یہ خسارہ یوں پورا ہونے والا نہیں

khalid mehmood rasool

ٌ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ کہ بدلے میں اگلے ملک سے کیا رعایت مانگیں۔ ہمارے پاس ٹیکسٹائلز ، چاول اور لیدر کے سوا اور کوئی قابل ذکر آئٹم ایکسپورٹ کے لئے ہے ہی نہیں۔ اس کے بعد گھوم پھر کے کینو ، آم اور دیگر فروٹ سبزیوں پر بات آ جاتی ہے۔ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے لئے دوسرے ملکوں سے مذاکرات کرتے ہوئے ہمارے پاس برآمدی اشیاء کی آپشنز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ٌ یہ کامرس منسٹری کے ایک سینئر افسر تھے جو آسٹریلیا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے لئے ابتدائی مذاکرات کر کے لوٹے تھے۔یہ ڈھاکہ میں آج سے چھ سات سال قبل کی ایک کانفرنس کا ذکر ہے جس میں پاکستان ، بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش ممالک کے کامرس وزارتوں اور نجی شعبے کے نمائندے شریک تھے۔ رات کو ڈنر کے دوران بھارت کے عالمی تجارت کے مذاکرات کاروں سے گپ شپ کے بعد ہم اپنی وزارت کے اس سینئر افسر سے یہ پوچھنے بیٹھ گئے کہ پاکستان کو فری ٹریڈ ایگریمنٹس سے کیوں فائدہ نہیں ہو پا رہا ؟ اور یہ کہ بھارت کے برعکس پاکستان نئے FTA's کے معاملے میں سست روی کا شکار کیوں ہے؟ ان سوالوں کے جواب میں ان کا تبصرہ ہمیں لاجواب سا کر گیا بلکہ ان کی کہی ہوئی بات آج بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہے۔
پاکستان کی برآمدات میں گذشتہ چار سال سے مسلسل کمی ہوئی یا جمود طاری رہا۔ 2012 میں چوبیس ارب ڈالر کی برآمدات کا حجم گذشتہ سال بمشکل بیس ارب ڈالر رہا۔ تجارتی خسارہ برآمدات سے ڈیڑھ گنا سے زیادہ رہا۔ برآمدات میں مسلسل کمی کی وجہ سے حکومت پر تنقید ہوتی رہی۔ چند ماہ سے پاک چین ایف ٹی اے پر جائزہ مذاکرات ہو رہے ہیں، بلکہ ان مذاکرات کا آٹھواں دور گذشتہ ہفتے چین میں مکمل ہوا۔ اس دوران حکومت کی جانب سے نئے FTA's پر چند ممالک سے مذاکرات کو برآمدات میں اضافے کے لئے انقلابی تبدیلی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، یوں کہ شاید اِدھر یہ FTA's ہوئے اْدھر برآمدات کا ساکت گھوڑا بگٹٹ بھاگ اٹھے گا۔ وزارت تجارت میں نئے وفاقی وزیر ملک پرویز سے قبل نئے سیکریٹری کامرس اور انکے ساتھ نئے ایڈیشنل سیکریٹری کامرس نے چارج سنبھالا تو گرتی ہوئی برآمدات کا ملبہ ان کی پیشوائی کو موجود تھا۔ ایسے میں برآمدات کے گرتے رجحان کو الٹانے کے لئے جو اقدامات تجویز کئے گئے ان میں نئے FTA's کا ذکر خیر بھی شامل تھا۔ ترکی، تھائی لینڈ اور گلف ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ سے بھی مذاکرات کی نوید سنائی گئی۔ ایران کے ساتھ تیرہ سال قبل طے پانے والے PTA کو از سرِ نو متحرک کرنے کا پلان بھی سننے میں آیا۔
نیو ورلڈ ٹریڈ آرڈر کے تحت ملکوں کے مابین انفرادی ، علاقائی یا بین الاقوامی معاہدوں کی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان نے سری لنکا کے ساتھ 2005 میں آزادانہ تجارت کا معاہدہ کیا۔ یہ FTA انتہائی عجلت میں علاقائی سیاسی مصلحت کے تحت کیا گیا کیونکہ بھارت نے سری لنکا کے ساتھ FTA کر لیا تھا۔ دو سال بعد پاکستان نے ملایشیاء اور چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کے معاہدے کئے۔ سری لنکا کے ساتھ تجارتی توازن پاکستان کے حق میں ہے لیکن ملائشیاء کے ساتھ گذشتہ سال تجارتی خسارہ آٹھ سو ملین ڈالرز کے لگ بھگ رہا۔ چین کے ساتھ مجموعی تجارت میں تیزی سے اضافہ ہوا لیکن اس تجارت میں پاکستان کو مسلسل بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ پاکستان کی چین کے ساتھ 2006-7 میں چار ارب ڈالرز کی تجارت گذشتہ سال سولہ ارب ڈالرز تک جا پہنچی لیکن ا س کے ساتھ ہی چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ تین ارب ڈالرز سے بڑھ کر گذشتہ سال 12.7 ارب ڈالرز ہو گیا۔ پاکستان کی کل درآمدات کا چھتیس فی صد اب صرف چین ہی سے درآمد ہوتا ہے۔ یوں چین کے ساتھ FTA کے بعد پاکستان کی برآمدات بڑھنے کے تمام دعوے خسارے کی دھول میں گم ہو گئے۔
اب ایک بار پھر نئے FTA's کو ایک معرکتہ الآراء نسخے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے اب تک کے FTA's کی تفصیل بیان ہو چکی۔ اب ایک اور طبق روشن کرنے والا انکشاف۔ گذشتہ ہفتے سینیٹ کی تجارت و ٹیکسٹائلز کے لئے قائمہ کمیٹی کے ممبر سلیم مانڈوی والا نے اس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف کیا کہ تجارتی خسارے کے علاوہ ایک اور پریشان کن مسئلہ انڈ ر انوائسنگ کا ہے۔ ان کے بقول اندر انوائسنگ کا حجم پانچ ارب ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ یوں اگر تجارتی خسارے اور اندر انوائسنگ کے اعداد کو جمع کر لیں تو چین کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ عملاٌ سترہ ارب ڈالرز سے بھی زائد ہے۔ یاد رہے کہ یہ اس FTA کا مآل ہے جس کے تحت چین اور پاکستان نے اپنی دانست میں بہت نرم سہولیات طے کی تھیں۔ لہذٰا ہمیں اس نئے عزم سے ڈر سا لگتا ہے کہ اس بار نئے FTA's میں ایسا کیا نیا ہو گا کہ نتیجہ مختلف ہو سکے گا !
اندر انوائسنگ کے توڑ کے لئے درآمدی قیمتوں کو پرکھنے کے لئے پی پی پی کی دوسری حکومت کے دور میں ایس جی ایس اور کوٹیکنا کی خدمات حاصل کی گئیں۔ یہ دونوں دنیا کی بڑی اور اپنے فیلڈ میں مہارت کی حامل کمپنیاں ہیں، ان کی موجودگی میں کمرشل و دیگر درآمد کنندگان کو انڈ ر انوائسنگ کرنی مشکل ہو گئی۔ اس لئے انہوں نے اس نظام کے خلاف خوب شور شرابا مچایا۔ ان کی خوبی ء تقدیر کہ ان دونوں کمپنیوں کے کنٹریکٹ دئے جانے پر اس وقت کی حکومت پر بھاری بھر کم رشوت لینے کا الزام سامنے آ گیا۔ احتساب اور مقدمات کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ان کمپنیوں کے ساتھ معاہدے ختم ہو گئے۔ یوں ایک قابل قدر فیصلہ سیاست اور کرپشن کی نذر ہو گیا۔ وہ دن اور آج کا دن، امپورٹرز کے وارے نیارے ہیں۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چئیرمین شبلی فراز نے انتہائی کم حاضری والے اس اجلاس میں آزادانہ تجارتی معاہدوں کی فعالیت پر ایک دلچسپ رائے دی۔ ان کے خیال میں اب تک کئے گئے FTA's اور PTA's تجارتی عدم توازن اور انڈر انوائسنگ کی وجہ سے ملک کئے حق میں نہیں رہے ۔ انہوں نے ذکر کیا کہ اسی لئے انہوں نے ایک تحریک پیش کر رکھی ہے کہ ان تجارتی معاہدوں کو سینیٹ کے ذریعے منظور کیا جائے۔ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے اس اجلاس میں تجویز کیا کہ حکومت کو چاہئے کہ ان معاہدوں کے مذاکرات کے لئے وزارت کے علاو ہ باہر سے بھی ماہرین کی خدمات حاصل کرے تاکہ مذاکراتی عمل میں فریقین کے درمیان بقول ان کے Win Win Situation ممکن ہو سکے۔ سلیم ماندوی والا سابق وزیر بھی ہیں اور ایک منجھے ہوئے کاروباری بھی۔ ہمیں ان کی اس تجویز پر حیرت بھی ہوئی اور ایک جھٹکا بھی لگا۔ عالمی تجارت کے معاہدوں کی مذاکراتی صلاحیت ایک ماہرانہ ہنر ہے۔ عالمی تجارت میں سرگرم تمام ممالک اپنے کل وقتی ماہرین اور بیوروکریسی کو اس ہنر میں مزید طاق کرنے کے لئے ان کے لئے مزید تعلیم، کورسز، ٹریننگ اور حساس عہدوں پر تجربے کا اہتمام کرتے ہیں ۔ ہمیں مختلف کانفرنسوں میں بھارت ، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے Trade Negotiators سے ملنے کا کئی بار اتفاق ہوا۔ ان کی مہارت اور صلاحیتیں انتہائی اعلیٰ معیار کی تھیں۔ اس پر مستزاد بھارت کے بیشتر Trade Negotiators کو مختلف عالمی اداروں میں بھی عارضی ملازمتوں کا بھی موقع ملتا ہے جس سے ان کی صلاحیتوں اور ہنر میں مزید اضافہ ہو تا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں ایسے ماہرین خال خال ہیں۔ مزید یہ کہ ایسے ماہر مذاکرات کار باہر سے یوں آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں اور نہ ہی حکومت انہیں ایسے طویل اور صبر آزما مذاکرات کے لئے مہنگے پیکیجز پر ایفورڈ کر سکتی ہے۔ پھر اس بات کی کیا گارنٹی کہ ان کے طے کردہ معاہدے ملک کے بہترین مفاد میں ہو ں گے۔
تجارتی مذاکرات کاروں کی مہارت اور ہنر مندی کا معیار اپنی جگہ لیکن اصل مسئلہ وہی ہے جس کی نشاندہی ڈھاکہ میں وزارت تجارت کے اس اعلیٰ افسر نے کی۔ پاکستان کی برآمداتی اشیاء کا کینوس محدود اور ویلیو ایدیشن بہت کم ہے ۔ پاکستان کی کل برآمدات کا تین چوتھائی فقط ٹیکسٹائلز، چاول اور چمڑے اور چمڑے کی مصنوعات پر مشتمل ہے جبکہ دنیا کی تجارت میں مشینری، اسٹیل پروڈکٹس، الیکٹریکل، الیکٹرونکس، کیمیکلز، ٹرانسپورٹ، بحری و ہوائی جہاز سازی، ٹیلی کمینیکیشنز، آئی ٹی، فارما سیوٹیکلز سمیت ایسے بے شمار پروڈکٹس ہیں جن کا عالمی تجارتی حجم کھربوں ڈالرز میں ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی برآمدی اشیاء کا غالب حصہ خام یا نیم تیار شدہ پر مشتمل ہے ۔ ایسے میں نئے FTA's کی خوش گمانی کیا حاصل کر پائے گی اور باہر سے لئے جانے والے مذاکرات کار کیا تیر مار لیں گے، یہ اندازہ کرنا دشوار نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *