رتی جناح اور محمد علی جناح کی شادی کی کہانی

jinnah n rattiماہ جون کے اوائل میں ، اس سے پہلے کہ بارشیں جل تھل کا سماں پید ا کر تیں اور سڑکوں سے گزرنا محال ہوتا ۔۔۔ ممبئی کے امراء اور صاحب ثروت افراد ، سیرو تفریح کے بعد اپنے اپنے عالیشان گھروں کو لوٹ آئے ۔ انہی میں رتی پیٹٹ (Petit)، ان کی فیملی ، اور محمد علی جناح ؒ بھی شامل تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ محمد علی جناح ؒ اور رتی کے دلچسپ اور غیر روایتی رومانس کی داستان ممبئی کے تمام حلقوں میں گردش کرنے لگی ۔ یہاں تک کہ پندرہ روز بعد ممبئی میں وارد ہونے والے ایک نوجوان نے بھی ایک محفل میں ان دونوں کی محبت کے چرچے سن لیے۔ یہ نوجوان 24سالہ کا نجی دوار کا داس تھا جسے ممبئی پر یذ یڈ نسی ایسوسی ایشن کی ایک میٹنگ کے دوران قائد اعظم محمد علی جناحؒ سے تعارف حاصل ہوا۔ اس سے پہلے وہ ممبئی کے مقتد ر حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں سن چکا تھا کہ عموماََ بردبار اور محتاط نظر آنے والے قائد اعظم محمدعلی جناحؒ ان دنوں خلافِ معمول بہت خوشگوار موڈ میں ہیں ۔ تاہم محمد علی جناح ؒ کے مسرور ہونے کی وجہ نوجوان کو ایسوسی ایشن کی میٹنگ کے بعد معلوم ہوئی ۔ وجہ دراصل یہ تھی کہ محمد علی جناح ؒ نے گرمیوں کی تعطیلات کے دوماہ دار جلنگ میں سر ڈ نشا اور لیڈی پیٹٹ کے ہمراہ گزارے تھے اور اس دوران وہ ان کی سولہ سالہ حسین و جمیل بیٹی رتی پیٹٹ کی محبت میں گرفتار ہوگئے تھے ۔ جوں ہی وہ اوائل جون میں ممبئی واپس آئے ، پورے ممبئی میں ان دونوں کی جلد متوقع شادی کے چرچے پھیل گئے ۔ تاہم رتی کے والدین کو یہ بات پسند نہیں تھی کہ ان کی بیٹی کسی مسلمان سے شادی کرے ۔ رتی گو کہ اس وقت قانونی اعتبار سے نابالغ تھیں لیکن محمد علی جناح ؒ سے شادی کے معاملے میں ان کا فیصلہ اٹل تھا۔
کا نجی اپنے حلقے کے ہر نوجوان کی مانند ، طالب علمی کے دور سے ہی دل ہی میں رتی کی پرستش کرتا تھا۔ دوسال پہلے کی ایک سروسہ پہر کو اس نے پہلی بار ممبئی کے رستے پر رتی کی ایک جھلک دیکھی تھی جو ایک چھوٹی سی خوبصورت بگھی میں بیٹھی وہاں سے گزررہی تھی ۔ تب وہ اس 14سالہ حسینہ پر سے اپنی نظر نہیں ہٹا سکا تھا۔۔۔ اور اس وقت تک بگھی اور اس کی حسین مسافر کو تکتا رہاتھا ، جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی ۔ اس کے بعد وہ رتی کا چہرہ بھلا نہیں پایا تھا۔ پھر جب اس نے تین ماہ بعدایک اخبار میں رتی کی تصویر دیکھی ، تب اسے معلوم ہو ا کہ وہ کون تھی ۔ جہاں تک قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا تعلق تھا تو وہ اُنہیں ایک معروف سیاسی لیڈر کی حیثیت سے جانتا تھا۔ تاہم پہلے کبھی ان سے ملا نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب کانجی نے سلیقے سے بنائے گئے بالوں ،نفاست سے تراشی گئی مونچھوں ، چیک ٹراؤزر اور سیاہ کوٹ میں ملبوس ایک شخص کو دیکھا جو انتہائی اعتماد کے ساتھ میٹنگ سے خطاب کر رہاتھا اور جسے ہر ایک انتہائی توجہ سے سن رہا تھا تو اس نے اپنے برابر بیٹھے شخص سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ یہ متاثر کن شخصیت کون تھی ۔۔۔تو اس شخص نے بے ساختہ کہا ۔’’ کیا تم محمد علی جناح ؒ کو نہیں جانتے ؟‘‘
قائد اعظم محمد علی جناح ؒ جو بہت بُردبار اور خوددار سمجھے جاتے تھے ، اس معاملے میں سر ڈنشا کی ناراضی بھی ان کی وارفتگی شوق کو کم کرنے میں کامیاب نہ ہوپائی ۔ دنیا محمد علی جناحؒ کو جانتی تھی ، یہ اس کے برعکس ان کا ایک روپ تھا ۔ اس سے پہلے کبھی انہیں کسی عورت میں دلچسپی لیتے نہیں پایا گیا تھا۔ بالخصوص ایسی لڑکی جو رتی جیسی نوخیز اور پُرکشش ہو ۔وہ بہت کم محفلوں میں شرکت کرتے تھے ، خصوصاََ ایسی پارٹیوں میں جہاں ڈانس اور میوزک ہوتا ، وہاں تو وہ بالکل نہیں جاتے تھے ۔ وہ اکثر محفلوں میں ایک الگ تھلگ گوشہ منتخب کر کے وہاں بیٹھ جاتے اور کسی ایسے شخص کے ساتھ محو گفتگو ہو جاتے جو ان کے واحد شوق ’’ سیاست ‘‘میں ان کی طرح دلچسپی رکھتا ہو لیکن اب وہ ہر اس جگہ پائے جاتے ، جہاں رتی موجود ہوتی ۔ گھڑدوڑ ، پارٹیوں ، یہاں تک کہ فیشن ایبل ولنگڈن کلب میں جہاں ڈانس اور میوزک کے شیدائی جمع ہوتے ۔ وہ لوگوں کی معنی خیز نگاہوں اور سر گوشیوں سے بے نیاز ، بے تکلفی کے ساتھ رتی سے بات چیت کرتے ۔ تاہم ان کا یہ والہانہ پن یکطرفہ نہیں تھا۔ رتی بھی زیادہ وقت ان کے ساتھ رہنا پسند کرتیں اور ایسی والہانہ نظروں سے ان کی جانب دیکھا کرتیں جو سب راز کہہ دیا کرتیں تھیں ۔ وہ دونوں پوری ممبئی میں موضوع گفتگو بن گئے تھے ۔ محمدعلی جناح ؒ کی جرات مندی اور رتی کی بے باکی سب کے لیے گویا مثال بن گئی تھی۔ ممبئی جیسے فیشن ایبل شہر کے امیر طبقے میں یہ واقعہ کو ئی ایسا انوکھا تو نہ تھا ۔۔۔تا ہم ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ممبئی چاہتا تھا کہ ان دونوں کی محبت وقت کی گرد میں دب جانے والی کہانیوں سے ہٹ کر ثابت ہو۔
ممبئی اپنی کاٹن مارکیٹ اور کپڑے کی ملوں کے سبب اس وقت ملک بھر کا امیر ترین شہر ما نا جاتا تھا جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے کا سمو پولیٹن بھی تھا۔ یہاں ملک بھر سے طلبہ اور پروفیشنلز اپنی اپنی قسمت آزمانے آیا کرتے تھے ، اس اعتماد کے ساتھ کہ یہ شہر ان کے لیے اپنے دروازے ضرور وَا کرے گا ۔ یہ ایک متحرک اور ماڈرن شہر تھا جسے اپنے محمد علی جناحؒ جیسے بیٹوں پر نازتھا۔ وہ جب کراچی سے یہاں پہنچے تو ان کی جیب خالی تھی ۔ وہ خوجہ مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک ناکام بزنس مین کے سات بچوں میں سب سے بڑے تھے ۔ ممبئی آنے کے بعد وہ دہائیوں کے اندر اندر محمد علی جناحؒ شمار وہاں کے معروف اور امیر ترین قانون دانوں میں ہونے لگاتھا ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک نمایاں سیاستدان کی حثیت سے پہچانے جاتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ ان کی وجہ شہرت میں ان کی لگژری کاروں اور فیشن ایبل ملبوسات کا بھی بڑا دخل تھا جو نہ صرف کورٹ بلکہ Imperial Legislative Councilمیں ان کی پہچان تھے جہاں وہ تیسری مدت کیلئے منتخب کئے جانے والے تھے ۔ یہی وجوہات تھیں جن کی بناپر بہت سے نوجوان محمد علی جناح ؒ کے نقش پر چلنے کی خواہش رکھتے تھے جبکہ دیگر افراد ان جیسا اعتماد اپنانے کے خواہاں رکھتے تھے ۔ ان حالات میں محمد علی جناح ؒ کی رتی سے شادی کامعاملہ سب کیلئے فوری توجہ اور دلچسپی کو مرکز بن گیا۔
ممبئی کی آزاد خیال اور مخلوط سوسائٹی میں بھی کوئی مذہب کی حد پار کر کے شادی کرنے کو پسند نہیں کرتا تھا۔ وہاں ایسے مرد ضرور تھے جو آکسفورڈ یا کیمبرج سے پڑھ کرآئے تھے اور واپسی پر اپنے ساتھ فرانسیسی یا انگریز بیوی لائے تھے ، ایسا اب تک نہ ہوا تھا، لہذا صرف ممبئی میں ہی نہیں بلکہ ممبئی سے باہر بھی انگریز ی بولنے والے طبقے میں رتی اور جناح ؒ کی متوقع شادی کے بارے میں چہ میگوئیاں جاری تھیں ۔
سروجنی نائیڈو کے بڑے بیٹے جے سوریا نے اپنی بہن پر ماجا کو بنگلور سے ایک خط میں لکھا کہ ’’ مجھے آج خبر ملی ہے کہ ممبئی میں اس بات پرشور برپا ہے کہ رتی پیٹٹ ، محمد علی جناح ؒ سے شادی کرنا چاہتی ہے ۔ ‘‘ جے سوریا کو اس بات سے اختلاف نہیں تھا کہ رتی ایک مسلمان سے شادی کرنا چاہتی تھیں بلکہ اس کے پیش نظر ان دونو ں کی عمروں کا فرق تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جے سوریا نے بنگلور میں اپنے ہاسٹل کے کمرے سے اپنی بہن کو خط میں لکھا کہ ’’ اس کے سر میں کیا احمقانہ سودا سمایا ہے کہ جو اپنے باپ کے برابر شخص کی محبت میں گرفتار ہوگئی ہے ۔ ‘‘
تا ہم جے سوریا کی والدہ سرجنی نائیڈو ان چند افراد میں سے تھیں جو محمد علی جناح ؒ کو قریب سے جانتی تھیں ۔ وہ جناحؒ کی اس قدر مداح تھیں کہ لوگ ان کے بارے میں بھی سمجھتے تھے کہ وہ محمد علی جناح ؒ پر فریفتہ ہیں ۔ ان کیلئے نسبتاََ یہ سمجھنا آسان تھا کہ ایک پُر کشش اور رومانٹک لڑکی جناحؒ کی محبت میں کیونکر گرفتار ہوگئی ۔ جناح ؒ کی شخصیت کے اس خفیہ گو شے کو رتی سے بڑھ کر کوئی دریافت کر نہیں پایا تھا جو محمد علی جناحؒ کو اپنے بچپن سے جانتی تھیں اور اس وقت سے ان کی شخصیت کے سحر میں گرفتار تھیں جب ان کی عمر محض بارہ برس تھی ۔ جناح ؒ ان کے والد سے محض تین سال چھوٹے تھے اور سر ڈنشا کی طرح وہ بھی لباس اور آداب نشست وبرخاست کے معاملے میں مکمل طور سے و کٹورین اندازو اطوار کے حامل تھے ، تاہم ان دونوں کے درمیان موجود یکسانیت کا اختتام یہیں ہوجاتا تھا ۔ کیونکہ دیگر ادھیڑ عمر مردوں کے برعکس ، چھریرے جسم ، باوقار سراپا، سلیقے سے بنائے گئے سیاہ بالوں جن میں کنپٹیوں پر سفیدی جھلک رہی تھی ، تیکھے نقوش پرمشتمل و جیہہ چہرے اور پھر تیلی حرکات و سکنات کے سبب محمد علی جناح ؒ کوکو ئی بوڑھا نہیں کہہ سکتا تھا۔ ان کی شخصیت بھی رتی کی مانند اتنی پُرکشش تھی کہ لوگ اُنہیں سر گھما کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ۔ (جاری ہے )

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *