صرف دُبلی ماڈلز ہی خوبصورت کیوں؟

body shaming 2بہت ہی پتلی مشہور شخصیات ہی کی وجہ سے فیشن ورلڈ مین ایک نئی ٹرم کا اضافہ ہوا اور وہ ٹرم ہے ’’ skinny shaming‘‘۔
مشہور ماڈل جیمی کنگ نے فرانس کی بڑی فیشن کمپنیز LVMH اور Keringکے اوپر الزام لگایا ہے کہ یہ کمپنیز ’’ باڈی شیمنگ‘‘ کی ذمہ دار ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ یہ کمپنیاں گوچی اور لوئی وٹون جیسے برانڈز کے لیے کام کرتی ہیں۔ اسی مہینے کے آغاز میں ان دونوں فیشن گھروں نے سائز زیرو کی ماڈلز پر پابندی لگا دی ہے۔کافی عرصے سے بیمار نظر آنیوالی ماڈلز کی تشہیر اور اُن کے ساتھ ہونیوالے صحت کے مسائل کو لے کر بحث میں رہنے کی وجہ سے اب کمپنیز نے فرانس میں لاگو ہونیوالے نئی اصول کو ماننے کا اعادہ کیا ہے جس کے تحت کسی بھی ماڈل کو ڈاکٹر سرٹیفیکٹ کے بغیر کام نہیں ملے گا۔
جیمی کنگ کا مااننا ہے کہ یہ نا انصافی ہے ۔ جیسے کسی موٹی ماڈل کو کام سے روکنا غلط ہے اسی طرح کسی پتلی ماڈل کو بھی کام سے روکنا اُتنا ہی غلط ہے۔ جیمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے ہی پتلی ہیں یا اُن کے جسم کی ساخت ہی ایسی ہے ۔ وہ بہت کوشش کریں تب بھی موٹی نہیں ہوتیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُن کی تصویریں دیکھ کر لوگ اُن کو برگر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں اور اُن کو عجیب لگتا ہے کہ لوگ اُن کو باڈی شیمنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
باڈی شیمنگ کا مطلب ہوتا ہے کسی کی جسمانی ساخت کو وجہ بنا کر اُس کا مذاق اُڑانا۔جبکہ ایک پتلی ماڈل، جس کو برگر کانے کا مشورہ دیا جارہا ہے، کو درپیش مسائل کو مشکلات کسی موٹی لڑکی کو درپیش مسائل کے آے کچھ نہیں۔مغرب میں کسی کو پتلا کہنا ایک اعزاز کی بات ہے چاہے وہ بہت ہی پتلا کیوں نا ہو، جبکہ کسی کو موٹا کہنا ایسا ہے جیسے اُس کی پوری زندگی پر ہی دھبہ لگ گیا ہو۔سائنس بھی یہی کہتی ہے کہ زیادہ Body Mass Index (BMI) والے لوگوں میں شرح اموات زیادہ ہوتی ہے اور اُن کی صحت کو پیچیدہ مسائل لاحق ہوتے ہیں۔
بی ایم آئی سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی بھی آدمی انڈر ویٹ ہے، یا اوور ویٹ ہے، موٹا ہے یا بہت ہی موٹا ہے۔
جو سچی بات ہے وہ یہ ہے کہ جیمی کنگ کے روزگار کا دارومدار اُن کے جسم پر ہے اور چاہے وہ ایسے جسم کے حصول کی تشہیر کر رہی ہیں جس کو پانا آسان نہیں ، مگر یہ اُن کے کام کا حصّہ ہے۔ اور ایسے لوگ جن کو یہ استحقاق حاصل ہے وہ بھی اس کے فوائد پر زیادہ غور نہیں کرتے۔ یہ صحیح ہے کہ استحقاق کسی کو ذاتی پریشانیوں، مشکلات اور تکلیفوں سے نہیں بچا سکتا ۔ استحقاق کے ساتھ آپ کو زیادہ فوائد اور زیادہ مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
body shaming 4جبکہ دوسری طرف موٹاپہ کسی کے کیرئیر، دولت، اُس کی ذہنی حالت اور رومانوی زندگی سب کو تباہ کر سکتا ہے۔
یو کے میں ہونے والی ایک تحقیق میں اُنہوں نے 100 لوگوں سے مختلف سوال و جواب کیے ۔ اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تقریباََ 45%لوگوں کا ماننا تھا کہ وہ موٹے لوگوں کو نوکری دینے سے کتراتے ہیں جبکہ وجوہات یہ دی گئیں کہ موٹے لوگ اپنا کام صحیح طریقے سے نہیں کر پاتے اور وہ سست بھی ہوتے ہیں۔
برطانیہ کی ایک یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات Stuart W. Flint کی تحقیق کے مطابق موٹی عورتوں کو موٹے مردوں کے مقابلے کم نوکریاں ملتی ہیں۔مالکان کا یہ ماننا ہے کہ موٹی عورتوں کی جسمانی قوت کم ہوتی ہے اور وہ کاہل بھی ہوتی ہیں۔اسی طرح ایک تحقیق کے لیے2009میں ایک پروفیسر نے کسی کمپنی کو جعلی درخواستیں بھیجیں جس میں ایک شخص کو زیادہ موٹا یا پتلا دکھایا۔ اس کیس میں بھی موٹی نظر آنیوالی عورتوں کو انٹرویو کے لیے کم کالز موصول ہوئیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ایک عام رجہان یہ بھی ہے کہ موٹی عورتوں میں قیادت کی خوبی موجود نہیں ہوتی اس لیے اُن کو ترقی ملنے کے مواقع بھی کم ہی حاصل body shaming 3ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ موٹے لوگوں کو ہر وقت یہ دھڑکا بھی لگا رہتا ہے کہ اُن کی نوکری کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔
ایک اور بات جو قابلِ غور ہے وہ یہ کہ موٹے افراد کی یہ مشکلات جوانی میں شروع نہیں ہوتیں بلکہ وہ بچپن سے ہی اس رویے کا شکار ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق یہ بھی کتی ہے کہ بچوں کواُن کے موٹے ساتھی پسند نہیں ہوتے۔ موٹے بچے بچپن میں ہی نفسیاتی مسائل اور اعتماد کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جوانی میں بھی موٹے لوگ جنسی خواہشات میں کمی، اکیلا پن، ساتھیوں کی چھیڑ چھاڑ اور رومانی رشتوں کے فقدان جیسے مسائل میں گھرے نظر آتے ہیں۔اور جب موٹے لوگ ڈیٹنگ شروع کرتے ہیں تو بھی اُن کے زیادہ رشتے محبت سے خالی ہوتے ہیں۔
موٹے افراد کو ہر وقت یہ طعنہ سننا پڑتا ہے کہ وہ ٹھیک نہیں ہیں اور اُنہیں بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہماری فلم یا ڈرامہ انڈسٹری میں بھی موتے لوگوں کو زیادہ تر پاگلوں والے یا پھر کامیڈی کردار ہی دئیے جاتے ہیں۔مگر اب اگلی دفعہ کوئی آپ کو موٹاپے کے لیے مذاق کا نشانہ بنائے تو اُسے بتائیں کہ اب skinny shaming بھی موجود ہے جس میں بہت پتلے بھی اب مذاق کا نشانہ بنسکتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *