عامر لیاقت ... لوٹ کے بدھو گھر کو آئے

syed arif mustafa

ہوس کا انجام فقط رسوائی ۔۔۔ خواہ کسی لبادے میں ہو ۔۔۔ ریا کاری کا حاصل محض خود فریبی ۔۔۔ چاہے کسی بھی ڈھنگ سے ہو ۔۔۔۔ اس سے کم ہرگز نہیں اور زیادہ کی حد کوئی نہیں ۔۔۔ پھر عامر لیاقت جیسا البیلا مکر کا چھیلا ۔۔۔ جو خود کو خبر بنانے کے لیئے ہزاروں جتن کرتا ہے .... اور نت نئے تماشے لگاتا ہے خواہ موقع کوئی بھی ہو ۔۔۔ لیکن ضروری نہیں کہ جذبہ صادق نہ ہونے کے باوجود قدرت ہمیشہ ہی در گزر کردے ۔۔۔ اسکی پرانی عادت ہے کہ جس وقت میڈیا پہ جو چورن بھی بکتا پائے وہ اسی کی برنی اٹھائے بیچنے کو دوڑ پڑتا ہے اور اسی لیئے وہ یہاں‌ اپنی گری پڑی ریٹنگ بڑھانے کے لیئے برما کے لیئے نکل کھڑا ہوا تھا اور میڈیا پہ اپنا بھاشن جھاڑتے ہوئے وہ روہنگیا مظلومین کی حالت زار کو بچشم خود دیکھنے اور ناظرین کو دکھانے کو اپنا عظیم ترین مشن اور زندگی کا بہت بڑامقصد بتاتے نہ تھک رہا تھا ۔۔۔

Related image

لیکن پھر یکدم یہ کیا ہوا کے یہ مداری چند ہی گھنٹوں بعد ٹسوے بہاتا واپس پلٹ آیا ... کہ رہا تھا کے ینگون ( برما ) ایئرپورٹ پہ ہی گرفتار کرلیا گیا اور پھر چند گھنٹے کے بعد اسے پاکستان واپس بھیج دیا گیا ۔۔۔ اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا ۔۔۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی نہایت چھچھور پن سے اپنی آمد کا زبردست ڈھول بجاتا کوئی جائے اور اسے یوں برما ایسا مخالف ملک ایسے اپنے اندر دندناتے پھرنے کی دست بستہ اجازت کا پروانہ تھما دے ۔۔۔ اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ برما یاترا کے نام پہ اصل مقصد محض پبلسٹی حاصل کرنا تھا وگرنہ یوں‌چپ چاپ لوٹ آنے کی راہ چنی ہی کیوں تھی ۔۔۔ ورنہ گرفتار تو اس کے ساتھ اینکر وقار ذکاء بھی ہوا تھا ۔۔۔ جو اب کسی نہ کسی طرح برما کے مظلومین تک پہنچ ہی گیا ہے اور اقرارالحسن تو ان سب سے پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہے اور ان دونوں نے وہاں سے اپنی رپورٹیں بھیجی ہیں تو اگر عامر لیاقت کے دل میں برما کے ان ستم رسیدوں کے لیئے حقیقی ہمدردی ہوتی تو وہ بھی بجائے پلٹ آنے اور اپنے شوز کی دنیا میں واپس گم ہوجانے کے، کسی نہ کسی طرح اس جگہ جاپہنچتا ،،، مگر یہ کام جوکروں اور تماشا بازوں کے بس کا نہیں ۔۔۔ انہیں تو اگر کوئی غرض تھی تو وہ تھی سب سے پہلے پہنچکر اپنی ریٹنگ میں اضافہ کرنے کی ، لیکن جب اسے اس کام میں اقرار الحسن کے بازی لے جانے کی پکی خبریں مل گئیں تو پھر اسے کیا پڑی تھی کہ محض انسانی ہمدردی کا بگھار لگانے کو وہ روہنگیا کی ہنڈیا عمل کے چولہے پہ چڑھاتا اوراپنے لیئے کوئی بڑا خطرہ مول لے بیٹھتا - اور جہانتک یہ بات ہے کہ انہیں کسی غیرقانونی رستہ اختیار کرنے سے کوئی غرض نہیں تھی ،،، تو کوئی ان سے پوچھے کہ وہاں برما میں لاقانونیت کے سوا اور کچھ ہو ہی کیا رہا ہے جو آپ قانون کی کتاب نکال لائے ۔۔۔ بھیڑیوں کے سامنے کونسے ضابطے اور کونسا قانون ،،، ان سے نپٹنے کے لیئے
ویسا ہی چلن اپنانا پڑتا ہے ۔۔۔ لیکن عامر لیاقت کو اصلی ہمدردی ہوتی تو ہی ایسا جذبہ بروئے کار لاتا ۔۔۔ اب خواہ مخواہ نری ریٹنگ کی تماشے بازی میں اپنے جی جان کا زیاں بھلا کیوں‌ کرے
جہان تک بات ہے لوٹ کے بدھو کے گھر آنے کی تو اسے اسکا وسیع تجربہ ہے اور ابھی بول چینل میں یہ بدھو 14 اگست کو اپنے اس بڑھک دار بیان کے دو ہی ہفتے بعد پھر لوٹ کے واپس آچکا ہے کہ جس میں اسنے اپنے پروگرام میں لائیو یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ آئندہ کبھی بول کی اسکرین پہ دکھائی نہیں دے گا ۔۔۔ لیکن ۔۔ لیکن حضرت جی پیر زرداری کے حاشیہ نشین ہیں اور شاید اسی لیئے انکے نزدیک دعوے اور وعدے بھلا دینے اور ہوا میں اڑا دینے کے لیئے ہی تو ہوتے ہیں ورنہ وہ اس سے قبل جیو اور اےآر وائی میں اسی طرح واپسی پہنچ کے اپنا تھوکا خود کیوں چاٹتے ۔۔۔ ثابت ہوا کہ یہ بدھو ایسا بھی بدھو نہیں کہ بغیر بڑے راتب کی امید کے واپس یونہی پلٹ آئے ۔۔۔۔


arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *