​محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی کیوں؟

khalid zahid
مسلمانوں کی تاریخ میں انگنت ایسے ستارے ہیں جو کہ آج بھی اسی طرح سے جگمگا رہے ہیں جیسے وہ اپنے دورِ اقتدار یا اختیار میں روشنی کا منباء بنے ہوئے تھے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں کو اس وقت بہت تکلیف ہوتی ہے جب وہ موجود حالات کا موازنہ تاریخ کے ا وراق میں رقم تحریروں سے کرتے ہیں۔ حالات تو کبھی بھی اچھے نہیں رہے بس کبھی کبھی زیادہ خراب ہوجاتے ہیں۔
بوسینیا، چیچنیا ، فلسطین، کشمیر پر نظر ڈالیجئے پھر لیبیا ، مصر، اردن اور شام کی طرف بھی دیکھ لیجئے ہر طرف سے دبی دبی سی آہیں اور سسکیوں کی آوازیں سنائی دینگی۔ ان ممالک میں مسلمانوں کا بہیمانہ قتل عام کیا گیا اور کیا جا رہا ہے ۔ آجکل کے حالات اور خصوصی طور پر برما میں ہونے والے سفاکانہ ظلم کی نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے جہاں قتل ہونے کیلئے صرف مسلمان ہونا ضروری ہے عمر اور صنف کی کوئی قید نہیں ہے۔ قتل بھی اتنی بے دردی سے کئے جا رہے ہیں کہ موت کو بھی دکھ ہوتا ہوگا۔
آج امتِ مسلمہ دنیا میں راندھائے درگاہ ہے جس کی اہم ترین وجہ امت کا امت نا ہونا ہے۔ یہ بات تو سب ہی سمجھ آتی ہے کہ بٹ جانے میں قوت نہیں رہتی طاقت نہیں رہتی اور ہم بٹتے ہی جارہے ہیں۔ ہمیں ہمارے اسلاف کی روایات کا منکر ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے میں زندگی کی آسائشوں کا طوق ہماری گردنوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ لکھنے والوں کی تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے ہم بھی ان لکھنے والوں کا حصہ ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی تعداد کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج نا قلم دوات کی ضرورت ہے اور نا ہی کسی کے پیچھے بھاگنے کی ، آپ بہت سکون سے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر لکھئیے ۔ لکھنے والے فلمی دنیا میں ہونے والے واقعات پر قلم درازی کرتے ہیں اور اندر سے اندر کی بات کو باہر لانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ کوئی کھیلوں کی دنیا پر اپنا رنگ جمانے کی کوشش کر رہے ہیں۔غرض یہ کہ آج لکھنے والے بغیر خاک چھانے خاک نشین کہلوانے پر تلے ہوئے ہیں۔ عملی دنیا کہ تکازے کچھ اور ہیں عملی دنیا میں زندگی بہت کٹھن ہوتی جا رہی ہے ۔ ایک ایک پل گزارنا بھاری پڑ رہا ہے ۔موجودہ حالات سے نمٹنے کیلئے لکھنے والے اور شائد گھروں میں بیٹھے حالات سے غمزدہ اور اپنے طرف بڑھتے ہوئے برے وقت کو محسوس کرنے والے محمد بن قاسم اور سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے سپاہ سالاروں کو مدد کیلئے پکار رہے ہیں۔
سوچنے والی بات یہ ہے کہ مذکورہ سطور میں جن بڑے سپاہ گروں کا تذکرہ کیا ہے وہ کسی ٹھنڈے کمرے کے شوقین نہیں تھے اور نا ہی کسی گداز بستر پر رات بسر کرنے کے خواہش مند ہوا کرتے تھے۔ یہ لوگ فقط تلوار زنی میں ہی مہارت نہیں رکھتے تھے بلکہ جہاں دیدہ بھی تھے سلطان صلاح الدین کا کہنا تھا کہ جب حکمران اپنی جان کی حفاظت کو ترجیح دینے لگیں تووہ ملک و قوم کی حفاظت کے قابل نہیں رہتے ۔ آج دنیا میں جتنے بھی اسلامی ممالک ہیں سب کے سربراہان اپنی اپنی حفاظت کی فکر میں رہتے ہیں اور سب کو چھوڑ دیجئے ملک خداداد پاکستان تو ہم سب کی آنکھوں کے سامنے ہے حکمرانوں کی حفاظت کیلئے عوام کی جان و مال بھی داؤ پر لگا دئیے جاتے ہیں۔
محمد بن قاسم اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو مدد کیلئے بلانے والوں کے سامنے ایک سوال رکھنا چاہتا ہوں اور وہ یہ کہ کیا آج کی دنیا میں محمد بن قاسم اور صلاح الدین ایوبی دہشت گرد نہیں کہلائینگے اور انکو مدد کو پکارنے والے انکو دہشت گرد قرار دینے والوں کے ہمنواء بنتے دیکھائی دینگے۔ اپنی سالمیت اور اہمیت کا احاطہ کر لیجئے پھر کسی کو مدد کیلئے پکارئیے تو زیادہ بہتر ہوگا اگر کوئی مدد کیلئے پہنچ جائے اور آپ بھی کوفہ والوں کی طرح ان کی جانب سے منہ موڑ لیں تو پھر سمجھ لو کہ کیا ہوگا۔ دوسری اور اہم ترین بات یہ ہے کہ کیا محمد بن قاسم اور سلطان صلاح الدین ہم جیسے نہیں تھے؟ وہ بھی ہماری طرح کے بشر ہی تھے مگر انہیں زندگی کی حقیقت سے آگہی ہوگئی تھی وہ سمجھ چکے تھے کہ زندگی فقط زندہ رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنی اس فانی زندگی کے بعددنیا کا یاد رکھنا اہم اور حقیقت ہے۔
ہم اپنے آپ کو اس کبوتر کی طرح سمجھتے ہیں جو آنکھیں بند کرلینے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ بلی اسے نہیں دیکھ رہی۔ اپنی آنکھیں کھولیں اور دنیا کو اپنے عملی کردار سے سمجھادیں کہ ہماری آنکھیں سوتے میں بھی کھلی رہتی ہیں۔ جنرل اسمبلی کا اجلاس امریکہ میں جاری ہے پاکستان کے وزیر اعظم جناب شاہد خاقان عباسی صاحب شرکت کیلئے پہنچ چکے ہیں دنیا کے دیگر ممالک کہ سربراہان بھی اس اجلاس میں شرکت کیلئے ایک چھت کے نیچے جمع ہونگے ۔ اللہ کسی مسلمان حکمران کو بس اتنی سی ہمت دے دے کہ وہ امت کی افادیت کا تذکرہ کردے ۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے یہ تذکرہ دنیا کے حکمرانوں کو اپنا اپنا قبلہ درست کرنے کیلئے کافی ہوگا۔ لیکن سب سے اہم بات تو یہ ہے کہ اللہ رب العزت اتنی ہمت کس کو دینگے اور کون صلاح الدین ایوبی بن کر ابھریگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *