’’مائی لائف‘‘

yasir pirzada

یہ غالباً1994 کی بات ہے جب میں نے سی -ایس- ایس- کرنے کا ارادہ کیا۔اُس وقت میں نے صرف گریجوایشن کی ہوئی تھی اور ایم- اے- کرنے کی غرض سے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں تازہ تازہ داخل ہوا تھا۔ یونیورسٹی کے پہلے روز میں علی الصبح کیمپس پہنچا تو پتہ چلا کہ ہماری جماعت میں لگ بھگ 45 لڑکیاں اور فقط15لڑکے ہیں۔ یہ جان کر بڑی فرحت ہوئی اور دل میں خیال آیا کہ ایم -اے-کرنے کے دوران لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان پڑھائی میں مقابلے کا رجحان رہے گا جو یقیناً ایک صحت مندانہ علمی سر گرمی ہے لیکن نہ جانے کیوں میرا یہ خیال بالکل غلط نکلا! ایم - اے- میں مقابلہ تو ضرور ہوا مگر صرف لڑکوں کے درمیان، لیکن ظاہر ہے وہ مقابلہ نصابی تعلیم کا نہیں بلکہ غیر نصابی سر گرمیوں کا تھا، ایسی سر گرمیوں کو میں انگریزی میں"Anti Social Activities" کہتا ہوں!!!
سی -ایس -ایس -کی تیاری کے متعلق بہت سی ہوشربا کہانیاں مشہور تھیں اور وہ سب کی سب میں نے بھی سن رکھی تھیں۔مثلاً یہ کہ امیدوار روزانہ قائد اعظم لائبریری جائے اور وہاں پانچ چھ گھنٹے کتابوں میں غرق ہوکر گذارے‘گھر میں باقاعدگی سے ’’ٹائم‘‘ اور ’’نیوزویک‘‘آتا ہو‘ہر وقت ‘ ہر کسی سے انگریزی میں گفتگو کی جائے حتیٰ کہ دودھ لیتے وقت گوالے سے بھی انگریزی میں ہی بات کی جائے۔ ان دنوں اِسی قسم کے قصے سنانے کے ایک ماہر پروفیسر صاحب گھر تشریف لائے اورمیرے والدین کے سامنے ایک گھنٹہ کی پرمغز تقریر کرنے کے بعد یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ اگر آپ کا بیٹا زندگی میں سی -ایس -ایس -نہ کر سکا تو پھر اس کے مقدر میں سوائے رسوائی کے اور کچھ نہیں۔جو بات حقیقتاً ان کے دل میں تھی مگر وہ زبان پر نہ لا سکے غالباً یہ تھی کہ اگر میں مقابلے کا امتحان پاس کر کے افسر نہ بنا تو پھر یقیناً خودکش بمبار بن جاؤں گا۔ پروفیسر صاحب نے ایک امیدوار کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اِس بھلے شخص نے دو سال تک سی -ایس -ایس -کی تیاری یوں کی کہ اُس نے آسمان ہی نہیں دیکھا‘ گھر والے اُس کے کمرے کے باہر ناشتہ اور کھانا رکھ جاتے جسے وہ دروازے کی جھری میں سے اندر کھسکا لیتا اور پھر خالی ٹرے واپس رکھ کر دوبارہ پڑھائی میں گم ہوجاتا۔پروفیسر صاحب کے مطابق اُس امیدوار نے بالآخر تیسری attempt میں سی -ایس -ایس -کر لیا تھا۔میں نے پروفیسر صاحب کی بات بہت غور سے سنی اور پھر مؤدب لہجے میں جواب دیا کہ ’’سر! میرے جیسے بندے کے لیے اِس قسم کی تیاری کرنا ممکن نہیں۔‘‘ پروفیسر صاحب نے خشمگیں نگاہوں سے پہلے میری طرف دیکھا اور دوسری نگاہ میرے والدین پر ڈال کر یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ ’’سوری!آپ کا بیٹا سی -ایس -ایس -کا اہل نہیں، بہتر ہو گا اسے کسی کالج میں پروفیسر کروا دیں!‘‘
وہ صاحب تو یہ کہہ کر چلے گئے لیکن میں نے تہیہ کر لیا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو سی -ایس -ایس -کرنا ہے اور وہ بھی ’’نارمل‘‘ رہتے ہوئے۔یہی سوچ کر ایک دن میں نے پہلا قدم اٹھایا اور قائد اعظم لائبریری چلا گیا۔ابھی میں لائبریری کے دروازے پر ہی پہنچا تھا کہ مجھے دو نوجوانوں کی آواز سنائی دی جو آپس میں کچھ اس قسم کی گفتگو کر رہے تھے:
’’یار ! تم نے ساؤتھ ایشیا اور مڈل ایسٹ کور کرلیا ہے؟‘‘
’’ہاں! اب میں نے عرب‘ اسرائیل conflict پر ایک امریکی سکالر کی کتاب پڑھنی ہے ، باقی تیاری مکمل ہے۔‘‘
’’میرا بھی ارادہ آج امریکن ہسٹری ختم کرنے کا ہے‘ اُس کے بعد یورپین ہسٹری کی طرف آؤں گا۔‘‘
’’Its good that you are catching up! ‘‘
ابھی میں نے اتنی ہی گفتگو سنی تھی کہ الٹے پاؤں واپس ہولیا کیونکہ مجھ میں مزیدسننے کی تاب نہیں تھی۔اس کے بعد میں نے سی -ایس -ایس -کی تیاری کیسے کی‘ یہ ایک لمبی کہانی ہے تاہم مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میں نے لگ بھگ تین ماہ اس امتحان کی تیاری کی ‘ جس دوران میں نے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے یونیورسٹی کے کرکٹ میچ بھی کھیلے‘بسنت بھی منائی اور جوانی کی کچھ یادیں بھی سمیٹیں۔جب نتیجہ آیا تو میں پورے پاکستان میں 78 ویں نمبر پر تھا اور سب سے کم عمر میں سی -ایس -ایس -کرنے کا اعزاز حاصل کر چکا تھا۔ان پروفیسر صاحب کے علاوہ ایک اور شخص کوبھی اس نتیجہ پر بے حد حیرانی ہوئی اور وہ خود میں تھا!!
صحافت‘ مشاعرہ بازی اورفلم میکنگ ‘ تین ایسے شعبے ہیں جن کی لت ایک دفعہ پڑ جائے تو بقول غالب’’چھٹی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘‘ والا حساب ہوجاتاہے۔میرے کیس میں یہ مصرع صحافت پر صادق آتاہے۔گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کرنے کے بعد جب میرے پاس ایک سال فارغ تھا تووالد صاحب نے مجھے روزنامہ’’دی نیشن‘‘ میں بطور رپورٹر’’بھرتی‘‘ کروادیا۔’’دی نیشن‘‘ کے رپورٹنگ سیکشن نے میرے ساتھ وہی سلوک کیا جو عام طور پر پی-ایم-اے -کاکول اکیڈمی میں رنگروٹوں سے کیا جاتاہے یعنی انہوں نے مجھے کرائم کی beat دے دی۔اب میں اس انگریزی اخبار کاکرائم رپورٹر تھا، روز کا معمول یہ ہوگیا کہ میں صبح گیارہ بجے دفتر آتا اورپھر وہاں سے سیدھا مُردہ خانے چلا جاتا‘ چند لاشوں کا دیدار کرنے کے بعد اُن کی ’’خبر گیری‘‘ کے لیے نکل کھڑا ہوتا۔کبھی ایک لاش کی سٹوری شاہدرہ ٹاؤن سے ملتی تو دوسری کی کوٹ لکھپت سے‘ کسی کو ناجائز تعلقات کے شعبے میں قتل کیا ہوتا اور کسی نے اس لیے جان دی ہوتی کہ اس کے ناجائز تعلقات قائم نہ ہوسکے۔مُردہ خانے کا آخری چکررات ایک بجے لگتا ،جب مُردے بھی سو چکے ہوتے اور اُس کے بعدمیں گھر کی راہ لیتا۔اِس تمام ترتھکا دینے والی روٹین کے باوجوداگلے روز میں بالکل تازہ دم ہوکر اُٹھتا اور نئے مُردوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا۔صحافت کی اِس لت نے ’’نیشن‘‘ چھوڑنے کے بعد بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑا لہذا اپنے شوق کی تکمیل کے لیے میں نے روزنامہ’’نوائے وقت‘‘ میں ’’ذرا ہٹ کے ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھنا شروع کر دیئے ۔ کالموں کے اِس سلسلے میں باقاعدگی تب آئی جب2006 سے میں نے روزنامہ ’’ جنگ‘‘ میں ہفتہ وار لکھنا شروع کیا اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔

آج جب میں کرائم رپورٹنگ ، سی -ایس -ایس- اور کالم نگاری کے اپنے تجربے پر نظر ڈالتا ہوں تو ان تینوں میں سے اب بھی مجھے کرائم رپورٹنگ کا دور بہت یاد آتا ہے جس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ ان دنوں میں فقط 19 سال کا ہوا کرتا تھا اور ۔۔۔ دوسری وجہ بھی یہی ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب مردہ خانے میں جا کر لاشوں کو دیکھنے میں بھی excitement محسوس ہوتی ہے۔ اس عمر میں انسان 120کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی موٹر سائیکل چلائے تو یوں لگتا ہے جیسے آہستہ ہی جا رہا ہے۔ تاہم زندگی اب بھی تقریباً ویسی ہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ آج میں موٹر سائیکل کی جگہ، کار تیز رفتاری سے چلاتا ہوں اور مردہ خانے میں لاشیں دیکھنے کی بجائے ٹی وی کی خبروں میں دیکھ لیتا ہوں لیکن یہ لاشیں آج سے پندرہ سال قبل کی لاشوں سے بہت مختلف ہیں کیونکہ ان دنوں کوئی بھی ’’ ڈرون حملوں‘‘ میں نہیں مارا جاتا تھا!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *