کریں تو انھیں چاہیے کہ وہ اپنے والدین سے مشاورت کریں تاکہ تباہی سے بچ کر ایک پرسکون زندگی گزار سکیں۔
عراقی کی کالعدم تنظیم اس سے قبل دہشت گردتنظیموں میں عورتوں کے کردار پر ایک مفصل اعلامیہ جاری کرچکی ہے جس میں بچیوں کی ۹ سال کی عمر میں دہشت گرد جنگجووٗں سے شادی کو جائز قراد دے کر مختلف کردار ادا کرنے پر زور دیا گیا ہے۔یہ دستاویز مبالغہ آمیز ہے جو زندگی گزارنے کے اصل شرعی اور انسانی تصور کے بالکل برعکس ہے۔ اپنے دہشت گرد انہ نظریات سے منحرف ہر شخص کے ساتھ یہ غیر انسانی سلوک اختیار کرتے ہیں اور جو عورتیں ان کے جھانسے میں آجائیں ان کا یہ بے جان اشیاء کی طرح بیو پار کرتے اور اپنے جنگجووٗں کو انعام کرتے ہیں۔ ایسی کئی وڈیوز منظر عام پر آئی ہیں جن میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ موصل میں موجود منڈیوں میں انتہاء پسند عورتوں کی خرید و فروخت کرتی ہے اور اس میں اکثریت نو عمر بچیوں کی ہے۔ تمام دہشت گرد گروہ ان منڈیوں میں خرید و فروخت کے لیے جاتے ہیں جہاں ان بچیوں کی التجا اور فریادیں بھی ان پتھر دل دہشت گردوں پر اثر نہیں کرتیں۔ خواتین کو اپنے خوشحال خاندان چھوڑ کر دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے لیے یہ انتہاء پسند تنظیمیں مشہور ہیں۔ بعض خواتین جن جھوٹے وعدوں کی بنیاد پر دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوئی انھیں حقیقت میں ان تنظیموں کا اندرونی ماحول یکسر مختلف ملا جس سے مایوس ہو کر بعض بھاگنے میں کامیاب ہوئی او راکثر ان کے ظلم وجبر میں رہنے پر مجبور ہیں۔ یہ دہشت گرد عورتوں پر مظالم اور انھیں سخت سزا ئیں دینے کے لیے مشہور ہیں۔ان کے مرضی کے لباس نہ پہننے اور معمولی غلطیوں پر یہ دہشت گرد عورتوں کو کوڑوں سے مارتے ہیں۔ ان دہشت گردوں کے ساتھ زندگی گزارنے کی توقع کسی المیہ سے کم نہیں۔ اگر کوئی لڑکی کسی دہشت گرد سے شادی کر لیتی ہے تو بہت جلد ہی اس کی ہلاکت کے بعد اسے ماتم کرنا پڑتا ہے۔ ابھی سوگ پورا نہیں ہوتا کہ اسے کسی دوسرے سے شادی پر مجبور کیا جاتا ہے جہاں اس کی ہلاکت کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ عورت نوحہ گراں ہوتی ہے اور یہ سلسلہ مستقل چلتا رہتا ہے۔خوشحال زندگی کو ترک کر کے ان کے جھانسے میں آنیوالی ان بدنصیب خواتین کی زندگیاں تباہ وبرباد ہوجاتی ہیں اور ان کا کوئی پْرسان حال نہیں ہوتا۔
پاکستان کی مسلح افواج نے ان دہشت گردوں کے خلاف منظم کاروائیوں کا آغاز کر کے ان کے استحکام پر کاری ضرب لگائی ہے۔پاک فوج کی ان کاروائیوں کی وجہ سے دہشت گردوں کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کردی گئی جس کے بعد انھوں نے مختلف حربوں سے اپنے نظریات کا پرچار کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنا شروع کیا۔انتہاء پسندوں کا یہ ماننا ہے کہ ان ہتھکنڈوں کے ذریعے وہ خواتین کی توجہ حاصل کر کے اپنے تباہ حال نیٹ ورک دوبارہ بحال کرلیں گے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ ٹی ٹی پی اندرونی خلفشار اور فوجی کاروائیوں سے انتہائی کمزور ہوچکی ہے اور اپنی صفوں میں نئی بھرتیوں کے لیے خواتین پر بھی انحصار کر رہی ہے۔پاکستانی عوام سے مایوس یہ دہشت گرد اب معصوم بچیوں کو نشانہ بنا کر گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تمام مسلمانوں کو اس بات سے با خبر رہنا ہوگا یہ دہشت گرد اسلامی تعلیمات کے غلط استعمال سے مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور اب ہر طرف سے ناکام اور مایوس پاکستانی انتہاء پسندں کا داعش کے نقش قدم پر چلتے ہوئے معصوم بچیوں کے استحصال کا سہارا لے رہی ہے۔مسلمان خواتین کو دہشت گردوں کے اس جال سے محفوظ رکھنے اور عام عوام تک ان کی رسائی روکنے کے لیے فوجی ایکشن پلان کا مکمل نفاذجلد اور انتہائی ضروری ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف 2015 میں ایک جامع 20 نکاتی حکمت عملی تیار کی گئی جس کے تحت دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرقہ واریت کو فروغ دینے والے مواد اخباروں اور میگزین کے خلاف سخت کاروائی شروع ہوئی جسے مزید موثر انداز سے بڑھانے کی ضرورت ہے۔تمام مسلمان جو دہشت گردی سے سخت متاثر ہیں ابھی تک انتہا پسندی کے خلاف ایک جامع بیانیہ تیار کرنے میں سست روی کا شکار ہیں۔مسلم دنیا کی نامور شخصیات کو چاہیے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک متحدہ حکمت عملی تیار کریں جیسے پاکستان کے جید علماء اکرام نے ان دہشت گردوں کیخلاف متفقہ فتویٰ جاری کیا۔انتہاء پسندوں کے خلاف پاکستان کے متفقہ بیانیے کے بعد ان کا عوام کے اندر وسیع پیمانے پر نظرانداز ہونا انھیں اب عورتوں تک کا سہارا لینے پر مجبور کر رہا ہے۔ایسی صورتحا ل میں تمام والدین کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی بچیوں اور عورتوں کو اس کی آگاہی فراہم کر کے ان کی حفاظت کے لیے نگرانی کریں تاکہ اپنے پیاروں کو دہشت گردوں کے نشانے اور استحصال سے محفوظ رکھ سکیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *