خان صاحب نے گل لالہ کو میسج کیا تھا لیکن غلطی سے گلالئی کو چلا گیا، فاروق ستار

Image result for farooq sattar

خان صاحب نے گل لالہ کو میسج کیا تھا مگر گلالئی کو چلا گیا، اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر پی ٹی آئی سے بات چیت جاری ہے ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے مزاحیہ انداز میں یہ جملہ کہا، انہوں نے کہا ہے کہ کوئی ہمیں حلوہ نہ سمجھے ، 2018 میں ایم کیو ایم پاکستان اصل دھمال ڈالے گی اور سب دیکھیں گے ، ہم مڈل کلاس کا انقلاب برپا کریں گے ، سنا ہے ہمارا ایم پی اے اپنی راہ چھوڑ کر ادھر چلا گیا ہے ، وکٹیں گرانے کی بات ہو رہی ہے ، وہ ایک وکٹ گرائیں گے ہم ہزار کھڑی کردیں گے ، سب برابر کے پاکستانی ہیں، اسلام آباد کے لوگوں کو پاکستان بچانے کے لئے کراچی آنا ہو گا ، ملک میں تبدیلی ووٹ ڈالنے سے آئے گی ، پی ٹی آئی کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر رابطے جاری ہیں ، خان صاحب نے گل لالا کو میسج کیا تھا مگر گلالئی کو چلا گیا ۔ پیرکو وفاقی اردو یونیورسٹی میں آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام کارنیول سے خطاب کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ کراچی والوں کو اب جلد ان کا حق ملنے والا ہے سندھ سے کوٹہ سسٹم کا ہر صورت خاتمہ کرکے رہیں گے ، ہم بجلی کی کمی کا خاتمہ کر سکتے ہیں ، ایم کیو ایم پاکستان کی وجہ سے سی پیک منصوبہ شروع ہوا اور اگر ایسا مزید رہا تو کراچی میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھائیں گے ۔ ا نہوں نے کہا کہ 2018 میں ایم کیو ایم پاکستان اصل دھمال کرے گی اور سب دیکھیں گے ، کوئی ہمیں حلوہ اور ہلکا نہ سمجھے ، آج بھی پاکستان بنانے اور بچانے کا چیلنج ہے تاہم اسلام آباد کے لوگوں کو پاکستان بچانے کے لئے کراچی آنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ سب برابر کے پاکستانی ہیں ، پاکستان میں تبدیلی ووٹ ڈالنے سے آئے گی، جب عام آدمی ووٹ ڈالے گا، ایک وڈیرا پیپلز پارٹی میں ہے ، وہی (ن) لیگ اور اب پی ٹی آئی میں ہے ، ایسے تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ جو وکٹیں گرا رہے ہیں، ہم 1000 وکٹیں کھڑی کریں گے ، پی ایس پی کی جانب سے پیکیجز دیے جا رہے ہیں، کوئی بھی چیز جو دبائو کے ذریعے ہو وہ دیر پا نہیں ہوتی ، لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ سے ایم کیو ایم پاکستان تھی، ہے اور رہے گی۔ ہماری آبادیوں پر سینسس کے ذریعے فیملی پلاننگ کرائی جا رہی ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *