پاکستان کی جیت

farrukh shehbaz waraich

یہ مئی 2002 کی بات ہے ،کچھ کھلاڑی ناشتے کی میز پر تھے اور باقی اپنے کمروں اور ہوٹل لابی میں انتظار کر رہے تھے۔یہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیمیں ہیں جو سٹیڈیم میں سیریز کا دوسرا ٹیسٹ کھیلنے کے لیے تیار ہیں اچانک دھماکے کی آواز آتی ہے تھوڑی ہی دیر میں پتا چلتا ہے کرکٹ ٹیم کے ہوٹل کے باہر ایک خودکش دھماکہ ہوگیا، کھلاڑی ہوٹل میں ہی ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے۔
اس واقعے کے بعد نیوزی لینڈ نے اپنی کرکٹ ٹیم کو اُس وقت فوری طورپر پاکستان سے واپس بلالیا۔یہ حملہ پاکستان کی کرکٹ پر ہی نہیں ،ہمارے امیج پر کاری ضرب تھی۔اس واقعے کا پس منظر اس سے بھی زیادہ اہم تھا یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کا دورہ کرنے والی ٹیم کی حفاظت عرصہء دراز سے موضوعِ گفتگو رہی جبکہ چند ہفتے پہلے ہی میں آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم نے حفاظتی نقطہء نظر سے پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کردیا تھا،ایسے وقت میں یہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح پیغام تھا کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کی حفاظت پاکستان میں ممکن نہیں۔اس سب کے باوجود بیرون ملک سے کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے پلیئرز پاکستان آتے رہے۔ہم دہشت گردی کی لہر سے مقابلہ بھی کر رہے تھے اور کہیں نہ کہیں دنیا میں امیج بھی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔یہ 2009ء ہے سال قبل ممبئی حملوں کی وجہ سے انڈین ٹیم پاکستان آنے سے انکار کر چکی تھی ،سری لنکن کرکٹ ٹیم اور پاکستانی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا دوسرا میچ ہے،3 مارچ، 2009ء کو مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجکر چالیس منٹ پر سری لنکن ٹیم کی بس قذافی سٹیڈیم کی طرف جارہی تھی،
12 مسلح دہشت گرد لبرٹی چوک کے نزدیک قذافی اسٹیڈیم کے راستے میں سری لنکا کی ٹیم کے لئے گھات لگاکر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب سری لنکا کے کھلاڑیوں کی بس وہاں سے گزری تو دہشت گردوں نے بس پر فائرنگ شروع کردی حفاظت پر مامور پولیس نے جوابی فائرنگ کی۔ اس کارروائی میں پانچ پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے، 20 منٹ کی شدید فائرنگ کے بعد دہشت گرد وہاں سے فرار ہوگئے اور راکٹ لانچرز اور دستی بم وہیں چھوڑ گئے۔ مسلح افراد نے پہلے بس کے پہیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور پھر بس اور اس میں سوار لوگوں پر فائرنگ شروع کی۔ حملہ آوروں نے بس پر ایک راکٹ بھی فائر کیا جوکہ خطا ہوگیا اور قریب ہی بجلی کے کھمبے پر لگا۔ بس کے ڈرائیور مہر محمد خلیل نے بس نہیں روکی اور پانچ سو میٹر کے فاصلے سے ڈرائیونگ کرتا رہا، یہاں تک کہ بس اسٹیڈیم میں پہنچ گئی۔ یہ دوسرا شدید حملہ تھا اس مرتبہ دہشت گردوں کا وار اتنا گہرا گھاؤ لگائے اس کا اندازہ نہیں تھا،اس حملے نے بین الاقوامی طور پر ہماری ساکھ کو ٹھیک ٹھاک شاک لگایا،غیر ملکی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان آنے سے انکار کردیا،حالات اس قدر خراب ہوں گے اور حملے کا اثر اتنے سال رہے گا جی ہاں پورے 8سال لگے شرپسندوں کے داغ مٹاتے مٹاتے،یہ 2017 ء ہے ،لاہور کا قذافی سٹیڈیم ہے چاروں طرف روشنیاں ہی روشنیاں ہیں،پاکستان زندہ باد کے نعرے فضاء میں وقفے وقفے سے بلند ہورہے ہیں،یہ وہی اسٹیڈیم ہے جہاں سری لنکن ٹیم کے آخری میچ سے قبل لبرٹی چوک پر شرپسند عناصر کی جانب سے دہشت گردانہ حملہ کیا گیا تھا، اس سنگین واقعے نے جہاں قوم کو لرزا دیا وہیں یہ قوم اس حملے کا 8سال بعد جواب دے رہی ہے وہ بھی سچے جذبے کے ہتھیار سے،فضاء میں بلند ہوتی آوازیں بتا رہی ہیں یہ قوم کھیل کے میدان کی ہی نہیں دوسرے میدانوں کی بھی چیمپئین ہے۔یہ قوم اپنے ملک سے،اپنے کھیل سے،اپنے ہیروز سے جنون کی حد تک پیار کرتی ہے۔ ایک طویل عرصے بعد شائقین کرکٹ کی دلی مراد بر آئی ہے۔ یقیناً اس کامیابی پر قانون نافذ کرنے والے ادارے خاص طور پرلاہور پولیس نے سی سی پی او امین وینس کی سربراہی میں جس طرح سے اس ایونٹ کی سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیے وہ لائق تحسین ہیں۔آج انھی اداروں کی کاوشوں کے باعث پاکستانی قوم کو یہ خوشیاں دیکھنی نصیب ہوئیں۔
Related imageپاکستان اور ورلڈ الیون کے مابین آزادی کپ سیریز کے میچ کے لیے قذافی اسٹیڈیم کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا، گراؤنڈ کے آہنی دروازے پر کھلاڑیوں کی تصویروں والے بل بورڈز بھی لگائے گئے تھے، شہر میں بھی مختلف مقامات پر خیر مقدمی بینرز اور بل بورڈز آویزاں کیے گئے تھے،آزادی کپ سیریز کے میچ دیکھنے کے لیے پرجوش شائقین جوق در جوق قذافی اسٹیڈیم آئے، انھیں پارکنگ پوائنٹ سے اسٹیڈیم تک لانے کے لیے چلائی گئی 38 مفت ایئرکنڈیشنڈ بسوں کے ذریعے پارکنگ ایریا سے انٹری پوائنٹس تک پہنچایا گیا، نہ صرف اسٹیڈیم بلکہ لاہور بھر میں ٹریفک مسائل کے باوجود جشن کا سماں تھا۔اس میگا ایونٹ کے انتظامی معاملات کمشنر لاہور عبداللہ سنبل اور ڈی سی او لاہور سمیر احمدخود دیکھ رہے تھے،یہ بھی مشاہدے میں آیا کہ وہ لمحہ با لمحہ خود رپورٹ لے رہے تھے یہی وجہ تھی کہ اداروں کے مابینمثالی کوارڈینیشن کے باعث حالات اور انتظامات ٹھیک رہے۔ایک کریڈٹ جو وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کو نہ دینا زیادتی ہوگی انھوں نے ایک مثالی ٹیم بنادی ہے جس نے بڑی جانفشانی سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں،وزیراعلی بیرون ملک ہونے ہونے کے باوجود ٹیم کے ساتھ رابطے میں رہے جس سے ٹیم کا مورال اپ رہا۔یاد رہے کم و بیش یہ وہی افسران کی ٹیم ہے جنھوں نے پی ایس ایل جیسا اہم ایونٹ کروایا تھا،اب آزادی کپ کے شاندار انعقاد پر تمام محکمے اور سینکڑوں اہلکار مبارکباد کے مستحق ہیں۔
ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کیے جاسکتے تھے بہرحال یہ ایسا موقع تھاجس پر معمولی تکلیفیں نظرانداز کی جاسکتی ہیں،ٹریفک کی مشکلات میں سے گزر کر پہنچنے والے شائقین کو ٹریفک پولیس کی جانب سے پھول پیش کئے جاتے تھے یہ ایک اچھی روایت تھی جو پہلی بار دیکھنے میں آئی۔ پاکستانی شائقین کے جوش نے ورلڈ الیون میں شامل مہمان کرکٹرز کا دل بھی موہ لیا، غیر ملکی کھلاڑیوں نے پاکستان کو کھیلوں کے حوالے سے محفوظ ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی کرکٹ کے دلدادہ ہیں، یہاں کے لوگ کرکٹ سے بہت زیادہ لگاؤ رکھتے ہیں۔پاکستانی عوام میں کرکٹ کیلئے بے انتہاجوش وجذبہ اور محبت ہے۔
کھلاڑیوں کی حفاظت اور ایونٹ کو مکمل پرامن بنانے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، واقفان حال بتاتے ہیں سیکورٹی انتظامات کو ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف خود مانیٹر کر رہے تھے جن کی قابلیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
گراؤنڈز کے اندر اور باہر پاک فوج اور رینجرز کے اہلکار ڈیوٹی پر تھے،ٹیموں کو سخت سیکیورٹی حصار میں ہوٹل سے اسٹیڈیم تک لایا گیا، کرکٹرز کی آمد سے قبل روٹ کی سخت چیکنگ کی گئی اور ہزاروں پولیس اہلکار تعینات رہے،ایس ایس پی ایڈمن رانا ایاز سلیم،ایس پی سیکورٹی عبادت نثارسمیت بے شمار نام ایسے ہیں جن کی دن رات کوششوں کے نتیجے یہ سب ممکن ہوا۔سٹیڈیم کی سیکورٹی کی بھاری ذمہ داری ایس پی مستنصر فیروز پر تھی جو انھوں نے مہارت سے نبھائی۔ تماشائیوں کو اسٹیڈیم میں داخلے سے قبل 4 جگہ میٹل ڈیٹیکٹرز سے چیکنگ کروانا پڑی۔ جس
طرح سیکیورٹی کے انتظامات لاہور میں کیے گئے ہیں ویسے ہی دیگر شہروں میں بھی ہوسکتے ہیں۔اسی طرز کے مزید میچز کا انعقاد کروا نا چاہیے اورکامیابی کے سفر کو مزید آگے بڑھنا چاہیے۔چئیرمین پی سی بی نجم سیٹھی کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے اتنا کم ہے آج پاکستان میں نہ صرف کرکٹ بلکہ خوشی بھی دوبارہ لوٹ آئی ہے ویلڈن نجم سیٹھی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *