کراچی کی مردم شماری، خطرے کی گھنٹی 

syed arif mustafa

ایک عجیب سی بے بسی ہے کیونکہ میں چنگاریوں‌ کو شعلوں میں بدلتا محسوس کر رہا ہوں  جو رفتہ رفتہ میرے اور آپکے خرمن کو پھونک ڈالنے کو بیقراری سے آگے بڑھ رہی ہیں ۔۔۔ اسلیئے میں اپنی زبان کو خواہ کتنا ہی روک لوں لیکن یہ کہے بغیر رہا بھی نہیں جاتا کہ ۔۔۔ اے نشہء اقتدار میں بدمست غافلو، اس خاموشی کو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ سمجھو ۔۔۔ اور اچھی طرح سے سمجھ لو کے کراچی کے ساتھ مردم شماری میں کیئے گئے متعصبانہ سلوک کی فوری تلافی کی ازحد ضرورت ہے ، لیکن اگر نہ کی گئی تو پھر بہت کچھ بگڑ جائے گا اور پھر ہم جیسے دیوانے تو 'پاکستان زندہ باد' کا نعرہ لگاتے رہ جائینگے اورفرزانوں کو ملک دشمن قوتوں سے مل کے یہاں اپنا گھناؤنا کھیل کھیلنے کا بھرپور موقع مل جائے گا -

اے سورماؤ ذرا آنکھیں کھول کے تو دیکھو کہ اس رقص وحشت کی شروعات ہوچکی ہے کیونکہ گزشتہ دو ماہ سے الطاف حسین کا لب و لہجہ اب اچانک یکسر تبدیل ہوچکا ہے، وہ شخص جو گزشتہ برس 22 اگست کی زہریلی تقریر کے بعد بھیگی بلی سا بن گیا تھا اب دو ماہ ہوئے کہ اس نے پھر اپنے پنجوں‌ سے ناخن نکال لیئے ہیں اور اب تو وہ پہلے سے بھی زیادہ خونخوار اور گھناؤنے لب و لہجہ میں بھاشن جھاڑنے لگا ہے اوراسکے گلے میں تو پہلے ہی شیطان بولتا تھا لیکن اب تو وہ خود ہی سراسر شیطان بن چکا ہے اور کھل کے افواج پاکستان اور قومی سالمیت کے اداروں پہ تقریری حملے کر رہا ہے اور ملک اور فوج کو منہ بھر بھر کے گالیاں دے رہا ہے ۔۔۔ اور یقینناً یہ سب کچھ بے سبب نہیں ہے ہرگز بے وجہ نہیں آئے ، بس ذرا اسکی پشت پر جھانکنے کی ضرورت ہے-

مجھے یقین ہے کہ الطاف حسین کو اسکی ماں خورشید بیگم نے تو شاید سو ڈیڑھ سو لیٹر سے زائد دودھ نہیں پلایا ہوگا مگر را کے ادارے نے اسکے تن بدن میں اپنے دودھ کے دریا کے دریا بہا دیئے ہیں اور اب یہ دودھ زبردست موجیں‌ مار رہا ہے اور اب تو اس شیطان کے ہاتھ میں مردم شماری کے نتائج کی وہ فہرست بھی ہے کہ جس میں کراچی کو باغ سے کیاری میں بدلنے کی کوشش کی گئی ہے تو وہ اپنے مغربی آقاؤں سے مل کے پاکستان دشمنی اور کراچی کی آزادی کے مذموم ایجنڈے پہ کیو‌ں نہ دوڑے  ۔۔۔ لیکن لگتا یوں ہے کہ ہمارے اہل معاملہ اسکی اس دوڑ کے لیئے ٹریک کی درستگی سے زیادہ کچھ نہیں کررہے۔۔۔ اور یہی وہ زہنیت ہے کہ جو سنپولیوں کو سانپ بننے میں مدد دیتی ہے - یادر کھیئے کہ سانپ گزر جائے گا اور پھر لکیر پیٹنے سے کچھ ہاتھ نہ آئے گا ۔۔۔ خدارا ، مردم شماری کے بلڈوزر سے کراچی کو زمیں بوس کرنے کی حماقت کی تلافی کیجیئے اور احمقانہ دلائل سے اسکا دفاع کرنا بند کردیجیئے کیونکہ اسکے مقابل کہنے اور بتانے کو میرے پاس بھی بہت کچھ ہے لہٰذا کراچی کو کرچی کرچی ہونے سے بچائیے کیونکہ اگر خدانخواستہ ایسا ہوگیا تو کراچی کی ہر کرچی جسد قومی کے وجود کے لیئے نیزے کی انی سے زیادہ مہلک ثابت ہوگی-

یاد رکھیئے کہ جذبات کی آندھی جب چڑھتی ہے تو سب سے پہلے عقل و دانش کو اڑا لے جاتی ہے اور اس موقع پہ دودھ اور سبزی والے سے لے کر یونیورسٹی کے وائس چانسلر تک سب ایک ہی بولی بولنے لگتے ہیں اور ایسے میں دلائل کا طومار باندھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ سننے والے کان جسم کے اندر جا پڑتے ہیں اور منہ پھونکنی بن کے آتش اشتعال بڑھانے کے کاموں میں لگ جاتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ کام اہل نظر کا ہے کہ آنے والے خطرات کا ادراک کریں اور انکے سدباب کے لیئے معاشرے میں آگہی پیدا کریں اور ارباب ختیار کو راہ عمل سجھائیں ۔۔۔ لیکن یہاں بدقستی سے بڑے بڑے معروف اہل نظر بھی زیادہ تریا تو بدنظر ہیں یا اندرون سے نابینا ہیں‌ اور شب و روز اپنے اندر کے اندھیروں کو باہر تقسیم کرنے اور معاشرے میں جہل کی فصل بونے میں مصروف رہتے ہیں اور باقی مصلحت کے کمبل اوڑھے منہ چھپائے رہتے ہیں ۔۔۔ لیکن صحیح اہل نظر اور صاحب دانش وہی ہے کہ جو معاشرے کی کھیتی میں جھاڑ جھنکاڑ کی نمو ہونے نہیں دیتا اور منہ زور جہالت کے سامنے تھک کے بیٹھ نہیں جاتا ۔۔۔ اقوام عالم کی تاریخ میں کئی بار ابتلاء کا طوفان تدبر وتعقل کے پشتوں سے ٹکراکے ہارتا بھی دیکھا گیا ہے لیکن یہ پشتے وہ ہوتے ہیں جو کہ طوفان کی پہلی لہر اٹھنے سے بہت پہلے بنائے جا چکے ہوتے ہیں ورنہ کچے گھروندوں اور کچے بندوں کے نصیب میں تو ڈھ جانے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا - الحزر، الاماں ۔۔۔۔
میں بھی پاکستان ہوں‌ تو بھی پاکستان ہے ،،، لیکن کیا یہ صرف اسکا پاکستان ہے جو صدر پاکستان ہے ،،؟؟


arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *