جماعت اسلامی کا گراف کیوں گرتا جا رہا ہے؟

شاہد یوسف خان

shahid yousuf khan

جماعت اسلامی کے بارے کوئی دو رائے تو نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جو بہرحال جماعت کے بھائی بھی تسلیم کریں یا نا کریں وہ یہ کہ جماعت کے لوگ بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ ورنہ  اس الیکشن میں جتنا کارکنان کام کر رہے تھے اگر وہ اپنے خاندانوں  سے بھی ووٹ ھاصل کر لیتے تو نومولود مذہبی جماعتوں سے زیادہ ووٹ حاصل کر سکتے لیکن مجھے تو  لگتا ہے جماعت کے ان کارکنان نے بھی  تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے جو  آج کل جماعت کا حصہ تو ہیں  لیکن جماعت کو کمزور سمجھ کر  کہ جیت تو ویسے بھی ناممکن ہےعمران خان کو انقلابی لیڈر، خمینی، لینن یا ماؤزے تنگ سمجھتے ہیں۔

مذہبی لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ انہیں جماعتوں نے بھی کنفیوژ کیا ہوا ہے جیسا کہ اب اہلحدیث مکتب کو دیکھ لین ایک نے اپنی پارٹی کھڑی کر لی ایک گروہ نے ن لیگ کی حمایت میں اعلان کر دیا دوسرے مسالک کی بھی سیم کنڈیشن ہے،مذہبی لوگوں میں عموماً سیاسی شعور بھی کم ہوتا ہے یہاں عبیداللہ سندھی ، یا ابولکلام آزاد جیسے مذہبی لیڈر تو ہیں نہیں جن کے پیروکار بھی سیاسی طور پر باشعور ہوں ،شاید اسلیے بھی ذیادہ اسکے ہاتھ لگے ہیں -

جماعت کے عام کارکنوں میں بھی باقاعدہ دو دھڑے نظر آتے ہیں ایک کوئی طوفانی انقلابی ٹائپ  ، فوج  اور اسٹیبلشمنٹ کے پلڑے جانے والے  اور ایک کچھ سمجھ بوجھ رکھنے والے، اینٹی ایسٹبلشمنٹ اور آزاد سیاست پر یقین رکھنے والے -

ان مین ایک گروپ ایسا ہے جو عمران کان کو بھی مخلص سمجھتا ہے اور کچھ لوگ مولانا فضل الرحمٰن  کی سیاست کو بہتر سمجھتے ہیں۔ان کی بے حسی یہ ہو چکی ہے کہ جب شکست کی وجوہات  معلوم کرنے کی کوشش کی جائے تو وہی خود ستائشی پروگرام کہ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے ، میدیا ہمارے ساتھ نہیں ہے  اس حلقہ ویسے ہی نواز شریف کا تھا، یہاں جماعت کا ووٹ نہیں ہے اور ہم  لوگ پیسے نہیں لگا سکتے قیمے بریانی نہیں کھلا سکتے تو ہار جاتے ہیں یعنی نہ خود احتسابی، نہ حالات کا حقیقی تجزیہ کرنے کی کوشش بس  کمزوریاں-
اس دھڑے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ یہ وہی باتیں کرتے ہیں  جو تھریک انصاف کے انقلابی کرتے رہتے ہیں یعنی  کچھ لوگوں کو مقدس سمجھنا وغیرہ وغیرہ-

ان دو دھڑوں کی موجودگی اور کفیوژن کی وجہ وہ کسم پرسی کے حالات ہیں جس کا شکار جماعت ہو چکی ہے جب سے ایسٹبلشمنٹ کو نئی چنچل محبوبہ نیازی کی شکل میں ملی ہے ، گلوبل حالات کے بدلنے کے بعد اب انہیں  پرانی سوچ نہیں بلکہ ا نہیں ماڈرن طرز کی سیاست کرنی ہوگی جس کے لیے  سید مودودی ؒ  نے اس جماعت کی بنیاد رکھی تھی ، جس کے ساتھ اسلام، ٹیررزم وغیرہ کی کوئی نشانی نہ لگی ہو ،جماعت اسکے لیے اب بالکل مسفٹ ہے

ان کے پاس اب دو طریقے ہیں ایک محبوب کی نظر کرم کا مرتے دم تک انتظار کیا جائے ،جس نظر کرم کا فلحال دور دور تک کوئی امکان نہیں لیکن شاید کہ گلوبل حالات بدل جائیں-
یا
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اپنی نئی دنیا خود آباد کرنے کی کوشش کی جائے -

کسی اور کے حکم کا انتظار کرنے کا یہ طریقہ جماعت کو مزید تنزلی کی طرف دھکیل رہا ہے کیونکہ  محبوب کی نظریں ہمیشہ ایسے تبدیل ہوتی رہتی ہیں جیسے امریکہ کی۔ مطلب یہ کہ کل امریکہ کے لیے جو مجاہد تھے آج کے وہ دہشت گرد ہیں لیکن ہماری جماعت کا ایک حصہ نوے کی دہائی میں کھڑا ہے جس کی وجہ سے ناکامی ہے۔

دوسرا حصہ بہت ہی حد تک سمجھدار ہے اور ریسرچ پر یقین رکھتا ہے اور اپنی مسلسل ناکامیوں بعد بہت سارے مثبت نتائج اخذ کر لیتا ہے لیکن پہلے طبقے کی  طرف سے  مزید انتطار اور صبر کا کہہ کر ان سب ریسرچ کو دراز میں رکھ دیا جاتا ہے۔

سید مودودی ؒ کے بعد مرحوم طفیل احمدؒ نے  جماعت کو کس قدر منظم رکھا صرف کتابوں سے پڑھا ہے لیکن قاضی حسین احمؒ جیسے بردبار شخص اور سید منور حسن جیسے  کھلے مزاج شخص بھی جماعت کی امارات کے لیے موزوں تھے۔ صبر کرنا ہے تو سراج الحق صاحب  جیسی شکصیت کے ہاتھوں مزید کچھ سال ان کی امارات میں گزارے جائیں ۔ بلاشبہ وہ نیک دل، سادہ اور ایماندر انسان ہیں لیکن موجودہ سیاست کے لیے وہ موزوں  امیر نہیں ہیں ورنہ جماعت اس جمہوری رویے کو برداشت کرے  یا پھر کوئی سراج صاحب کو موٹی ویٹ کریں کہ جہاں پناہ تُسی گریٹ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ اصل مضمون اسرار احمد خان کا ہے لیکن اس کی زبان آسان کی گئی ہے ۔ طبیعت کی مزید خرابی کے لیے ان کا مضمون مطالعہ کیا جائے۔۔۔ شکریہ!

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *